تجزیےسید مجاہد علیلکھاری

سید مجاہد علی کا تجزیہ : انصاف کے تقاضے اور دہشت گردوں کے سامنے لاچار ریاست

آج سپریم کورٹ میں وال اسٹریٹ جرنل کے صحافی ڈینئیل پرل کوقتل کرنے کے الزام میں قید عمر شیخ اور اس کے تین ساتھیوں کی رہائی کی درخواست پر ہونے والی کارروائی سے کم از کم یہ بات تو واضح ہوئی ہے کہ بلند بانگ دعوؤں کے باوجود دنیا پاکستان کی اس بات پر یقین کیوں نہیں کرتی کہ اس نے دہشت گردی کو شکست دے دی ہے اور تمام دہشت گرد گروہوں کو ٹھکانے لگا دیا گیا ہے۔ اٹارنی جنرل پاکستان سپریم کورٹ کے سہ رکنی بنچ کو یہ بتانے سے قاصر رہے کہ اٹھارہ سال کے دوران وفاقی حکومت عمر شیخ کا دہشت گردوں کے ساتھ تعلق کیوں ثابت نہیں کرسکی۔ اس عدالتی کارروائی کے دوران یہ بات بھی عیاں ہوئی ہے کہ ہمارے اعلیٰ ترین عدالتی فورم پر انہی لوگوں کے انسانی حقوق کےبارے میں ’بے چینی و تشویش ‘ محسوس کی جاتی ہے جو انسانیت سوز طریقے سے ایک غیر ملکی صحافی کو قتل کرنے اور دنیا بھر میں پاکستان کی شہرت داغدار کرنے میں ملوث رہے ہیں۔ اسی ’نرم دلی‘ کا مظاہرہ کرتے ہوئے سپریم کورٹ کے سہ رکنی بنچ نے عمر شیخ اور ان کے تین ساتھیوں کو جیل سے رہا کرکے سرکاری ریسٹ ہاؤس میں منتقل کرنے کا حکم دیا ہے۔ بلکہ یہ فرمان بھی جاری ہؤا ہے کہ عمر شیخ کے اہل خاندان کو لاہور سے لانے اور کراچی میں قیام کا انتظام اور اخراجات برداشت کرنا بھی سندھ حکومت کی ذمہ داری ہوگی۔
قانونی موشگافیوں، عدالتی پیچیدگیوں اور منصفوں کی مجبوریوں سے بے خبر عام لوگوں کو یہ بات کبھی سمجھ نہیں آسکتی کہ دہشت گردی، قتل اور انتہاپسندی جیسے الزامات میں ملوث لوگوں کے ساتھ اس خوش اخلاقی کا آخر کیا جواز ہوسکتا ہے۔ ججوں کے پاس اگر ان لوگوں کو قید رکھنے کا کوئی عذرنہیں ہے تو ان کی رہائی کا غیر مشروط حکم جاری کیا جائے۔ غریب ملک کی غریب صوبائی حکومت کے مصارف پر سنگین جرائم میں ملوث لوگوں کو پرتعیش رہائش اور دیگر سہولتیں فراہم کرنے کا جواز آخر قانون کی کون سی کتاب میں تلاش کیا جاسکتا ہے؟
اسی طرح بے رحمی سے قتل ہونے والے ڈینئیل پرل کے خاندان اور امریکی عوام و حکومت کے لئے بھی یہ سمجھنا مشکل ہوگا کہ پاکستان میں مجرموں کے ساتھ حسن سلوک کاکون سا ضابطہ نافذ ہے کہ ایک طرف دنیا بھر کی تنظیمیں اور ادارے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں، اقلیتوں کے ساتھ تشدد اور بے رحمی کے واقعات اور زندہ انسانوں کو کسی الزام کے بغیر اٹھا نے جیسے واقعات پر تسلسل سے احتجاج کرتے ہیں تو دوسری طرف ملک کی اعلی ترین عدالت ایک ایسے شخص کے انسانی حقوق کے بارے میں تشویش کا اظہار کررہی ہے جو پاکستان ہی نہیں دنیا کے دوسرے ملکوں میں بھی مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث رہا ہے۔ عمر شیخ نامی یہ شخص جسے عدالت کسی ثبوت کے بغیر اٹھارہ سال سے قیدی قرار دینے کی کوشش کررہی ہے، 1999 میں بھارت کا ایک مسافر بردار طیارہ اغوا کرکے رہا کروائے گئے جنگجوؤں میں شامل تھا۔ بھارت کے ساتھ دشمنی کے رشتہ کو بھلا کر اگر اس سنگین سانحہ کی نوعیت اور اس پر عمل درآمد کے طریقہ کار پر غور کیا جائے تو پاکستانی ریاست اور عدالتوں سے اس سوال کا جواب مانگا جانا چاہئے کہ طیارہ اغوا کرکے بھارتی قید میں گرفتار یہ لوگ کون تھے اور پاکستان میں ان کے خلاف کیوں باقاعدہ فرد جرم عائد نہیں کی گئی۔
پوچھا جانا چاہئے تھا کہ یہ لوگ بھارت کیسے گئے۔ ان پر وہاں کی عدالتوں میں دہشت گردی کے الزامات عائد کئے گئے اور سزائیں دی گئیں۔ وہاں سے نکلنے کے لئے ان مجرموں کے ساتھیوں نے انڈین ائیر لائنز کامسافر بردار طیارہ اغوا کیا۔ پاکستان اس سانحہ سے مکمل لاتعلقی ظاہر کرتا رہا ہے۔ لیکن اس جرم کے نتیجہ میں رہا کئے گئے تمام لوگ افغانستان سے پاکستان پہنچے ۔ ان میں ایک جیش محمد کاسربراہ مولانا مسعود اظہر ہے جو اپنی رہائی کے بعد بھی جہادی کلچر کے فروغ میں سرگرم رہا تھا ۔ اس کی سرگرمیاں فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے ساتھ پاکستان کی مشکلات میں اضافہ کے بعد سے محدود ہوئی تھیں اور جیش محمد کے نیٹ ورک کو ختم کرنے کا اعلان کیا گیا تھا۔ حالانکہ اس اعلان پر خوشی و مسرت کی بجائے پاکستانی ریاست کے سب اداروں سے یہ سوال پوچھنے کی ضرورت تھی کہ ایک ایسی تنظیم کو پاکستان میں نیٹ ورک قائم کرنے کی اجازت و موقع کیوں فراہم کیا گیا جو ہمسایہ ملک میں سزا یافتہ مجرم تھا اور طیارہ اغوا کے ذریعے رہا ہونے کی وجہ سے وہ پاکستان کے خلاف ایک سنگین جرم کا مرتکب بھی ہؤا تھا۔ ملک کا کوئی قانون اس شخص کی گرفت نہیں کرسکا اور نہ ہی کسی عدالت نے اس کو سزا دی۔
بھارتی طیارہ اغوا کرکے رہا ہونے والا جو دوسرا شخص نمایاں ہؤا، اس کا نام احمد عمر سعید شیخ ہے۔ وہ 2002 میں ڈینئیل پرل کے اغوا اور قتل کے الزام میں گرفتار ہؤا اور انسداد دہشت گردی عدالت نے اسی سال جولائی میں اسے موت کی سزا دی ۔ اس فیصلہ کے خلاف اپیل پر فیصلہ کی نوبت گزشتہ سال آئی جب سندھ ہائی کورٹ نے اٹھارہ سال پرانے مقدمہ میں فیصلہ سناتے ہوئے تمام ملزموں کو بری اور عمر شیخ کی سزائے موت کو سات سال عمر قید میں تبدیل کیا۔ ہائی کورٹ نے تمام افراد کو رہا کرنے کا حکم بھی دیا لیکن سندھ حکومت نے انہیں بدستور حفاظتی حراست میں رکھا۔ چار روز قبل سپریم کورٹ کے ایک دوسرے بنچ نے سندھ ہائی کورٹ کے فیصلہ کے خلاف اپیلوں کی سماعت کرتے ہوئے تمام افراد کو بری کرنے کااور انہیں فوری طور سے رہا کرنے کا حکم دیا ۔ اس دوران سندھ ہائی کورٹ بھی صوبائی اور مرکزی حکومت کو حکم دے چکی ہے کہ ان لوگوں کو بدستور گرفتار رکھنے کا کوئی حکم ہائی کورٹ کی اجازت کے بغیر جاری نہیں کیا جاسکتا۔ یہ تنازعہ اس وقت جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ کے زیر غور ہے۔
عمر شیخ اور ان کے ساتھی سپریم کورٹ سے فوری رہائی کا حکم چاہتے ہیں جبکہ سندھ حکومت کے علاوہ وفاق بھی عمر شیخ اور اس کے ساتھیوں کو بدستور حراست میں رکھنے کی استدعا کررہا ہے۔ گویا صورت حال یہ ہے کہ وفاق اور سندھ کی حکومتیں چار افراد کو خطرناک مجرم سمجھتے ہوئے قید رکھنا چاہتی ہیں لیکن عدالتیں کہتی ہیں کہ ان کے خلاف اٹھارہ برس میں کوئی جرم ثابت نہیں کیا گیا۔ اس لئے حفاظتی حراست کے احکامات جاری کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ اصول قانون کے تحت یہ جائز سوال ہے لیکن یہ سوال اٹھانے والے ججوں نے اس بات پر غور کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی کہ ایک بھیانک جرم میں ملوث ان لوگوں کی اپیلوں پر فیصلہ میں اٹھارہ سال کیوں صرف ہوئے؟ جسٹس عمر عطا بندیال نے بجا طور سے اٹارنی جنرل سے پوچھا ہے کہ وہ ملزموں کے دہشت گرد گروہوں سے تعلق کے بارے میں ثبوت پیش کریں لیکن انہوں نے عمر شیخ کے وکیل سے یہ پوچھنا ضروری نہیں سمجھا کہ طیارہ اغوا کے جرم میں ملوث لوگوں سے ان کے مؤکل کا کیا تعلق تھا؟
عدالت عظمی کے فاضل ججوں نے یہ سوال اٹارنی جنرل سے بھی نہیں کیا اور نہ ہی اس سنگین معاملہ پر مقدمہ دائر کرنے کا حکم دینے کی ضرورت محسوس کی۔ البتہ عدالت کو یہ تشویش ضرور تھی کہ عمر شیخ کو پھانسی کی کوٹھری میں رکھا گیا ہے، اسے وہاں سے نکالا جائے۔ ججوں نے یہ غور بھی کیا کہ ان مظلوم لوگوں کے اہل خانہ تو کراچی سے دور لاہور میں رہتے ہیں، وہ بے چارے کیسے کراچی جانے اور وہاں رہنے کے اخراجات برداشت کریں گے۔ لہذا صوبائی حکومت کو یہ بوجھ اٹھانے کا حکم صادر کیا گیا ہے۔ عین ممکن ہے یہ تمام قانون و انصاف کے تقاضوں کے عین مطابق ہو لیکن اس فیصلہ سے انصاف کی دیوی کی وہ تصویر نگاہوں کے سامنے آجاتی ہے جس میں اس کی آنکھوں پر پٹی بندھی ہوتی ہے۔ یہ مورتی اس بات کی علامت کہی جاتی ہے کہ انصاف اندھا ہوتا ہے۔ ڈینئیل پرل کے یتیم بیٹے ، بیوہ اور بوڑھے والدین کو یقین ہوگیا ہوگا کہ انصاف واقعی اندھا ہوتا ہے۔اٹارنی جنرل خالد جاوید خان یہ استدعا لے کر سپریم کورٹ گئے تھے کہ سندھ ہائی کورٹ نے وفاقی حکومت کے نظر بندی کے اختیار پر پابندی لگاتے ہوئے اسے نوٹس نہیں دیا اور نہ ہی اس کا مؤقف سنا گیا۔ سپریم کورٹ کے جج یہ جاننے میں دلچسپی رکھتے تھے کہ وفاقی حکومت کو اس معاملہ میں فریق کیوں مانا جائے۔ کسی کی حراست کا معاملہ تو صوبائی معاملہ ہے اور سندھ کے ایڈووکیٹ جنرل سے استفسار کرلیا گیا تھا۔ جب اٹارنی جنرل نے بتایا کہ عمر شیخ معمولی مجرم نہیں ہے بلکہ دہشت گردی کا ماسٹر مائنڈ ہے اور اس کے خطرناک انتہاپسند گروہوں سے رابطےہیں تو سوال ہؤا کہ اس کا ثبوت تو فراہم نہیں کیا گیا۔ عمر شیخ پر تو صرف اغوا کا کیس ہے، دہشت گردی کا نہیں۔ اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ ہوسکتا ہے وفاق کے پاس ایسے شواہد موجود ہوں جن کی روشنی میں ان لوگوں کو قید رکھنا ضروری ہو۔ ججوں کا کہنا تھا کہ یہ ثبوت ہائی کورٹ میں پیش کرنے کے لئے سندھ حکومت کو کیوں فراہم نہیں کئے گئے؟
یہی سوال دہشت گرد عناصر کے خلاف ریاست کی ناکامی کی بنیادی وجہ ہے۔ ریاستی ادارے بلند بانگ دعوؤں کے باوجود جہادی سرگرمیوں میں ملوث لوگوں کے خلاف شواہد فراہم کرنے اور بروقت مناسب اداروں کو پہنچانے میں ناکام رہتے ہیں۔ 2002 میں ہونے والے ایک جرم کے بارے میں اگر وفاق اور صوبائی حکومت میں رابطہ وتعلق کی یہ صورت حال ہے تو یہ نظام کیسے دہشت گردوں کے خلاف اپنےمفادات کا تحفظ کرسکتا ہے؟ عمر شیخ کا معاملہ اب صرف پاکستان میں دہشت گردی کی روک تھام کے سوال تک محدود نہیں ہے۔ بلکہ سپریم کورٹ کا فیصلہ آنے کے بعد عالمی سطح پر پاکستانی ریاست کی نیک نیتی، طریقہ کار اور دہشت گردی کے بارے میں حکمت عملی کے بارے میں سنگین سوالات پیدا کرنے کا سبب بنا ہے۔ امریکی وزیر خارجہ انتھونی بلنکن نے واضح کیا ہے کہ ان کی حکومت عمر شیخ کی رہائی کو قبول نہیں کرے گی۔ سپریم کورٹ اگر زیر بحث اپیل اور رہائی کے فیصلہ کے خلاف نظر ثانی کی اپیل میں اپنے مؤقف پر قائم رہتی ہے تو اس کی قیمت امریکی ناراضی اور عالمی فورمز پر رسوائی کی صورت میں پاکستان کو بطور مملکت ادا کرنا پڑے گی۔
( بشکریہ : کاروان ۔۔ ناروے )

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker