”رفتگان ملتان “ کی اشاعت پر جب بعض دوستوں کی جانب سے مبارکباد کے پیغامات موصول ہوئے توہمیں حیرت ہوئی کہ موت سے بھری ہوئی اس کتاب میں بھلا مبارکباد کی گنجائش کہاں موجودہے۔پھرسوچا ممکن ہے ان دوستوں نے ابھی کتاب کامطالعہ ہی نہ کیاہو ۔جب دوایک احباب نے کتاب کے مطالعے کے بعد بھی ہمیں حوصلہ دینے کی بجائے مبارکبادہی دی توہم تشویش کاشکارہوگئے۔پھرخیال آیا کہ یہ سائبر کادورہے اوراس دور میں جذبے بھی ڈیجیٹل ہوگئے ہیں ۔یہ وہ دور ہے جب فیس بک کی وال نے نوشتہءدیوار کی اہمیت بھی ختم کردی ہے۔یہ وہ دیوارِگریہ ہے جہاں احباب موت کی خبر اور جنازے کی تصویر کوبھی LIKEکرکے آگے بڑھ جاتے ہیں اور شاید اس لیے LIKEکرتے ہیں کہ معاشرے میں ایک دوسرے کو موت کے گھاٹ اتارنا یا زندہ درگورکرنا پسندیدہ عمل بنتا جارہاہے۔ایک ایسے ماحول میں رفتگان ملتان کے ذریعے شہر خالی ہونے کا احوال بیان کرنا ایک بے معنی سی بات لگتی ہے اوراس لیے بے معنی لگتی ہے کہ اس شہر سے لفظوں کے معانی بتانے والے بھی رخصت ہوچکے ہیں۔
”رفتگان ملتان“ موت کاآنکھوں دیکھا حال ہے ۔یہ پانچ ہزار سال پرانے شہر کے ادب وثقافت اورتہذیب و تمدن میں رنگ بھرنے والی چند ہستیوں کا تذکرہ ہے۔یہ میرے عہد کے ملتان کے خالی ہونے کی کہانی ہے۔ملتان ہر دور میں شاعروں،ادیبوں،گلوکاروں،موسیقاروں اور مصوروں سے اسی طرح خالی ہوا ہوگا جیسے میرے سامنے خالی ہوا لیکن اس شہر کا کمال تو یہی ہے کہ یہ خالی ہونے کے باوجود کبھی خالی نہیں ہوا۔شمع ایک بعد دوسری نسل کے ہاتھ میں آئی اور اس نے اپنے رنگ اور اپنے ڈھنگ سے ملتان کو خوبصورت بنایا۔ہم جب اپنے سامنے بھرے پرے شہر سے لوگوں کو رخصت ہوتا دیکھتے ہیں تو گمان کرتے ہیں کہ شاید ان سب کے جانے سے شہر خالی ہورہاہے۔شہر خالی نہیں ہوتا اپنے پیاروںکے رخصت ہونے پر ہم خود اندر سے خالی ہوتے ہیں اور سمجھتے یہ ہیں کہ شاید شہر خالی ہورہاہے۔شہروں میں نئے لوگ نئے خواب لیکر آتے ہیں اور پھر ہماری طرح وہ بھی اپنے خوابوں کی تعبیر کی خواہش میں بے تعبیر ہوجاتے ہیں۔
یہ تمام حقیقتیں اپنی جگہ لیکن میر ے لیے تویہ شہر مسلسل خالی ہورہا ہے۔وہ ہستیاں جواس کتاب میں موجودہیں اوروہ بہت سی ہستیاں جو اس کتاب میں نہیں صرف میرے دل میں موجودہیں میراشہر تو انہی کے دم سے آباد تھا۔ایک ایک کرکے وہ سب رخصت ہوئیں تو شہر بھلے کتنا ہی آباد کیوں نہ ہو میرے لیے تو خالی ہوگیا۔70ءکے عشرے میں جب ہم نے ہوش سنبھالا ملتان اتنا وسیع تو نہیں لیکن بارونق اور آباد بہت زیادہ تھا۔قہوہ خانے ،چائے خانے ،سینما گھر،تھیٹر،کلب،شراب خانے سب آباد تھے۔آبادی کم لیکن عبادت گاہوں میں رونق زیادہ تھی۔کالونیوں ،ٹاﺅنز ،فلائی اوورز اور پلازوں نے ابھی شہر کو بے چہرہ نہیں کیاتھا۔گلی محلوں میں رہنے والے لوگ مکانوں کی طرح ایک دوسرے سے جڑے ہوئے تھے۔وہ خوشی کے موقع پر دل کھول کر ہنستے اور دکھ کے لمحوں میں جی بھر کرروتے تھے۔شہر میں اخبار صرف ایک تھا اس لیے خبریں روزانہ پڑھنے کوملتی تھیں۔ہم گیت بھی روزانہ سنتے تھے کہ شہر میںریڈیواسٹیشن بھی ایک ہی تھا۔اسی عشرے کے اواخر میں جنرل ضیاءکا مارشل لاءآ یا اور ملتان میں کالونی ٹیکسٹائل ملز سے جنازے اٹھنے کا عمل شروع ہوا۔لوگوں نے خوشی کے موقع پر جی بھر کے رونا اور دکھ کے لمحوں میں دل کھول کر ہنسنا شروع کردیاتھا۔شاعروں،ادیبوں ،صحافیوں ،سیاستدانوں اور کامریڈوں میں سے کچھ اپنی ہی ساتھیوں کے مخبر بنے ۔پھانسیوں،کوڑوں،زندانوں اور جلاوطنیوں کے اس دور نے ملتان کی خوبصورتی کوبھی مجروح کردیا۔لیکن یہ عمل اس شہر میں کوئی پہلی بار تو نہ ہوا تھا پانچ ہزارسال کی تاریخ میں یہ عمل نہ جانے کتنی بار دہرایا گیا ہوگا لیکن ہماری ہوش میں تو یہ سب پہلی بارہوا تھا۔
”رفتگان ملتان“ صرف شخصیات ہی نہیں اقدار اور روایات کی رخصت ہونے کی بھی کہانی ہے۔کیسے کیسے لوگ اپنے ساتھ کیسی شاندار روایات بھی لے گئے۔مسندیں خالی ہوئیں مگر جانشیں کوئی نہ آیا۔اندرون اور بیرون شہر کتنے ہی مقامات پر مشاعرے ہوتے تھے،شام کو مختلف ہوٹلوں میں شاعروں کی محفلیں جمتی تھیں۔ایک دوسرے سے ملاقات کےلئے ہفتہ وار ادبی بیٹھک کا انتظار نہیں کرنا پڑتاتھاشہر میں بہت سی ادبی بیٹھکیں تھیں جو روزانہ آباد ہوتی تھیں۔صحافیوں کے بھی بہت سے ٹھکانے تھے۔وہ اپنے اپنے دفاتر سے فراغت کے بعد ریلوے اسٹیشن یا کسی چائے خانے پر بیٹھ کر حالات حاضرہ پر بحث کرتے اور سونے کےلئے فجر کی اذان کاانتظار کرتے تھے۔اب صحافی بھی پریس کلب کے ٹی وی لاﺅنج تک محدود ہوگئے ہیں کہ نرگس کارقص دیکھنے کےلئے ماحول کا یخ بستہ ہونابھی ضروری ہے۔صحافیوں کے علاوہ بھی شہر میں بہت سے شب نورد تھے۔اتنے بہت سے کہ یہاں باقاعدہ ”انجمن قاتلان ِشب“بھی قائم کی گئی اور جس زمانے میں یہاں انجمن قاتلانِ شب موجودتھی اس دور میں یہاں لوگ نہیں صرف رات قتل ہواکرتی تھی۔اس زمانے میں پیشوں اور اداروں کا تقدس تھا۔مشاعرے اور تھیٹر بھانڈ میراثیوں کے حوالے نہیں کیے گئے تھے۔استاد پڑھایا،ڈاکٹر جان بچایا اورمولوی لوگوں کو مسجد میں بلایا کرتے تھے۔ہاں البتہ ججوں اوروکیلوں میں کوئی تبدیلی نہیں آئی وہ اس زمانے میں بھی ایسے ہی تھے جیسے اب ہیں۔کیسا خوب صورت دور تھا کہ جب ملتان میں شیعہ سنی ،وہابی بریلوی اور مقامی مہاجرکی کوئی تفریق نہیں تھی۔1982 ءمیں مجھے پہلی بار معلوم ہوا کہ مسلمانوں میں بھی کافرہوتے ہیں اورپھر1986ءمیں مجھے بتایاگیا کہ میں اس شہر میں پیداہونے کے باوجود مہاجر ہوں۔شہر یونہی تو خالی نہیں ہوا جنازے یک بعد دیگرے اٹھائے گئے تھے۔
المیہ صرف یہی نہیں کہ لوگ جارہے ہیں ،روایات اور اقداررخصت ہورہی ہیں۔المیہ تو یہ ہے کہ اب پرسہ دینے والے بھی باقی نہیں رہے ۔موت اس شہر کے گلی کوچوں کو وہ بے گانگی اور تنہائی عطا کرگئی کہ اب دکھ کے لمحات میں جی بھر کے رونے کےلئے کوئی شانہ بھی میسر نہیں۔گویا موت ہمیں آنسو دیتی ہی نہیں بعض اوقات ہم سے آنسو چھین بھی لیتی ہے اور موت کا یہ وار سب سے اذیت ناک ہوتا ہے ۔یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جب ہم آخری جنازے کاانتظارکرتے ہیں وہ جنازہ جس میں ہم موجودتوہوں مگر شریک نہ ہوں۔
فیس بک کمینٹ

