دوحہ میں ہونے والے مذاکرات کے نتیجہ میں پاکستان اور افغانستان جنگ بندی پر راضی ہوگئے ہیں۔ طرفین دہشت گردوں کی سرگرمیاں روکنے کے لیے مستقل میکنزم تیار کرنے کے لیےجلد ہی دوبارہ ملاقات کریں گے۔ یہ بات چیت 25 اکتوبر سے ترکیہ میں ہوگی۔ بظاہر یہ معاہدہ پاکستان کی پیش کردہ شرائط پر ہؤا ہے ۔ شاید اسی لیے پاکستان کی طرف سے خیرمقدمی بیان کے علاوہ زیادہ معلومات سامنے نہیں آئیں۔
اس کے مقابلے میں دوحہ میں پاکستانی وزیر دفاع خواجہ آصف اور افغان وزیر دفاع ملا یعقوب کے درمیان ہونے والے معاہدے کے بارے میں کابل حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے تفصیل سے اس معاہدے کے بارے میں بتایا بلکہ ایک اضافی بیان میں یہ بھی واضح کیا کہ افغانستان تو پہلے ہی کسی بھی دوسرے ملک کے خلاف کسی قسم کی کارروائی کے خلاف ہے۔ اور اپنی سرزمین کو دوسروں کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔ تاہم پاکستان کے خلاف سرگرم گروہوں کی افغانستان میں محفوظ پناہ گاہوں اور سرکاری طور سے ان کی سرپرستی کی صورت حال نے ہی پاکستان کو بالآخر افغانستان کے خلاف سخت رویہ اختیار کرنے پر مجبور کیا۔
یہ کہنا مشکل ہے کہ جنگ بندی معاہدہ کس حد تک مستقل ثابت ہوتا ہے اور افغان حکومت ان شرائط کو کیسے نافذ کرتی ہے جن کے بارے میں پہلے وہ پروں پر پانی ہی نہیں پڑنے دیتی تھی۔ افغان وزیر خارجہ امیر خان متقی سے جب نئی دہلی کے دورہ کے دوران اس بارے میں سوال کیا گیا تھا تو انہوں نے ٹکا سا جواب دیا تھا کہ پاکستانی علاقوں میں دہشت گردی افغانستان کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ یہ پاکستان کا داخلی معاملہ ہے۔ اسے خود ہی اسے حل کرنا ہوگا۔ اس بیان سے افغان حکومت کا یہ گھمنڈ سامنے آتا تھا کہ اس کی سرزمین اس کے ہم خیال گروہ استعمال کرکے پاکستان میں دہشت گردی کرتے رہیں گے اور پاکستان اس پر ہمیشہ کی طرح خاموش رہے گا۔
پاکستان نے اس بار اپنی پوزیشن تبدیل کی ہے۔ اس نے پہلے کابل میں ٹی ٹی پی کے ایک ٹھکانے کو نشانہ بنایا اور جب کابل حکومت نے اسے قومی خود مختاری کا سوال بنا کر پاکستانی سرحدوں پر حملہ کیا تو پاکستان نے اس موقع کو غنیمت جان کر افغانستان میں ہر اس جگہ پر حملہ کیا جہاں دہشت گرد وں کی کیمپ موجود ہونے کا اندیشہ تھا۔ اسی لیے جب قطر نے دوحہ میں بات چیت کی دعوت دی تو پاکستان نے اسے قبول کرتے ہوئے واضح کردیا تھا کہ یہ مذاکرات اس اصول کی بنیاد پر ہوں گے کہ اگر افغان حکومت اپنے علاقوں میں دہشت گردوں کو کنٹرول نہیں کرتی تو پاکستان ان کا پیچھا کرے گا اور وہ جہاں ہوں گے ، ان کا خاتمہ کیاجائے گا۔ دوحہ سے امن اور جنگ بندی کے بارے میں جاری ہونے والے بیانات میں اس مؤقف کو تسلیم کیا گیا ہے۔ چند روز بعد ترکیہ میں ہونے والی بات چیت میں ایسا طریقہ اپنانے کی کوشش ہوگی کہ دہشت گردوں کو روکنے کے لیے افغانستان میں کارروائی ہو اور افغان حکومت کسی ایسے میکنزم پر متفق ہوجائے جس کے تحت پاکستان ان کارروائیوں کی حقیقت کے بارے میں تصدیق کرسکے۔
یہ امن معاہدہ غیر ضروری خوں ریزی روکنے کے لیے ایک مناسب اور بروقت اتفاق رائے ہے۔ تاہم یہ مقصد حاصل کرنے کے لیے پاکستان کو چند روز کی براہ راست کارروائی کے ذریعے یہ واضح کرنا پڑا کہ اب پاکستان دہشت گردی میں ملوث کسی ایسے گروہ کو معاف نہیں کرے گا جو افغان سرزمین میں محفوظ ٹھکانوں سے ان حملوں کی منصوبہ بندی کرتے ہیں اور پھر اپنے جنگجوؤں کو سرحد پار بھیجتے ہیں۔ پاکستان گزشتہ چار سال کے دوران کابل حکومت کو یہی بات سمجھانے کی کوشش کررہا تھا لیکن طالبان حکومت نے کبھی ان شکایات کو تسلیم نہیں کیا۔ اس سلسلہ میں ہونے والی کوششوں کا ذکر خواجہ آصف نے دوحہ جانے سے پہلے ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ میں کردیا تھا۔ انہوں نے بتایا تھا کہ ہرسطح پر افغان لیڈروں کو انگیج کرنے اور دہشت گردوں کے بارے میں معلومات دینے کی کوشش کی گئی لیکن کابل نے کوئی تعاون نہیں کیا۔
گو کہ دوحہ معاہدہ غیر متوقع نہیں تھا ۔ البتہ معاہدے کا اعلان ہونے سے پہلے بھی شبہات موجود تھے اور اب بھی یہ شکوک برقرار ہیں۔ افغانستان اگرچہ اس اصول پر متفق ہؤا ہے کہ وہ اپنی سرزمین سے دہشت گردی میں ملوث لوگوں کو روکے گا تاہم ابھی یہ طے ہونا باقی ہے کہ کیا افغان سکیورٹی فورسز یہ کارروائی تن تنہا کریں گی یا پاکستان کے ساتھ مل کر ان عناصر کی سرکوبی کی جائے گی۔ اس کے علاوہ یہ ممکن دکھائی نہیں دیتا کہ طالبان کے سخت گیر لیڈر یک بیک تحریک طالبان پاکستان کے بارے میں اپنے خیالات تبدیل کرلیں۔ اور اب وہ انہیں پاکستان ہی کا نہیں بلکہ افغان مفادات کا دشمن بھی تصور کرنے لگیں۔ افغان لیڈروں کے اسی یک طرفہ اور سخت گیر رویہ کی وجہ سے جنگ بندی کے معاہدے کو خطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔ البتہ ماضی کے مقابلے میں اب یہ فرق ہے کہ اگر افغان حکومت خود کارروائی نہیں کرے گی تو پاکستان ان دہشت گرد عناصر کو افغانستان کے علاقوں میں نشانہ بنائے گا۔
شاید یہی وجہ ہے کہ پاکستان کی طرف سے خیر مقدم کا محتاط اعلان سننے میں آیا ہے۔ وزیر دفاع خواجہ آصف نے افغان وفد کے ساتھ معاہدہ کے بعد ایک بیان میں کہا کہ ’جنگ بندی پر اتفاق رائے ہوگیا ہے۔ سرحد پار سے پاکستانی سرزمین پر دہشت گردی فوری طور سے بند کی جائے گی۔ دونوں ہمسایہ ملک ایک دوسرے کی خود مختاری کا احترام کریں گے‘۔ نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ایک بیان میں اس معاہدے کا خیر مقدم کرتے ہوئے اسے درست سمت میں پہلا قدم قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ’ ہم قطراور ترکیہ کے شکر گزارر ہیں اور امید کرتے ہیں کہ دہشت گردی کی روک تھام کے لیے کسی ٹھوس لائحہ عمل پر اتفاق رائے ہوجائے گا جس کے تحت ایسے اقدامات کی مصدقہ طریقے سے مانیٹرنگ ہوسکے‘۔ اس سے پہلے قطر کی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا تھا کہ ’بات چیت کے دوران دونوں ملکوں نے فوری جنگ بندی پر اتفاق کیا ہے۔ باہمی امن و استحکام کے لیے میکنزم تیار کرنے پر بھی اتفاق کیا گیا ہے۔ دونوں ملک آنے والے دنوں میں ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رکھیں گے تاکہ جنگ بندی کا نفاذ یقینی بنایا جاسکے‘۔ بیان کے مطابق ان مذاکرات کی میزبانی قطر نے کی اور ترکیہ نے ثالث کا کردار ادا کیا۔ باہمی بات چیت 13 گھنٹے تک جاری رہی۔
کابل میں حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے بھی ایک بیان میں جنگ بندی کی تصدیق کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’افغانستان اور پاکستان کے درمیان بات چیت میں مشترکہ معاہدے پر دستخط ہوئے ہیں۔ معاہدے کے مطابق دونوں ملک امن، باہمی احترام اور تعمیری تعلقات قائم رکھنے پر متفق ہیں۔ دونوں ملکوں نے اتفاق کیا ہے کہ کوئی ملک دوسرے کے خلاف جارحیت کا مظاہرہ نہیں کرے گا۔ نہ ہی ایسے گروہوں کی امداد کی جائے گی جو حکومت پاکستان کے خلاف حملے کرتے ہیں۔ دونوں ملک ایک دوسرے کی سکیورٹی فورسز، شہریوں اور انفرا اسٹرکچر پر حملوں سے گریز کریں گے۔ طرفین بات چیت کے ذریعے تمام معاملات طے کرنے پر متفق ہیں۔ اسی لیے مکمل اور جامع جنگ بندی پر اتفاق کیا گیا ہے۔ مستقبل میں ثالث ممالک کے ذریعے ایسا میکنزم تیار کیاجائے گا جو اس معاہدے پر عمل درآمد میں معاون ہو‘۔ افغان ترجمان نے ترکیہ اور قطر کی طرف سے ثالثی کا کردار ادا کرنے پر شکریہ ادا کیا۔ تاہم تھوڑی ہی دیربعد ایک نئے بیان میں ذبیح اللہ مجاہد نے واضح کیا کہ ’امارات افغانستان کی یہ مستقل پالیسی رہی ہے کہ اس کی سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہو گی۔ افغانستان کسی کے خلاف حملوں کی اجازت نہیں دیتا‘۔
ذبیح اللہ مجاہد کے بیان اور پھر اس کی وضاحت کے لیے نئے بیان سے کابل میں پائے جانے والے تضاد کا پتہ چلتا ہے۔ طالبان حکومت میں جنگ بندی، ٹی ٹی پی اور پاکستان کے بارے میں مکمل اتفاق رائے نہیں ہے۔ اس وقت افغانستان میں پاکستان کے خلاف پروپیگنڈے کے لیے سوشل میڈیا کے علاوہ ٹیلی ویژن نشریات کو استعمال کیا جارہا ہے۔ خبروں کے مطابق ایک ٹیلی ویژن اسٹیشن نے پاکستان دشمن پروپیگنڈا نشر کرنے سے انکار کیا ، جس کے بعد اس پر پابندی لگادی گئی۔ افغانستان اگر اپنے عوام میں پاکستان کے خلاف نفرت پھیلانے کو سرکاری پالیسی کے طور پر اختیار کرے گا تو امن کے لیے اس کی نیک نیتی پر سوال اٹھتے رہیں گے۔
دوحہ میں جس جنگ بندی پر اتفاق کیا گیا ہے، وہ اسی وقت مفید ہوسکتی ہے جب طالبان حکومت ٹی ٹی پی کے بارے میں اپنا نظریہ تبدیل کرے اور یہ مان لے کہ وہ جو نام نہاد اسلامی انقلاب افغانستان میں برپا کررہے ہیں، اسے پراکسی گروہوں کے ذریعے ہمسایہ ملک پاکستان میں برآمد نہیں کیا جاسکتا۔ طالبان لیڈروں نے یہ سادہ بات سمجھنے سے گریز کیا تو تو دونوں ملکوں کے درمیان سرحد بھی گرم رہے گی اور افغانستان کی سرحد پار تجارت بھی متاثر ہوگی۔ اس کے علاوہ پاکستان میں آباد لاکھوں افغان باشندےبھی تکلیف کاسامناکریں گے۔
( بشکریہ : کاروان ۔۔ ناروے )
فیس بک کمینٹ

