افغانستان اور پاکستان کی سرحدوں کے آر پار دونوں برادر اسلامی ممالک کی افواج”اللہ اکبر ” کے نعروں کی گونج میں ایک دوسرے پر آگ برسا رہی ہیں اور مجھے خان عبدالولی خان کا اس دور کا ایک بیان یاد آرہا ہے جب پاکستان میں امریکہ اور عرب دوستوں کی ایماء پر افغانستان میں روس کی پیش قدمی روکنے کے لئے جہاد کے نام پر دنیا بھر سے اکٹھے کئے گئے جنگجوؤں کی صف بندی کی جارہی تھی۔ابھی "جہاد”ابتدائی مراحل میں تھا کہ راولپنڈی اور پشاور میں بم دھماکوں کے بعد ولی خان نے کہا تھا۔” ہمساۓ کے گھر آگ پھینکیں گے تو وہاں سے جواب میں پھول نہیں آئیں گے”۔۔۔سیاسی جماعتوں میں اے این پی اس ریاستی پالیسی کی ناقد’ جماعت اسلامی افرادی قوت کی فراہمی کی ذمہ دار’ اکوڑہ خٹک والے قیام وطعام کے منتظم تھےاور پی پی پی ضیائی ظلمت کا شکار تھی جبکہ پی ٹی آئی ابھی معرض وجود میں نہیں آئی تھی۔جہادیوں کی تربیت کی ذمہ داری ریاست کے اور اسلحہ سپلائی و مالی معاونت کی ذمہ داری امریکی اور عربی دوستوں نے اپنے کاندھوں پر اٹھا رکھی تھی۔پرنٹ میڈیا کا یہ حال تھا کہ قومی سطح کے اخبار روز نامہ "نواۓ وقت” کی پیشانی پر "افغان باقی کہسار باقی” کا لوگو چھپا کرتا تھا۔
"افغان جہاد” کے نام پر شروع ہونے والی یہ خونی داستان تاریخ کے صفحات پر اپنے اثرات ثبت کرنے کے باوجود کسی منطقی انجام تک تاحال پہنچ نہیں پائی۔ روس اور امریکہ دونوں افغانستان سے چلے گئے اور افغانستان کے ساتھ ساتھ پاکستان کو بھی لہو لہان کر گئے۔چار دہائیاں پہلے بعض مصلحتوں کو سامنے رکھتے ہوئے ریاست پاکستان آگ و خون کے اس کھیل میں خود شامل ہوئی تھی ۔۔تین دہائیوں سے زائد عرصے میں چالیس لاکھ افغانیوں کی میزبانی کر کے بھی دیکھ لیا مگر دہشت گردوں کے ہاتھوں کم و بیش ایک لاکھ کے لگ بھگ معصوم اور بیگناہ پاکستانیوں کی شہادتوں کے بعد بھی پاکستان کے فوجی و غیر فوجی شہری اور مختلف سیکورٹی ایجنسیوں کے افسران و جوان ہر روز مادر وطن پر اپنی جانیں نثار کر رہے ہیں۔یہ ان شہداء کے لہو کی تاثیر ہے جس نے ریاست کو افغانستان اور طالبان کے بارے میں اپنی پالیسی تبدیل کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔آج ریاست اور فوجی قیادت اس نتیجے پر پہنچ چکے ہیں کہ ماضی کی غلطیاں دہرانے اور لکیر پیٹنے کی بجائے سانپ کا سر کچل دیا جائے اور دہشتگردی کے مکمل خاتمے اور بیخ کنی کے عزم کے ساتھ پاکستان کا مستقبل محفوظ بنانے کی پالیسی پر دل و جان سے عمل کیا جائے۔
پاکستان میں رونما ہونے والے واقعات اس امر کی نشان دہی کر رہے ہیں کہ دہشت گردوں کے لئے نرم گوشہ رکھنے والے سیاسی عناصر اور ان کے مذہبی سہولت کار امن و امان کے مسائل پیدا کر کے ریاست کے خلاف آلہ کار بنے ہوئے ہیں۔ افغانستان کی فوج میں اتنا دم خم نہیں کہ وہ پاکستانی فوج کے سامنے ٹھہر سکے۔پاک افغان سرحد پر پیدا کی جانے والی موجودہ صورتحال ایک ٹیسٹ کیس ہے اس کے بعد افغان فوج کے بھیس میں بھارتی فوج بمعہ بھارتی اسلحہ سامنے آنے کے امکان کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔اس ٹیسٹ کیس میں پاک فوج نے افغان فوجیوں کو وردیاں اور اسلحہ چھوڑ کر بھاگنے پر مجبور کر دیا ہے ۔
ملک کے اندر انتشار پھیلانے کے لئے "جنرل فیض حمید میڈ” مذہبی جماعت کو میدان میں اتارا جا چکا ہے اور ایک سیاسی جماعت کے پی کے میں اپنے سیاسی اثر ورسوخ کی بنیاد پر دہشتگردی کی مکمل بیخ کنی اور خاتمے کی ریاستی و فوجی پالیسی اور کوشش کو سبو تاز کرنے کے در پے نظر آتی ہے۔عین ممکن "افغان جہاد” کے دوران اربوں کا مال بنانے والے کچھ عناصر بھی اسلامی بھائی چارے اور تاریخی روابط کے نام پر افغانستان کے خلاف پاک فوج کی کارروائی پر احتجاج اور برہمی کا اظہار کریں۔مگر امید کامل ہے کہ اس بار ریاست اور فوجی قیادت ملک و قوم کو دہشتگردی کی عفریت سے مکمل نجات دلا کر ہی دم لے گی۔اس موقع پر کسی دباؤ میں آ کر کوئی رو رعایت ملک و قوم کے لئے جان قربان کرنے والوں کے خون سے بے وفائی ہو گی۔پاکستان کو اب اپنی موجودہ افغان پالیسی کے تحت ہی آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔۔کیونکہ بقول شاعر آج بھی حالت یہ ہے کہ۔۔۔
"اجے اگلے اتھرو مکے نئیں
لو ہور جنازے آ گئے نیں "
فیس بک کمینٹ

