وفاقی حکومت کا سالانہ بجٹ قومی اسمبلی سے منظوری کے لئے پیش کیے جانے کے ساتھ ہی اسلام آباد کے متحرک صحافی یہ ’’خبر‘‘ دیناشروع ہوجاتے ہیں کہ مذکورہ بجٹ منظور ہوجانے کے چند ہی دنوں بعد وفاقی کابینہ میں تبدیلیاں رونما ہوں گی۔ چند وزراء کی کارکردگی سے وزیر اعظم خوش نہیں۔ انہیں فارغ کردیا جائے گا۔ اس برس بھی بجٹ تیار ہوتے ہی یہ کہانیاں شروع ہوگئیں۔ عرصہ ہوا پارلیمان روزانہ کی بنیاد پر جانا میں نے چھوڑ رکھا ہے۔ بجٹ اجلاس کے دنوں میں لیکن اپنی شرکت چاہے چند لمحوں ہی کو سہی پریس گیلری میں یقینی بناتا رہا۔ ایک زمانہ تھا کہ اہم وفاقی وزراء پریس گیلری میں مجھ جیسے متحرک رپورٹر کو دیکھ کر اشاروں کی زبان میں ملاقات کی خواہش کا اظہار کیا کرتے تھے۔ وقت ملتے ہی ہم پریس گیلری سے کھسک کر دوسرے فلور چلے جاتے۔ اسمبلی کے سٹاف کو چٹ لکھ کر وفاقی وزیر کو مطلع کرتے کہ ہم موصوف کے چیمبر میں بیٹھ کر ان کا انتظار کریں گے۔ وفاقی وزیر اپنے کمرے میں جلد ہی تشریف لے آتے۔ تخیلے کا حکم دے کر ون آن ون گپ شپ کے ذریعے دل کی بات لبوں پر لے آتے۔
عمران حکومت کے دوران موجودہ دور کے مسلم لیگ (نون) سے تعلق رکھنے والے وزراء ’’ووٹ کو عزت ‘‘دینے میں اتنے مصروف ہوگئے کہ انہیں صحافیوں کی اوقات بھی دریافت ہوگئی۔ ’’طاقت کے اصل سرچشموں‘‘ سے رسم وراہ بحال کرنے کے بعد اپریل 2022ء میں اقتدار میں واپسی کی راہ بنائی۔ تب سے اب تک ان کی حکومت ’’چلی جارہی ہے خدا کے سہارے‘‘۔ دوٹکے کے رپورٹروں سے ذاتی رابطوں کی اب انہیں ضرورت محسوس نہیں ہوتی۔ ٹی وی چینلوں کے ذریعے جب بھی ضرورت ہو براہِ راست عوام سے مخاطب ہوجاتے ہیں۔ صوبائی حکومتیں بھی اپنا ’’بیانیہ‘‘ صوبائی وزراء کی براہِ راست دکھائی پریس گفتگو کے ذریعے عوام کے روبرورکھ دیتی ہیں۔ ایسے حالات میں کسی ایک رپورٹر کے ساتھ ون آن ون ملاقات وقت کے قطعی زیاں کے سوا کچھ بھی نہیں۔ اپنی انا کا بھرم رکھنے کے لئے میں نے لہٰذا وزراء سے براہِ راست رابطے کی تمنا ترک کردی ہے۔ حکومتی معاملات کو محض تماشائی کی نگاہ سے دیکھتا اور اس پر تبصرہ آرائی سے رزق کمانے کی دیہاڑی لگالیتا ہوں۔
وفاقی کابینہ میں ’’وسیع پیمانے پر تبدیلیوں‘‘ کا ذکر ہوتو جھکی ذہن میں پہلا سوال یہ اٹھتا ہے کہ وہ کونسا ہدف تھا جس کا حصول فلاں وزیر کے ذمہ لگایا گیا تھا اور وہ اس کے حصول میں ناکام رہا۔ اس سوال پر سنجیدگی سے غور کروں تو مزید سوال یہ بھی اٹھتا ہے کہ وفاقی حکومت کی کلیدی وزارتوں کو مختلف لوگوں کے سپرد کرنے کیلئے وزیر اعظم کس حد تک ’’خودمختار‘‘ تھے۔
کلیدی وزارتیں تو جو حکومتوں کو بنانے اور بگاڑنے کا سبب ہوتی ہیں ان کا نام لینے کی مجھے ضرورت نہیں۔ ان میں سے دو مالیاتی امور اور امن وامان کے معاملات پر نگاہ رکھتی ہیں اور ان دونوں وزارتوں کے نگہبان مسلم لیگ کی صفوں سے نہیں ابھرے ہیں۔ بنیادی طورپر وہ غیر سیاسی ہیں۔ اورنگزیب صاحب ممتاز اور کامیاب بینکار تھے۔ ملک کو دیوالیہ سے بچانے اور معیشت کی بحالی کے لئے عالمی معیشت کے نگہبان ادارے نے ایک منصوبہ طے کررکھا ہے۔ وزیر خزانہ کو بنیادی طورپر آئی ایم ایف کے دئے منصوبے پر بطور ٹیکنوکریٹ عمل کرنا ہے۔ وزیر اعظم کے دئے کسی حکم کی تعمیل کرتے ہوئے بازار میں رونق نہیں لگانی۔ نظر بظاہر آئی ایم ایف اورنگزیب صاحب کی کارکردگی سے خوش ہے۔ انہیں تبدیل کرنے کا لہٰذا کوئی جواز میسر نہیں۔ میرے متحرک ساتھی مگر مصر ہیں کہ وزارتِ خزانہ میں اسحاق ڈار صاحب کی جان اٹکی ہوئی ہے۔ اسی باعث وہ مذکورہ وزارت کے تحت کام کرنے والی کئی کمیٹیوں کی بطور نائب وزیر اعظم صدارت کرتے ہیں۔ حکومت کے بہی خواہ مگر اصرار کرتے ہیں کہ وزارتِ خزانہ سے جڑے چند امور کا باریک بینی سے جائزہ لیتے ہوئے ڈار صاحب درحقیقت اس امر کو یقینی بناتے ہیں کہ حکومت کی معاشی پالیسیاں مسلم لیگ (نون) کے ووٹ بینک کو زک نہ پہنچائیں۔ اورنگزیب صاحب کے وزیر خزانہ ہوتے ہوئے بھی مسلم لیگ (نون) کا ووٹ بینک لہٰذا محفوظ تصور کیا جارہا ہے اور اگر حقیقت ایسے ہی ہے تو انہیں تبدیل کرنا کیوں ضروری ہے؟
وزیر داخلہ کے بارے میں بھی سرگوشیوں میں بہت کچھ کہا جاتا ہے۔ عرصہ ہوا ان سے ملاقات نہیں ہوئی۔ آخری بار گرم جوش مصافحے کے ساتھ آصف علی زرداری کی بطور صدر حلف برداری کے دن ملاتھا۔ اس سے قبل جب بھی ملا ان کی انکساری اور خاموشی سے متاثر ہوا۔ اسلام آباد تک محدود ہونے کے سبب ان سے روابط گہرے نہ کرپایا۔ ایک زمانے میں لیکن ان کے پیش رو رحمن ملک مرحوم ہوا کرتے تھے۔ میں انہیں اس وقت سے جانتا تھا جب وہ ایف آئی اے کے افسر تھے۔ میری کچھ تحریروں سے ناراض ہوئے اور چند ملاقاتوں کے بعد دریافت کرلیا کہ مجھے محض واہی تباہی بکنے کی عادت ہے۔
2008ء سے 2013ء تک وہ طاقت ور ترین وزیر داخلہ رہے تھے۔ پیپلز پارٹی کے کئی پھنے خان وزراء ان کی عدم دستیابی اورخودمختار رویے سے شاکی رہا کرتے تھے۔ حتیٰ کہ آصف علی زراری کے قریب ترین دوستوں میں سے ایک ڈاکٹر ذوالفقار علی مرزا کو رحمن ملک مرحوم کے رویے کی وجہ سے ڈرامائی پریس کانفرنسوں کے بعد آصف علی زرداری سے دوری اختیار کرنا پڑگئی تھی۔ رحمن ملک مگر اپنے عہدے پر قائم رہے۔ وزارت داخلہ میں ’’کچھ تو ایسا ہے‘‘ کہ جو بھی شخص وہاں بیٹھا ہو ’’مستقل‘‘ ہوا محسوس ہوتا ہے۔ اسلام آباد میں اگرچہ محسن نقوی صاحب کا ’’اگلا سٹیشن‘‘ وزارتِ خارجہ بتایا جارہاہے۔ تین ہفتوں سے روایتی میڈیا اور یوٹیوب صحافت کے ذریعے سنائی یہ خبر مگر ابھی تک روبہ کار نہیں آرہی۔ مزید انتظار کرلیتے ہیں۔
( بشکریہ : نوائے وقت )
فیس بک کمینٹ

