آنچلادب

بے نام خود کلامی ۔ ۔ شاہین شہزادی

خوبصورت لمحات سے مزین یہ وقت سمندر کی طرح ٹھاٹھیں مارتا ہوا تیزی سے گزر گیا ایک طویل عرصہ ساتھ جینے کے بعد وقت نے پھر سے کوسوں دور کر دیا جس کے ساتھ ہوتے ہی وقت بھاگنے لگتا۔۔۔
زندگی میں کچھ لمحے ایسے بھی آتے ہیں جنہیں ہم قید کر لینا چاہتے ہیں کچھ رشتے ہماری زندگی میں اس طرح شامل ہوتے ہیں کہ ہماری ہر خوشی غمی ان سے جڑ جاتی ہے میری زندگی میں بھی ایک انمول رشتہ جسے میں کسی قیمت پر کھونا گوارا نہیں کر سکتی  جس کے ساتھ میرا ہر دکھ سکھ اس طرح جڑے ہوئے ہیں کہ جدا ہونے کا تصور بھی مجھے کسی زخمی اور پیاسے  پرندے کی طرح تڑپانے لگتا ہے ۔
مجھے اکثر شام  کو ڈوبتے سورج کا  منظر   اداس کر دیتا سوائے ان شاموں کے جو اس کے ساتھ گزری اس کے ساتھ گزرے ہوئے منظر یوں بھی  اداس نہ کرتے  کہ میرے ہمراہ اس کا ہونا مجھے زندگی کے اداس لمحوں میں بھی سکون دیتا ۔۔۔۔وہ اکثر میری جھیل سی گہری آنکھوں میں کھو جاتی اور مجھ سے جدا ہونے کا تصور اسے بھی جھنجوڑ دیتا۔
میرا ذرا سا ہاتھ بھی  جل جاتا تو وہ گھنٹوں میرے پاس بیٹھ کے مجھے ڈانتی رہتی میرا ہاتھ تھام کر اسے بوسہ دیتی اور مجھے جلن کا احساس نہ ہوتا  میری آنکھ میں آنسو اسے ہمیشہ اذیت دیتا وہ میری آنکھ میں آنسو دیکھتے ہی بے چین ہوجاتی مجھے آغوش میں سمیٹ کر وہ میرے آنسوؤں کو اپنے نازک ہاتھوں سے اس قدر پیار سے صاف کرتی کہ میں اسے دیکھ کر بے اختیار مسکرانے لگتی میں جب بیمار پڑ جاتی تو وہ ایک ڈاکٹر کی طرح  میری دیکھ بھال کرتی مجھے اپنے ہاتھوں سے کھانا کھلاتی وقت پر دوا دیتی اور میری تکلیف سے توجہ ہٹانے کی خاطر مجھ سے ہزاروں باتیں کرتی اور جب تک میں ٹھیک نہ ہو جاتی اسے سکون نہ ملتا۔
مجھے پیار سے اس کا دیکھتے رہنا جب کبھی اس کی آنکھوں سے میں اوجھل ہوتی تو مجھے ڈھونڈتے رہنا  وہ سارے ہوسٹل کا چکر لگا کر   تھکی ہوئی نڈھال قدموں سے آکر بیٹھ جاتی اور میں جیسے ہی کمرے میں داخل ہوتی تو اس کا انتظار ختم ہوتا اور مجھ سے بنا کسی سوال کے مجھے گلے لگا لیتی اور اس قدر زور سے گلے لگاتی کہ اس کی تیز دھڑکنیں جیسے مجھے پکار پکار کر کہہ رہی ہو ں مجھے یوں اکیلا چھوڑ کر نہ جایا کرو تمہارے بنا میرا دل نہیں لگتا اور میں بن کہے سب سن لیتی میں کچھ لمحے جو اس سے دور چلی جاتی تو  جہاں مجھے بھی قرار نہ ملتا اس کی بھی ساری خوشیاں مدھم سی پڑنے لگتی جب مجھے دیکھتی تو اس کے چہرے پہ تمام رنگ موسم بہار کی طرح کھل اٹھتے جیسے موسم بہار میں ہر رنگ اچھا لگتا مجھے بھی اس کے ساتھ زندگی کا ہر رنگ اچھا لگتا چاہے وہ خوشی کا ہو یا دکھ وہ میرے تمام دکھوں کو اس قدر خوبصورتی سے اپنے اندر سمیٹ لیتی کہ کبھی کسی درد کی شدت کو محسوس نہ ہونے دیتی  اس کے ساتھ زندگی کبھی بوجھ نہ لگتی کچھ رشتے اس قدر انمول ہوتے ہیں کہ انہی رشتوں سے زندگی خوبصورت محسوس ہوتی ہے مجھے وہ ہر جگہ اس کا پکارنا اچھا لگتا ۔
اس کے آگے کبھی کبھار تمام رشتے پھیکے پڑ جاتے یہ احساس کا رشتہ اس قدر بڑھ گیا تھا کہ میں نے اس میں ہر رشتے کو پایا وہ کبھی بہن کی طرح مجھ پہ جان نچھاور کرتی تو کبھی ماں کی طرح میرے ماتھے پہ خو ن دیکھ کر بے چین ہںو جاتی اپنے ہی ڈوپٹے کو میرے ماتھے پر باندھ کر وارڈن سے منت سماجت کرتی ہے کہ مجھے دوا لانے دو وارڈن اسے شام کے وقت باہر جانے کا بہانہ سمجھ کر ڈسپنسری پر جانے سے صاف انکار کر دیتی ہے اور یوں وہ واپس مجھے کمرے میں جا کر بستر پر لیٹا دیتی ہے اور کسی سے دوا مانگ کر میری چوٹ پر لگاتی ہے تب جا کر اسے سکون کا سانس آتا ہے اور پھر میری تکلیف میں رات بھر میرے ساتھ جاگتی رہتی اور مجھے سلانے کی ہر ممکن کوشش کرتی وہ میری آنکھوں میں دیکھ کر سب کچھ جان لیتی اور میرے چہرے کو  باآسانی پڑھ لیتی اسے کبھی کچھ بھی بتانے کی ضرورت پیش نہ آتی آج بھی جب فون پر بات ہوتی تو وہ میری آواز سے میری خوشی اور دکھ کو بھانپ لیتی ہے دونوں ہی ملاقات کے انتظار میں رہتے اور دوسری طرف کال پر اس کی آواز سنتے ہی  مجھ پر ایک سحر طاری ہوا دنیا و مافیہا سے بے خبر ہم اپنی دنیا میں اس قدر مگن ہو جاتے کہ آس پاس کی کوئی آواز سنائی نہ دیتی کچھ یادیں صرف یادیں نہیں زندگی کا اثاثہ ہوتی ہیں جیسے ہم دونوں کے  ساتھ گزرے ہوئے وہ حسین لمحات !دونوں طرف سے باتوں کا سلسلہ اس قدر طویل ہوا کہ وقت گزرنے کا احساس نہ ہوا اس کی یادیں میری روح میں سرایت کر گئی اس کی آواز میری زیست میں شمع کی مانند بن کر ابھرتی جو میری زندگی کی تاریکی کو مٹا کر اجالا کر جاتی ۔
جب اس کی آواز سنائی نہ دے اور جدائی کا تصور ذہن کو نڈھال کر دے تو یادوں کا بوجھ بھی انسان کو کس قدر تھکا دیتا ہے جب طویل تنہائی کے بنجر صحرا میں کسی پیارے کی کمی پیاس کی مانند شدت سے محسوس ہوتی ہے تو احساس تنہائی قوت مدافعت پر حملہ آور ہوتا ہے انسان ذہنی دباؤ کا شکار ہو کر غم و یاسیت کے گہرے سمندر میں ڈوبتا چلا جاتا ہے جہاں سے واپسی کے سارے امکان ناممکن محسوس ہوتے ہیں نفسیاتی عوارض میں روز بہ روز اضافہ ہونے لگتا ہے اسے خود سے اس قدر وحشت محسوس ہونے لگتی ہے کہ وہ خود کو سماج سے کاٹ کر اپنی الگ دنیا بسا لیتا ہے  تو زندگی کی خزاں مجھ پر اترتی ہے اور اس خزاں کے بعد بہار کا آنا ایک خواب لگتا ہے  اس کے بغیر جینے کا تصور میری زندگی کو بے رنگ کر دیتا ہےاور زندگی کے ذائقے اس قدر ختم ہوتے محسوس ہونے لگتے ہیں کہ کھانوں میں بھی کوئی ذائقہ محسوس نہیں ہوتا سانس بھی لڑکھڑانے لگتے ہیں  اور وقت تھم سا جاتا ہے اس سے پہلے کہ سانس رکتا میں  جدائی کے بھیانک تصور کو دوبارہ کبھی نہیں سوچتی اور اس تحریر کو بھی ادھورا چھوڑ رہی ہوں‌۔

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker