اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے نام پر معرض وجود میں آنے والے ملک اسلامی جمہوریہ پاکستان کی تاریخ میں ایک ہی دن میں ہونے والی سب سے بڑی قانون سازی کا کارنامہ 17 نومبر 2021 کو پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں 33 بل منظور کر کے رقم کیا گیا ۔ اس میں بہت اہم بل جن میں انتخابی اصلاحات کا بل ، الیکٹرونک ووٹنگ کا بل ، بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو ووٹ کا حق کا بل ، مردم شماری کا بل ، مسلم عائلی قوانین میں ترمیم کا بل ، حیدرآباد انسٹیٹیوٹ فار ٹیکنیکل مینجمنٹ سائنس کے قیام کا بل ، عالمی عدالت انصاف (نظر ثانی) بل شامل ہیں۔ عوام اس بات سے بخوبی آگاہ ہے کہ اس ساری قانون سازی میں سیاسی ضروریات پوشیدہ تھیں۔ ووٹ بینک (بیرون ملک پاکستانیوں) ، الیکشن کی منصوبہ سازی اور اتحادیوں کے سیاسی مفادات تھے۔
یہ ساری قانون سازی سیاسی مقاصد کے حصول کے لیے تو کہی جا سکتی ہے مگر ملکی معیشت ،اسلامی تشخص اور ریاست مدینہ کے قیام کے بلندوبانگ دعوے سے اس کا دور کا بھی واسطہ نہیں۔
انصاف کے نام پر قائم کی گئی تحریک انصاف کے دور میں انصاف بے توقیرہو کر رہ گیا ہے۔ ملک میں امراء اور شرفاء کے لیٗے الگ قانون ہے اور عوام کے لیے الگ قانون ۔ ریاست مدینہ کا نعرہ مستانہ لگانے والے وزیراعظم اور ان کے رفقاء یہ بھول گئے کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں سود کا نظام دور جاہلیت سے بھی زیادہ ظالمانہ انداز میں پنجے گاڑ چکا ہے اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کی معیشت ، کاروبار ، عام لین دین اور زندگی کے جملہ شعبہ جات یہاں تک کہ انصاف کے اداروں اور قانون سازی کے اداروں تک سب اس نظام کے پاس گروی ہیں۔ سودی طاغوتی ہنرمند اس نظام کی بقا کے لیے ہمہ وقت سرگرم عمل رہتے ہیں!
پارلیمنٹ میں پیش کئے گئے ان 33 بلوں کو مرتب کرنے اور بعد ازاں پارلیمنٹ میں ان کے حق میں دلائل کا انبار لگانے والے ماہرین اور وزیراعظم عمران خان اس کا کریڈٹ لیتے رہیں گے اور اپوزیشن لیڈر اور ان کے ترجمان ان کو ہدف تنقید کرتے رہیں گے۔ مولانا فضل الرحمن ، میاں شہباز شریف اور بلاول بھٹو زرداری اس کو اپنے لئے میڈیا میں موجودگی کا ذریعہ بنائیں گے جب تک کہ کوئی اور موضوع ٹی وی ٹاک شوز اور لا حاصل بحث کے لیے دستیاب نہیں ہو جاتا۔
یہ معاملات بھی اپنی جگہ سیاسی ضرورت ہوں گے اور اہم ہونگے۔ مگر سب سے ضروری اور اہم معاملہ جس سے ملک کی ترقی اور اسلامی تشخص کی اساس جڑی ہے وہ سودی نظام کا خاتمہ ہے۔ عمران خان اور ان کی ٹیم یہ بات اچھی طرح جانتی ہے کہ ملک میں رائج سودی مالی نظام اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ جنگ ہے۔ عمران خان اور ان کی حکومت بلکہ پوری پارلیمنٹ اس گناہ میں شریک کار ہے۔
یہ بات بھی ریکارڈ کا حصہ رہے گی کہ پاکستانی عوام کو ریاست مدینہ کا خواب دکھانے والے وزیراعظم عمران خان کی حکومت نے سود ختم کرنے کے کیس میں فیڈرل شریعت کورٹ کے سامنے یہ درخواست پیش کی تھی کہ اس کیس کی سماعت نہ کی جائے اور سود کے نظام کے خاتمے کا معاملہ عوام کی منتخب پارلیمنٹ پر چھوڑ دیا جائے ۔ یہ بات بھی عدالت کے ریکارڈ کا حصہ ہے کہ اس درخواست سے پہلے عمران خان کی حکومت فیڈرل شریعت کورٹ میں کورٹ کے دائرہ اختیار کو بھی چیلنج کر چکی تھی ۔ کیا اس سے یہ ظاہر نہیں ہوتا ہے کہ عمران خان کی حکومت سود کے نظام کے خاتمے سے گریزاں ہے ؟ حالانکہ اس سے پہلے 1991ء میں فیڈرل شریعت کورٹ "ربا” کے بارے میں قرآن اور حدیث کی روشنی میں ایک مکمل اور مفصل فیصلہ دے چکی ہے ۔ بعض طبقوں نے اپنے مفادات کے لئے اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کر دی۔ سپریم کورٹ میں اس اپیل کی سماعت 22 فروری 1999 کو شروع ہوئی اور 30 دسمبر 1999 کو اس پر فیصلہ کر دیا گیا – جس میں "ربا” یعنی سود کو قرآن کی تعلیمات اور احکامات کے خلاف قرار دیا گیا۔ فیڈرل شریعت کورٹ اور سپریم کورٹ کے ان فیصلوں کو پوری دنیا میں قدر کی نگاہ سے دیکھا گیا ۔ اوراسلامی دنیا میں ان فیصلہ جات کو اسلامی نظام حیات کی طرف ایک بڑی پیش رفت قرار دیا گیا۔ اسلامی دنیا کے جید علماء اور اسکالرز نے ان فیصلہ جات کو قران اور حدیث کی روح کا حقیقی مظہر قرار دیا گیا ۔ مگر پاکستان کے مقتدر حلقوں اور سودی کاروباری حلقوں کے لئے ان فیصلوں کو ہضم کرنا مشکل تھا ۔ ان کو اللہ اور اس رسول کی اطاعت سے زیادہ اپنے کاروباری مفادات عزیز ہیں ۔ یا پھر وہ اس سودی دجالی نظام کے گماشتوں کے ایجنٹ ہیں؟ اس فیصلہ کے نفاذ میں جن مقتدر لوگوں نے رکاوٹیں کھڑی کیں ان میں 3 مرتبہ وزیر اعظم رہنے والے میاں نواز شریف اور پرویز مشرف صاحب کے نام بھی شامل ہیں ۔
یہ لوگ جو ہمیشہ اسلام کا نام لیتے ہیں اور ان کے مصاحب ان فیصلوں کے نفاذ میں آڑے آتے رہے اور اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ جنگ میں پیش پیش رہے! رہی سہی کسر وزیراعظم عمران خان نے ریاست مدینہ کا خواب دیکھا کر سودی نظام کو جاری رکھنے کے لیے پارلیمنٹ پر چھوڑنے کا ڈرامہ رچا کر پوری کردی ۔
اس میں دوسری رائے نہیں ہو سکتی کہ اسلامی ریاست میں حاکم وقت اس کے لئے اللہ تعالیٰ کے سامنے جوابدہ ہو گا۔ یہاں میں مشہور اسکالر برہان احمد فاروقی سے منسوب سود کے بارے میں ان کے خیالات کا ذکر کرنا چاہوں گا۔ 1960ء کی دہائی میں فیلڈ مارشل ایوب خان کا دور حکومت تھا ملکی معیشت ترقی کی راہ پر گامزن تھی تقسیم برصغیر کے بعد پاکستان میں پیدا ہونے والی صورتحال بہتری کی جانب بڑھ رہی تھی ۔ ختم نبوت اور اسلامی نظام کے لیے سیاسی و معاشرتی حلقے سرگرم عمل تھے ۔ میرے والد اعجاز احمد چشتی (بانی جامعہ چشتیہ ہائی سکول فیصل آباد جو بعد میں ذوالفقار علی بھٹو نے سرکاری تحویل میں لے لیا تھا اور اب گورنمنٹ جامعہ چشیتہ سکول کے نام سے موسوم ہے) ایک ہمہ جہت شخصیت تھے اور وسیع حلقہ احباب رکھتے تھے- مولانا مودودی، چودھری محمد علی سابق وزیراعظم پاکستان ، مولوی فرید(مشرقی پاکستان) ، نوابزادہ نصراللہ خان ، آقا بیداربخت اور برہان احمد فاروقی جیسے نامور اور صاحب بصیرت حضرات کی صحبت سے فیض یاب ہوتے رہے۔ سید عطاءاللہ شاہ بخاری سے انہیں خاص عقیدت تھی اور تحریک ختم نبوت کے سلسلے میں حسام الدین شیخ اور شورش کاشمیری کے ساتھ جلسوں میں شرکت اور خطاب ایک معمول تھا۔ میرے والد بیان کرتے تھے کہ ایک دن وہ برہان احمد فاروقی کی نشست میں موجود تھے کہ ایک شخص نے اپنا مسلہ بیان کیا اور ان سے راہنمائی کی درخواست کی۔ یاد رہے کہ برہا ن فاروقی نے تعلیم کے شعبے میں گراں قدر خدمات سرانجام دیں ۔ وہ مسلم علی گڑھ یونیورسٹی ، اسلامیہ کالج جالندھر اور پنجاب یونیورسٹی لاہور سے منسلک رہے ۔ تعلیمی اور معاشرتی حلقوں میں ان کا نام اپنی الگ پہچان رکھتا ہے۔ سوال کرنے والے صاحب کا تعلق لاہور کے ایک کاروباری خاندان سے تھا انہوں نے اپنی مالی دشواریوں کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ میں بہت پریشان ہوں قرض کے بوجھ تلے دبا ہوا ہوں اور قرض خواہ بھی عام حیثیت کاروباری ہیں یا معمولی دکاندار ہیں اور وہ بھی میری وجہ سے مالی پریشانیوں کا شکار ہیں ۔ مجھے بتائے اگر میں بینک سے قرض لے کر ان لوگوں کے قرض ادا کر دوں تو کیا یہ درست ہو گا ؟۔ میں بہت مجبور ہوں اور مجبوری میں میرے لئے یہ جائز ہو گا ؟ فاروقی صاحب نے اطمینان سے ساری باتیں سنیں اور فرمایا کہ قرض کی ادائیگی کے لیے کوئی دیگر ذریعہ استعمال کرو جو سود سے پاک ہو۔ تا ہم اگرآپ مجبور ہو گئے ہیں اور اس کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں تو پھر آپ سے بڑا مجرم فیلڈ مارشل محمد ایوب خان صدر پاکستان ہے یہ حاکم وقت کا کام ہے کہ سودی نظام کو باطل کرے اور تمام سود خوروں کا وہ جواب دے ہوگا ۔ اور پھر آپ نے حضرت عمر بن عبدالعزیز اور حضرت عمر فاروق بن خطاب کے حوالے سے ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اگر دریائے فرات کے کنارے ایک کتا بھوک اور پیاس سے مر گیا تو خلیفہ وقت اللہ تعالی کے حضور اس کے لیے جواب دے ہوگا۔
وزیراعظم عمران خان عام طور پر اپنی تقریر” ایاک نعبد و ایاک نستعین ” سے شروع کرتے ہیں ترجمہ۔” اے اللہ ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں ” ایسے شخص کو یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ دانستہ یا غیر دانستہ طور پر سودی دجالی نظام کے دفاع کی کسی بھی کوشش کا حصہ بنے ۔عمران خان کی حکومت اور اس کے اتحادی کئی ہفتوں بلکہ کئی مہینوں سے پارلیمنٹ میں پیش کیے جانے والے بلوں کے خدوخال درست کرنے اور اپنے اپنے مفادات کے حصول کو یقینی بنانے کے لئے مصروف عمل رہے ۔ حکومت کے اتحادیوں نے اس سلسلے میں بلیک میلنگ بھی کی اور یہ خبریں اخبارات اور ٹی وی ٹاک شوز میں زیر بحث آتی رہی ہیں آخر کار 33 بل پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے منظور کر لیے گئے لیکن صد افسوس کے فیڈرل شریعت کورٹ میں پیش کیے گئے حکومتی موقف کہ ” ربا” کا معاملہ پارلیمنٹ پر چھوڑ دیا جائے کے بارے میں کوئی پیش رفت سامنے نہ آئیں ۔ راقم نے اس سلسلے میں کئی بااثر شخصیات سے رابطہ کیا مگر اس سلسلے میں کسی پیش رفت کا اشارہ نظر نہیں آیا ۔ کیا ہی بہتر ہوتا کہ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں سود کے نظام کے خاتمے کا بل سب سے پہلے پیش کیا جاتا اور پھر دیگر بل منظوری کے لیے پیش کیے جاتے ! اس طرح قرارداد پاکستان اور آئین پاکستان کے حقیقی مقاصد پورے ہوتے اور اللہ تعالی اور اس کے رسول سے جاری جنگ اختتام پذیر ہوتی ۔ یقینا یہی ہمارے ملک کی معیشت اور معاشرتی فلاح اور آخرت کی کامیابی کا ذریعہ ہے۔
عمران خان جمہوریت کو بچانے میں لگے ہوئے ہیں یا اپنی حکومت کے دوام کے لئے کوشاں ہیں ؟ اور اس کوشش میں ریاست مدینہ کے بنیادی فلاحی اور اجتماعی اقدامات کی طرف توجہ نہیں دے رہے! یا پھر ریاست مدینہ محض الفاظ کی حد تک محدود ہے یا ایک سیاسی نعرہ ہے ؟ مجھے یقین ہے عمران خان دل سے اسلامی نظام حیات کی پیشرفت چاہتے ہیں۔ خان صاحب! آپ کا اقتدار اور "ہاتھ میں تسبیح” تک کا سفر مشکل اور طویل سفر سمجھا جاتا ہے۔ اقتدار کی کرسی تک پہنچتے پہنچتے شام زندگی کے سائے بھی ڈھلتے نظر ا رہے ہیں ۔ لہذا اس وقت کو غنیمت جانیے اور توشہ آخرت کے لیے سود کے دجالی اور قبیح نظام کے خاتمے کے لیے پارلیمنٹ میں پیش کرنے کے لیےفوری طور پر بل تیار کریں اور پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلائیں اور سود کے خاتمے کا بل منظور کریں ۔اس کے نفاذ کو یقینی بنایں۔ قانون میں حائل رکاوٹوں اور دیگر مسائل کے لئے ملک کے جید علماء اور اسکالرز سے اجتہاد کے ذریعے رہنمائی لیتے ہوئے معاملات طے کیے جا سکتے ہیں اور غیر ملکی و بین الاقوامی معاہدوں وغیرہ کے لئے کوئی مناسب حل تلاش کیا جا سکتا ہے- وزیراعظم اکثر کہتے ہیں کہ ہر مشکل کا حل ہے اور ہمیں کوشش کرنا چاہیے یہ فارمولا آپ کو سودی نظام کے خاتمے کے لیے بھی اپنانا چاہے۔ آپ اور اپ کی ٹیم نے بیسیوں میٹنگ اور درجنوں میڈیا ٹاکس 33 بلوں کے لئے کیں تاکہ یہ بل پارلیمنٹ سے منظور کروا سکیں ۔ سودی نظام کے خاتمے کی کاوشوں کے لئے کیا امر مانع ہے ؟ آگے بڑھیں اور فوری طور پر سودی دجالی نظام سے چھٹکارہ حاصل کرنے کے لیے اقدامات کریں اور جتنی جلدی ممکن ہو اس کو حتمی شکل دی کر پارلیمنٹ کا اجلاس طلب کریں اور ایک تاریخ ساز فیصلہ اس سودی نظام کے خاتمے کے لیے کریں ۔ اس سے اللہ تعالی اور اس کے رسول سے جنگ کا خاتمہ ہوگا اور اقتصادیات سے جڑی بہت سی پریشانیاں اور فساد ختم ہوگا ہم اللہ تعالی کی رحمت اور برکت کے سزاوار ہوں گے۔اس دنیاوی زندگی کی کامیابی کے ساتھ ساتھ قیامت کے روز اللہ تعالیٰ اور اس رسول کے سامنے سرخرو ہوں گے۔
فیس بک کمینٹ

