رائٹ سائزنگ کمیٹی کی سفارشات پر ملک کے متعدد علمی وادبی اداروں کے انضمام یا بندش کی جو تلوار لٹکتی دکھائی دے رہی تھی یکم جولائی کو وزیراعظم شہباز شریف سے ادیب و کالم نگار سینیٹر اور وزیر اعظم کے مشیر عرفان صدیقی صاحب کی ملاقات کے بعد وہ لٹکتی تلوار ہٹا لی گئی ہے اور وزیر اعظم شہباز شریف نے ان اداروں کی کارکردگی مزید بہتر بنانے اور فعال کرنے کی ہدایات بھی دی ہیں
وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف بھی اپنی تقاریر میں اکثر اشعار کا حوالہ دیتے ہیں سینیٹر عرفان صدیقی سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کی تقاریر لکھتے رہے ہیں اس سے قبل اکادمی ادبیات پاکستان کے سابق چیئرمین نذیر ناجی بھی یہی فرائض انجام دیتے رہے ہیں ۔
محترم عرفان صدیقی ایک اعلی پایہ کے ادیب اور منجھے ہوئے کالم نگار ہیں حکومتی اور سیاسی طور بھی چشم بینا رکھتے ہیں اس سے قبل بھی انہوں نے ان اداروں کی بندش کے خلاف آ واز اٹھائی تھی اب بھی اراکین پارلیمنٹ محترم سینٹر عرفان صدیقی محترم شبلی فراز اور محترمہ مہتاب اکبر راشدی نے ان اداروں کو قائم رکھنے کے لئے نہ صرف ایوان میں اپنی آ واز بلند کی بلکہ ان اداروں کی بہتری کے لئے تجاویز بھی پیش کی ہیں ۔ عرفان صدیقی نے وزیراعظم کے مشیر کی حیثیت سے سابق گورنر پنجاب محترم رفیق رجوانہ کے ساتھ ملتان میں ا کادمی ادبیات پاکستان کے علاقائی دفتر کا افتتاح بھی کیا تھا ۔حکومتی سطح پر بھی ادیبوں اور دانشوروں سے حکومت وقت نے روابط رکھے ہیں اور ادیب و شاعر بھی حکومت اور حکمرانوں کی آ واز پر لبیک کہتے رہے ہیں ۔سن اسی کی دہائی میں اسلام آ باد میں ا کادمی ادبیات پاکستان کی کانفرنس میں سابق صدر فاروق لغاری اور نوے کی دہائی میں رائٹرز کانفرنس میں سابق وزیراعظم اعظم میاں نواز شریف مہمان خصوصی تھے ۔اکادمی ادبیات پاکستان میں ایوان اعزاز کا افتتاح بھی اس وقت کے وزیراعظم سے کرایا گیا ۔
دراصل یہ حکومت کے وزیر اور مشیر ہی ہوتے ہیں جو حکمرانوں کو صحیح یا غلط مشورے دیتے رہتے ہیں شکر ہے کہ حکومت کسی غلط مشورے پر عمل درآمد سے رک گئی ہے اور عرفان صدیقی جیسے جہاندیدہ اور صاحب بصیرت کے مشورے پر ان اداروں کو برقرار رکھنے پر راضی ہو گئی ہے۔
اس وقت اکادمی ادبیات پاکستان کی باگ ڈور معروف ادبی گھرانے سے تعلق رکھنے والی ماہر تعلیم محترمہ نجیبہ عارف کے ہاتھوں میں ہے صدر نشین کی حیثیت سے انہوں نے حکومت کی اس یقین دہانی اور مہربانی پر وزیراعظم شہباز شریف سینٹر عرفان صدیقی اور ان تمام طبقات کا شکریہ ادا کیا ہے جنہوں نے دامے درمے سخنے ان اداروں کی بقا کے لئے آ واز بلند کی معتبر کالم نگاروں نے بھی حکومت کی توجہ اس اہم قومی مسلے کی طرف مبذول کرائی راقم نے بھی اپنے گزشتہ کالم میں اداروں کی زبوں حالی کے لئے مربوط حکمت عملی وضع کرنے کی ضرورت پر زور دیا اور عرفان صدیقی سے اس اہم مسلے کو حکومت تک پہنچانے کا مطالبہ بھی کیا ۔
اب سبھی علمی وادبی حلقے اور ادیب و دانشور محترم عرفان صدیقی کے شکر گزار ہیں کہ ان کی ذاتی دلچسپی سے یہ مسلہ حل ہوا ہے اور وزیر اعظم نے ان اداروں کی فعالیت اور بہتر کارکردگی پر زور دیا ہے ۔
اکادمی ادبیات پاکستان مقتدرہ قومی زبان نیشنل بک فاؤنڈیشن مجلس ترقی ادب آ رٹس کونسل اردو سائنس بورڈ اور دیگر تاریخی تہذ یبی اور ثقافتی اداروں کو اب ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھ کر ان اداروں کی بہتری کے لئے شبانہ روز محنت کرنا چاہیے تاکہ ان اداروں کا مستقبل تابناک ہو سکے ۔
اکادمی ادبیات پاکستان کی صدر نشین ڈاکٹر نجیبہ عارف اور ڈائریکٹر جنرل سلطان محمد نواز ناصر خود بھی اہل قلم ہیں یقینا وہ اس ادارے کو وزیراعظم کے ویژن اور اھل قلم کی توقعات کے مطابق چلائیں گے۔
جب یکم جولائی 2025ء کو سینٹر عرفان صدیقی نے وزیرِ اعظم پاکستان میاں محمّد شہباز شریف سے ملاقات کی جس میں وزیر اعظم نے یقین دہانی کرائی کہ علمی وادبی ادارے جو ہماری قومی پہچان اور تہذیبی ورثے کے امین ہیں، اپنی ذمہ داریاں اِسی طرح سے ادا کرتے رہیں گے۔ البتہ ان کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے مناسب اقدامات کیے جائیں گے۔ وزیرِ اعظم پاکستان کے اِس اعلان سے ملک بھر کے شاعروں، ادیبوں، اور دانش وروں نےاطمینان کا سانس لیا ہے اور ایک دوسرے کو مبارکباد دے رہے ہیں ۔
اہلِ قلم نے وزیرِ اعظم پاکستان کی بصیرت اور قومی و تہذیبی ورثے كی حفاظت كے جذبے كو سراہا اور انھیں خراجِ تحسین پیش کیا۔ اکادمی ادبیاتِ پاکستان اگلے سال اپنی گولڈن جوبلی شایانِ شان طریقے سے منانے والی ہے۔ اکادمی وہ واحد قومی ادارہ ہے جو تمام پاکستانی زبانوں میں تخلیق ہونے والے ادب کی ترویج و اشاعت کے لیے کوشاں ہے۔ عالمی سطح پر ادبی و ثقافتی روابط کو استوار کر کے تخلیقی ادب کے ذریعے پاکستان کے روشن چہرے کا تعارف بھی اکادمی کی ذمہ داری ہے جس کے لیے اکادمی کئی ممالک کے ہم منصب اداروں کے ساتھ معاہدے کر چکی ہے۔ تراجم و تقاریب کے ذریعے پاکستانی قارئین کو عالمی ادب سے روشناس کرانے اور عالمی برادری کو پاکستانی ادب سے متعارف کرانے میں اکادمی نے نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ پاکستان جیسے لسانی تنوّع سے بھرپور ملک میں اکادمی معدومیت کے خطرے سے دو چار زبانوں کے تحفظ پر خصوصی توجہ دے رہی ہے۔ اسی طرح نادار اہلِ قلم کی مالی معاونت اور ادبی اداروں کی مالی و انتظامی سرپرستی بھی اکادمی ہی کرتی رہی ہے۔ اکادمی سے شائع ہونے والے رسائل و جرائد اور کتابی سلسلے ملک کے ادبی منظر نامے میں نمایاں مقام رکھتے ہیں۔ اِسی طرح ہر سال کمالِ فن ایوارڈ اور کتب پر قومی ادبی ایوارڈ دے کر اکادمی ملک بھر میں علمی ادبی سرگرمیوں کی خوب حوصلہ افزائی کر رہی ہے۔ حال ہی میں اکادمی نے نوجوانوں اور مضافاتی اہلِ قلم کو مرکزی دھارے میں لانے کے لیے خصوصی کاوشیں کی ہیں۔ نسلِ نو ادبی میلہ (اگست 2024ء) اور نوجوان اہلِ قلم کا بین الصوبائی اقامتی منصوبہ (جنوری 2025ء) اِس ضمن میں خصوصی طور پر قابلِ ذکر ہیں۔
ان شاءاللہ حکومت کا ان اہم علمی فکری اور ثقافتی اداروں کو برقرار رکھنے اور مزید فعال کرنے کا فیصلہ ملکی تعمیر و ترقی کے لئے اہم ثابت ہوگا
فیس بک کمینٹ

