تہران : ایران کے رہبر اعلیٰ کے دفتر پر مشتمل کمپاؤنڈ پر ہفتے کی صبح ہونے والے اسرائیلی، امریکی حملے کے بعد ہی سے خامنہ ای کے زندہ یا مردہ ہونے سے متعلق مختلف رپورٹس ذرائع ابلاغ پر گردش کر رہی ہیں۔
سیٹلائٹ تصاویر میں اُن کے کمپاؤنڈ کو شدید نقصان پہنچنے کے آثار واضح دکھائی دیتے ہیں۔ کمپاؤنڈ پر حملے کے بعد ایران کی جانب سے پیش جانے والی پہلی وضاحت یہ تھی کہ انھیں (خامنہ ای) محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے۔
بعد ازاں ایرانی ذرائع ابلاغ کے ذریعے یہ خبریں سامنے آئیں کہ وہ جلد ہی سرکاری ٹیلی ویژن پر خطاب کریں گے، لیکن ایسا نہیں ہو سکا۔
سنیچر کی شام اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو نے اپنے ایک ٹیلی ویژن خطاب میں یہ جملہ استعمال کیا کہ سپریم لیڈر ’اب نہیں رہے۔‘ تاہم انھوں نے اپنے خطاب میں واضح طور پر یہ نہیں کہا کہ خامنہ ای ’ہلاک‘ ہو چکے ہیں۔
اسی دوران اسرائیلی اور امریکی میڈیا میں متعدد رپورٹس شائع ہوئیں جن میں نامعلوم سینیئر حکام کے حوالے سے خامنہ ای کی موت کے بارے میں بتایا جاتا رہا۔ مگر دوسری جانب ایرانی حکام مسلسل اس کی تردید کرتے رہے۔
ایرانی سرکاری ٹیلی ویژن کے ایک میزبان نے، خامنہ ای کا نام لیے بغیر، عوام سے کہا کہ ’دشمن کے نفسیاتی پروپیگنڈا‘ کو نظرانداز کریں۔ مگر پھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ٹروتھ سوشل پر پوسٹ دنیا کی توجہ کا مرکز بنی جس میں انھوں نے خامنہ ای کی مبینہ موت کا اعلان کیا۔
ممکن ہے کہ ایرانی حکام اس ضمن میں کسی رسمی اعلان کی تیاری کر رہے ہوں۔ یہ بھی ممکن ہے کہ ایران کی مجلسِ خبرگان پہلے ہی اجلاس کر رہی ہو یا اس کی تیاری میں ہو، کیونکہ نئے سپریم لیڈر کے انتخاب کی ذمہ داری اسی ادارے پر ہے۔
یہ واقعات بلاشبہ اسلامی جمہوریہ ایران کی پرُاشوب تاریخ اور اسرائیل و امریکہ کے ساتھ اس کے کشیدہ تعلقات میں فیصلہ کن لمحہ ثابت ہو سکتے ہیں۔
( بشکریہ : بی بی سی اردو )

