آمنہ مفتیکالملکھاری

آمنہ مفتی کا کالم : سافٹ ویئر اپ ڈیٹڈ

انسان یوں تو اشرف المخلوقات ہے لیکن جیسے پطرس فرما گئے کہ ’ایک تو کتا اور پھر بکری کی جسامت کا۔ گویا بہت ہی کتا۔‘ اسی طرح کچھ انسان کچھ زیادہ ہی ’اشرف المخلوقات‘ ہو جاتے ہیں۔
یہ شرف انھیں کن وجوہ کی بنا پر حاصل ہوتا ہے، یہ تو ایک لمبی بحث ہے۔ لیکن جب وہ اس شرف سے باریاب ہو جاتے ہیں تو وہ ’حساس‘ بھی ہو جاتے ہیں۔ اب اشرف المخلوقات کا ایسا گروہ جو حساس بھی ہو، اس کے بارے میں بات کرتے ہوئے عام انسان کو خوب سوچنا سمجھنا چاہیے۔
مسئلہ یہ ہے کہ عام انسان پہلے ہی عقل سے عاری ہوتے ہیں۔ اس پہ جب ان کو خود سے اعلی و بالا لوگوں کے بارے میں لکھنے کا شوق چراتا ہے تو اپنی کور چشمی اور کم علمی کے باعث اکثر اڑنگ بڑنگ ہانک جاتے ہیں۔کبھی افواہیں اُڑاتے ہیں اور کبھی لوگوں کو گمراہ کرنے کے لیے غلط نظریات کا پرچار کرتے ہیں۔ ان لوگوں کی حرکات و سکنات پہ غور کریں تو معلوم ہو گا کہ یہ احساس کمتری کے مارے وہ لوگ ہیں جنھیں کسی دوسرے کے سماجی معیار سے سخت جلن ہوتی ہے۔
ایسے لوگ پھٹیچر حلیوں میں، چیختے چلاتے، سخت الفاظ میں لکھتے پائے جاتے ہیں۔ انھیں دیکھ کر یہ بھی خیال آتا ہے کہ بھائی اگر تم اتنے ہی سیانے تھے تو چار پیسے کما کے ڈھنگ کے کپڑے، گاڑی، مکان اور مناسب خوراک کا بندوبست کیوں نہیں کر لیتے۔ کیوں دوسروں کی روزی روٹی کے پیچھے پڑے رہتے ہو؟
کیا کیا جائے، ان عاقبت نا اندیشوں کو نہ تو سوائے بولنے، بکنے اور لکھنے کے کوئی کام ہی آتا ہے اور نہ ہی کسی دوسرے کی ترقی یہ برداشت کر سکتے ہیں۔ ہر حکومت کے خلاف چلانا، ہر طاقتور کو دیکھ کے دانت پیسنا اور بے وجہ ہی صدیوں سے رائج سماجی رسموں پہ بڑبڑانا ان کی عادت ثانیہ بن چکی ہے۔انسانی حقوق کی بات کرنے والے اب صرف اپنے زندہ رہنے کی فکر میں ہیں
ان میں سے کچھ لوگوں کے رویے سے لگتا ہے کہ یہ باقاعدہ نفسیاتی مریض ہیں۔ اتنا غصہ اور اتنن بغاوت؟ آخر کوئی بھی شخص سالہا سال خود سے کہیں طاقتور لوگوں اور پورے معاشرے پہ اس قدر ناراض کیسے ہو سکتا ہے جبکہ اس کے اختیار میں سوائے چند الفاظ کے کچھ نہ ہو؟
تب ہمارے ذہن میں یہ بات بھی آتی ہے کہ لازمی یہ شخص کسی اور کے ایجنڈے پہ کام کر رہا ہے مگر ذرا قریب سے دیکھنے پہ اندازہ ہوتا ہے کہ جن کے ایجنڈے پہ کام کیا جا رہا ہے وہ بھی موصوف یا موصوفہ کو کچھ خاص منھ نہیں لگاتے۔اسی لیے ان کے حالات اپنے آقاؤں کی اتنی خدمت کے بعد بھی نہیں بدلتے۔ وہ روٹی کے ان ہی چار الفاظ کی خاطر قلم گھستے اور دل جلاتے رہتے ہیں۔
ان معدودے چند دل جلوں کے حالات کا مفصل جائزہ لینے اور بہت غور و خوض کے بعد اشرف المخلوقات نے یہ فیصلہ کیا کہ گو یہ انسان ہیں لیکن دماغ تو بہر حال ایک پیچیدہ کمپیوٹر سے مشابہ ہی ہے تو جس طرح کمپیوٹر کا سافٹ ویئر اپ ڈیٹ کیا جاتا ہے، ان کی ڈھبریاں بھی ٹائٹ کی جا سکتی ہیں۔
ڈھبری ٹائٹ کرنے کا یہ عمل سالہا سال سے رائج ہے۔ اچھے وقتوں میں ایسے لوگوں کو اندھیرے سویرے کمبل ڈال کے ایسی پھینٹی چڑھائی جاتی تھی جسے اب بھی ’گیدڑ کٹ‘ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔
زیادہ تین پانچ کرنے والوں کو ایسی جگہوں پر غائب کر دیا جاتا تھا جہاں سے ان کی خبر کبھی نہیں آتی تھی۔ یہ طریقے اب بھی رائج ہیں خاص کر ’گیدڑ کٹ‘۔ مگر نیا اور سب سے مقبول طریقہ سافٹ ویئر اپ ڈیٹ کرنا ہے۔ کچھ لوگ اسے برین واشنگ سے ملانے کی غلطی کرتے ہیں۔
سافٹ ویئر اپ ڈیٹ ہونے اور برین واشنگ میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ ابھی کل ہی ایک صاحب کو دیکھا جن کا سافٹ ویئر تازہ تازہ اپ ڈیٹ ہوا تھا۔چہرے پہ نور تھا اور آنکھوں میں ایک خواب ناک سی کیفیت۔
بار بار پسینہ پونچھ رہے تھے اور بتا رہے تھے کہ اس دور میں انسان کو اپنے کام سے کام رکھنا چاہیے اور ایسی کوئی بات نہیں کرنی چاہیے جس سے گھر والوں کو نقصان پہنچے یا ملازمت جانے کا خطرہ ہو۔تو صاحبان! اپنے اردگرد دیکھیے۔ اچانک غائب ہو کے واپس آنے والے، بہت بولنے والے جو اب بالکل خاموش رہتے ہیں، انسانی حقوق کی بات کرنے والے جو اب صرف اپنے زندہ رہنے کی فکر میں ہیں، کاٹ دار جملے لکھتے لکھتے اچانک عشقیہ نظمیں لکھنے اور سیر و سیاحت کا ذکر کرنے والے، گمشدہ لوگوں کے لیے بولنے والے جو اب سوائے روسی ناولوں کے ترجموں پہ بات کرتے ہیں، ان لوگوں پہ کیا گزری؟
ہماری ایک دوست نے کہا کہ اب خوف ہماری جیب میں ڈال دیا گیا ہے۔ خوف جیب ہی میں نہیں جسم کے ریشے ریشے میں سرایت کر گیا ہے۔ بین کی جانے والی کتابیں، رد کیے جانے والے کالم، سینسر شدہ فلمیں اور وہ لوگ جنھیں سچ کہنے کی پاداش میں ادبی کانفرنسوں میں مدعو ہونے کے باوجود آنے سے منع کر دیا جاتا ہے، ان سب کو غور سے دیکھیے۔یہ چہرے نایاب ہوتے جا رہے ہیں، یہ آوازیں معدوم ہوتی جا رہی ہیں۔ یہ لہجے ناپید ہو رہے ہیں، ان کے لفظوں کی کھنک اور ان کے جملوں کی کاٹ ایسے غائب ہو جائے گی جیسے سرکش قوموں کے علاقوں میں بہتے میٹھے پانی کی چشمے غائب ہو جاتے ہیں۔
تب بڑا سناٹا ہو گا اتنا سناٹا کہ کانوں کے پردے پھٹ جائیں گے مگر تب کہیں سے بھی، کوئی بھی آواز نہیں ابھرے گی کیونکہ سب کے سافٹ ویئر خودبخود اپ ڈیٹ ہو جائیں گے۔
( بشکریہ : بی بی سی اردو )

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker