اختصارئےعائشہ حنیفلکھاری

عائشہ حنیف کا اختصاریہ : انتظار ایک لمبا انتظار ۔۔۔

کسی کا انتظار کرنا ایک طرح سے کسی اذیت سے کم نہیں ہے بھلے ہی آپ چاہ کے انتظار کر رہے ہیں یا نا چاہتے ہوئے مگر انتظار تو کر رہے ہیں نا …..کس چیز کا کر رہے ہو انتظار ؟کیوں خود کو تکلیف دے رہے لوٹ جاؤ اس کے پاس خود ہی لوٹ جاؤ مت کرو انتظار …..یہ تمہیں دکھوں کے سوا اور کچھ نہی دے گا سولی پہ لٹکا کے رکھے گا
۔۔۔۔۔۔
مگر پھر کیا ہوتا ہے جانتے ہو؟؟؟؟؟؟
جب وہ لوٹ کے آتا ہے نا جس کا تم انتظار کر رہے تو پھر تم اپنی سب تکلیف کو بھول جاتے ہو ..بالکل اسی طرح خالق کائنات مالک دو جہاں رب ذوالجلال اپنے گناہ گار بندے کے لوٹ آنے کا انتظار کرتا ہے .تو پھر جب وہ بندہ لوٹ آتا ہے دنیا کی رنگینی اسے رسوا کر دیتی ہے تو وہ لوٹ آتا ہے …اور وہ غفور رحیم جس کی رحمت میں ہی آخر سب کو لوٹ کر آنا ہے اپنی رحمت کے صدقے اسے تھام لیتا ہے اس کے گناہوں پہ پردہ ڈال دیتا ہے اور اسے معتبر کر دیتا ہے سب کے سامنے ..وہ بھول جاتا ہے کہ اس نے کتنے گناہ کیے کس کس کے ساتھ کتنا برا کیا .وہ بھول جاتا ہے سب اس کی توبہ قبول کر لیتا ہےاور بخش دیتا ہے اسے …اس کے محبوب کی امت ہے وہ اپنے محبوب کی کسی بات کو کیسے ٹال سکتا ہے وہ محبوَب سرور کائنات سرکار دو عالم حضور اکرم نے رو رو کر التجا کی تھی میری امت ….میری امت …میری امت
تو کیسے رد کرتا وہ اپنے محبوب کی التجا کو ….اسے شرم آتی ہے کوئی اس کے در سے خالی لوٹ جائے .خالی لوٹانا اس کی شان کے خلاف ہے …….تو اے غفلت میں ڈوبے انساں جاگ ذرا اس رب کو یاد کر جس کے پاس جانا ہے تجھے .

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker