سرائیکی وسیبعلی نقویلکھاری

پانچ سو روپے کلو آم، گنجا ملتان اور بلڈنگ مافیا ۔۔ علی نقوی

گرد، گرما گدا و گورستان ملتان کی پہچان بتائی جاتی ہے ۔ اگر کوئی پانچویں پہچان بتانا چاہے تو وہ ملتان کے آم ہوسکتے ہیں، آم ہمارے یہاں صرف ایک پھل ہی نہیں بلکہ ایک ثقافتی حوالہ ہے۔ دنیا بھر میں ملتان اور شجاع آباد کا آم سونے نہیں ہیرے کے بھاؤ بکتا ہےاور ایک اندازے کے مطابق پاکستان سے کل ملا کر جتنا پھل برآمد ہوتا ہے اکیلا آم اس تمام کا تین گنا ہے اور قیمت میں پانچ گنا۔ باقی علاقوں کے بارے میں تو شاید میں کچھ نہ کہہ سکوں لیکن ملتان اور شجاع آباد میں ایک انتہائی درد ناک صورتحال ہے۔ جس رفتار سے آم کے باغات کاٹے جا رہے ہیں اس کو دیکھ کر یہ محسوس ہوتا ہے کہ شاید ہم نے یہ طے کر لیا ہے کہ آم کو ناپید کر دیا جائے۔
ذرا ملتان کی بات کرتے ہیں ، میری پیدائش 80 کی دہائی کے وسط کی ہے ہماری رہائش بوسن روڈ پر ہے پورا بچپن اور آدھی جوانی (آدھی ابھی باقی ہے ) بوسن روڈ کی خاک چھانتے اور چوڑائی ناپتے گزری ہے ۔ میں اکثر اپنے کم عمر دوستوں کو یہ بتاتا ہوں کہ آج بوسن روڈ کے بیچوں بیچ جو میاں شہباز شریف کی عظمت کے ستونوں پر کھڑا میٹرو کا پل ہے ہمارے بچپن میں پوری بوسن روڈ اتنی چوڑی ہوا کرتی تھی۔ گورنمنٹ ایمرسن کالج کے سامنے بوسن روڈ کے دونوں کناروں پر موجود درخت اتنے گھنے تھے کہ وہ سڑک کے اوپر ایک دوسرے سے مل جاتے تھے اور کئی لوگوں سے سنا کہ ان پر اوپر درختوں سے سانپ بھی گرے، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بوسن روڈ چوڑی اور گنجی ہوتی گئی اور آج یہ صورت حال ہے کہ سایہ بس میٹرو کا پُل فراہم کر رہا ہے ۔ یہ بات حکمرانوں کے فہم سے پرے ہے کہ ملتان جو کہ اپنی گرم آب و ہوا کے لیے مشہور یا بدنام ہے وہاں کنکریٹ اور لوہے کے جال سے بنے چھ سو پلرز جب آدھے ملتان کو چیرتے ہوئے گزریں گے تو وہ کیا تباہی لائیں گے؟ اگر کبھی آپ بذریعہ جہاز ملتان تشریف لائیں تو آپ کو اندازہ ہوگا کہ ملتان میں کنکریٹ سے بنی عمارتوں ، پانی کی نیلی ٹینکیوں اور چٹیل میدانوں کے سوا کچھ نہیں دکھائی دیتا ۔ میری بچپن کی یادوں میں سے ایک یاد بہت خوشگوار ہے کہ جب گرمیوں کی چھٹیاں ہوتی تھیں تو ہم دوست سارا دن آم کے باغات میں گزار دیتے اور شام ہوتے ہی فالسے کے باغات میں موجود جگنوؤں کی روشنی میں فالسے کھاتے تھے جب ذرا بڑے ہوئے تو بسوں کی چھتوں پر چڑھ کر بوسن روڈ کے آخری سرے سے ملحقہ علاقوں میں کرکٹ کھیلنے جاتے اور واپسی پر ڈھیر ساری املیاں توڑ کر لاتے تھے۔ آج جہاں بائی پاس چوک ہے اس سے آگے باغات شروع ہوجاتے تھے اور ختم کہاں ہوتے تھے معلوم نہیں، پھر کچھ یوں ہوا گرمی کے دونوں میں آخری جائے امان بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی بچ گئی کہ جہاں کا درجہ حرارت ہمیشہ شہر کی نسبت چار پانچ ڈگری کم رہتا تھا۔ ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے عقب سے درختوں کا سلسلہ شروع ہو جاتا تھا، یونیورسٹی میں ایک اچھا خاصا گھنا جنگل میں نے خود اپنی آنکھوں سے دیکھا اور ہماری آنکھوں کے سامنے ہی وہ جنگل سکڑنا شروع ہوا اور عمارتوں پر عمارتیں بنتی گئیں، سائیکالوجی وہ پہلا ڈیپارٹمنٹ تھا جو ہمارے سامنے بننا شروع ہوا اس کے بعد تو جیسے لائن لگ گئی ٹھیکے داروں اور وائس چانسلرز نے عمارتیں بھی بنائیں اور درخت بھی بیچے، سب سے زیادہ دکھ تب ہوا جب حضرت پرویز مشرف کی آمد کی وجہ سے بڑے پیمانے پر جنگل کو کاٹ کر پنڈال بنایا گیا ۔بلاسٹ پروف سٹیج کی تیاری ہم نے ان آنکھوں سے دیکھی یہ کانووکیشن کا موقع تھا میں خود اس تقریب کے رضا کاروں میں شامل تھا کئی دن تک ریہرسلز ہوتی رہیں اولڈ سٹوڈنٹس دوسرے شہروں سے ملتان آ آکر خوار ہوتے رہے، ہوسٹل خالی کرا دئیے گئے جب ایونٹ کا شیڈول جاری ہوا تو پتہ چلا کہ صدر مملکت صرف آدھے گھنٹے کے لیے تشریف لائیں گے، پی ایچ ڈی کی اسناد تقسیم فرمائیں گے تقریر کریں گے اور گرانٹ کا اعلان کر کے واپس چلے جائیں گے ۔باقی تقسیم اسناد اور ڈرامہ بازی گورنر خالد مقبول کریں گے ۔ اللہ کی کرنی یہ ہوئی کہ بارش نے سب تہس نہس کردیا اور ایونٹ ہو ہی نہیں سکا لیکن یونیورسٹی ایک ہفتہ بند رہی یونیورسٹی کے کونے کونے کو جاسوس کتوں نے سونگھا یہاں تک کہ ہاسٹل کے کمروں اور پروفیسروں کے گھروں کو بھی ۔ یونیورسٹی کے کروڑوں روپے برباد ہوئے اور ایکڑوں پر محیط جنگل اس پاگل پن کی نظر ہوگیا۔آج آپ یونیورسٹی جائیں تو خال خال درخت آپکو رو رو کر بتاتے ہیں کہ انکے ساتھیوں پر کیا بیتی۔
ہمارے استاد نے ہمیں بتایا کہ انسان کو درپیش مسائل کا حل وہ بتا سکتا ہے جو پودوں اور جانوروں کے مسائل کو سمجھنے کی صلاحیت رکھتا ہو میں نے ابھی آپ کے سامنے بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی کو ایک کیس سٹڈی کے طور پر پیش کیا یہی حال ہمارے ہر ادارے کا ہے ہمارے مقتدر حلقے مجرمانہ حد تک بےحس لوگوں پر مشتمل ہیں ایک مثال پیش کرتا ہوں ملتان سے پندرہ کلومیٹر کے فاصلے پر ہیڈ محمد والا کے اردگرد ایک عظیم صحرا ہے جس کو تھل کہا جاتا ہے یہ صحرا اتنا وسیع ہے کہ اگر آپ ہیڈ محمد والا کو ایک پوائنٹ مان لیں تو ایک طرف یہ صحرا بھکر، چوک اعظم سے ہوتا ہوا ڈی آئی خان تک جاتا ہے اور دوسری طرف ڈی جی خان سے ہوتا ہوا بلوچستان میں داخل ہو جاتا ہے ۔ لیکن جب بھی کسی سرکاری، نجی یا عسکری ٹھیکے دار کو ہاؤسنگ سوسائٹی بنانے کا خیال آتا ہے وہ اس طرف کا رخ نہیں کرتا بلکہ اس کی نظر ملتان اور شجاع آباد میں موجود آم کے گھنے باغات پر ہوتی ہے۔ ملتان میں بننے والے تمام بڑے پراجیکٹس دریا کے اس طرف ہیں جہاں کی زمین انتہائی زرخیز ہے کچھ سوسائیٹیز تو ایسی بھی ہیں کہ جن کا نام لکھنا اور چھاپنا خطرے سے خالی نہیں۔
آج پوری دنیا گلوبل وارمنگ کے ہاتھوں تنگ ہے آج ہم یہ پڑھ رہے ہیں کہ دو ہزار پچیس میں پاکستان کا زیر زمین پانی ختم ہو جائے گا آج یہ مہم چلائی جا رہی ہے کہ چودہ اگست پر جھنڈیوں کے بجائے درخت لگائیں ۔لیکن اصل ماحول دشمنوں کی نشاندہی کوئی نہیں کرتا کوئی نہیں پوچھتا کہ ہر ایم پی اے ہر ایم این اے ہر گورنر ہاوسنگ سوسائٹی ہی کیوں بنا رہا ہے اور اگر بنا بھی رہا ہے تو اس کی نظر انتخاب صرف زرعی زمین پر ہی کیوں ٹھہرتی ہے؟ کیوں پارلیمنٹ اس طرح کا کوئی بل منظور نہیں کرتی کہ زرخیز زمین پر رہائشی یا کمرشل منصوبے نہیں بن سکتے، نہ ہی کسی چیف جسٹس کی توجہ اس طرف مبذول کرائی جاتی ہے، ہم کتنے ظالم، بے حس اور نسل کُش لوگ ہیں کہ ہماری آنکھوں کے سامنے دریائے راوی دریا سے نالے اور نالے سے گزر گاہ میں تبدیل ہوگیا لیکن بحریہ ٹاؤن اور ڈی ایچ اے کے دس فیزز کی چکا چوند نے ہماری آنکھوں کو اسُ طرف دیکھنے ہی نہیں دیا اور آج عالم یہ ہے کہ لاہور میں نو مہینے گرمی پڑتی ہے اور باقی کے تین مہینے سموگ کا راج رہتا ہے، کراچی جوکہ اپنے معتدل موسم کی وجہ سے مشہور تھا ہیٹ ویو کے شکنجے میں پھنس چکا ہے اور عنقریب چشمِ فلک وہ نظارہ بھی دیکھے گی کہ جب ملتان کے کسی چوک میں کوئی آم بیچنے والا یہ آواز لگا رہا ہو گا کہ آم پانچ سو روپے کلو۔۔

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker