علی نقویکالملکھاری

مرد دراصل نا مرد ہوتا ہے : یوم ِ خواتین پر علی نقوی کا مردانہ کالم

مارچ کا مہینہ شروع ہوتا ہے تو خلیل الرحمٰن قمر، اوریا مقبول جان ،انصار عباسی کے ماننے والوں کے پیٹ میں وہ درد شروع ہوتا ہے کہ جو کسی دوائی سے ٹھیک نہیں ہوتا تین مارچ کا دن تھا ایک انتہائی پیارے دوست نے ایک روٹین کی ملاقات میں ارشاد فرمایا کہ ہو رہا ہے پھر “میرا جسم میری مرضی” ؟؟ میں ہنس دیا اور کہا کہ ہو رہا ہو گا مجھے نہیں معلوم نہ تو میں کوئی فیمینسٹ ہوں نہ ہی ایکٹیوسٹ ( یہ اور بات ہے کہ میں اس سال ملتان میں ایک عورت کنونشن کرانا چاہتا تھا لیکن ممکن نہ ہو سکا انشاءاللہ اگلے سال پوری شد و مد سے اس کے لیے کوشش کروں گا) مگر میرے دوست صاحب عورتوں کے دن کے حوالے سے بات کرنے پر چونکہ تُلے ہوئے تھے اس لیے انہوں نے کہا کہ میرا جسم میری مرضی اصل میں عورتوں کا نہیں بلکہ “گشتیوں” کا نعرہ ہے وہ عورتیں جنہیں آگ لگی ہوتی ہے، جن کا ایک مرد سے گزارا نہیں ہوتا، یہ مطالبہ ان کا ہے کہ جن کو منہ مارنے کی آزادی چاہیے وغیرہ وغیرہ…
چونکہ یہ تمام اعتراضات میں گزشتہ پندرہ سال سے سن رہا ہوں تو اب ان پر غصہ آنا بند ہو گیا ہے اب تو کوفت بھی نہیں ہوتی، گزشتہ برس جب خلیل الرحمٰن قمر اور ماروی سرمد آپس میں بھڑے تھے تب میں نے کہا تھا کہ مجھے خلیل الرحمٰن اور ماروی دونوں کی باتیں سن کر وحشت ہوتی ہے میری نظر میں یہ دونوں ہی ایک جیسے ہیں یعنی بدتمیز، بد لحاظ، بدزبان اور جاہل…
سوچا کہ کیوں نہ آج اس پر بات کی جائے کہ مر اور عورت دونوں میں سے کون سی صنف ہے کہ جس کے لیے جنسی تعلقات زیادہ اہمیت رکھتے ہیں؟؟ مرد اور عورت میں سے کون ہے کہ جس کے سر پر سیکس زیادہ سوار رہتا ہے؟؟ ایک جملے میں تو اس کا جواب ہے مرد، مرد اور صرف مرد، لیکن آئیے اس سب کو ذرا تفصیل سے دیکھتے ہیں…
استادوں کے استاد استاذی خالد سعید کے ایک جملے سے بات شروع کرتا ہوں کہ جو انہوں نے گول باغ کے پٹھان ہوٹل پر بیٹھے ہوئے چائے کے گھونٹ اور سگریٹ کے کش کے درمیانی وقفے میں کہا تھا کہ “مرد دراصل نا مرد ہوتا ہے” اس جملے کو سن کر ہمارے ایک نسبتاً زیادہ مردانگی کا دعویٰ کرنے والے دوست نے اپنی مردانگی کا دورانیہ یا ”بیانیہ“ بتایا تو استاذی نے دوبارہ فرمایا کہ “یہ بھی نا مردی ہے”
خالد سعید صاحب کے اس ایک جملے نے مجھے مرد کا عورت کی طرف روا رکھا جانے والا رویہ پوری طرح سمجھا دیا تھا، کہ ایک شوہر اپنی بیوی کو مارتا کیوں ہے؟؟ ایک بھائی اپنی بہن کو جائیداد میں حصہ کیوں نہیں دیتا؟ کیوں ایک باپ اپنی بیٹی کو پڑھنے نہیں دیتا؟؟ ایک ناکام عاشق اپنی محبوبہ کے چہرے پر تیزاب کیوں پھینکتا ہے؟؟ کیوں ایک مرد اپنی باصلاحیت خوش شکل فیمیل کولیگ کو گشتی اور رنڈی کہتا ہے؟؟ کیوں یہ معاشرہ کسی بھی عورت کی ترقی کو اس کی بدکرداری سے تعبیر کرتا ہے؟؟ کیوں ایک مولوی قدرتی آفات کو عورت کے کپڑوں سے جوڑتا ہے؟؟ ان سب سوالات کا جواب استاد کے ایک مذ اق میں کہے ہوئے جملے نے مجھے دے دیا کہ واقعی “مرد دراصل نا مرد ہوتا ہے”
مردانگی تو یہ ہے کہ اپنی جائیداد بھی بہن پر وار دے، اپنی بیٹی کو وہی حقوق دے جو بیٹے کو دئیے تھے، اگر کوئی مرد ہو تو کبھی کسی عورت کو گشتی، رنڈی، ویشیا، رانڈ نہ کہے یہ بظاہر مرد کے اندر کی وہ نا مردی ہے جو اس کو یہ سب کرنے پر اس لیے مجبور کرتی ہے کہ شاید اس سب سے وہ مرد ثابت ہو جائے عورت پر ہاتھ اٹھا کر، اس کی جائیداد ہڑپ کر، اس کی تعلیم کا حق مار کر، اس کو بد کردار ثابت کر کے، اس کی تضحیک کر کے، اس کے ساتھ جنسی زیادتی کر کے، اس کا گلا گھونٹ کے، اس کے منہ پر تیزاب پھینک کر مرد یہی ثابت کرتا ہے کہ وہ “دراصل نا مرد ہے”
باقی رہ گئی جنس کی بات تو یہ تو اب سائنس نے ثابت کر دیا کہ مرد کے بس کی بات ہی نہیں کہ وہ ایک عورت کو پوری طرح جنسی تسکین پہنچا سکے ، میں پورے وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ دنیا میں کوئی ایسی عورت نہیں ہوگی کہ جو اس اختلاط پر مطمئن ہو سکے یہ آسانی بھی قدرت نے صرف مرد کے نصیب میں لکھی ہے کہ جو اپنی فراغت کا سارا غصہ کبھی مار پیٹ کر نکالتا ہے تو کبھی جائیداد ہڑپ کر، کبھی قرآن سے بہن کی شادی کرا کر، تو کبھی تیرہ سال کی لڑکی والد صاحب کے وٹے میں دے کر تو کبھی جان سے مار کر….
ایک دوست جو کہ لٹریچر کے طالب علم رہے ہیں کہنے لگے کہ کہاں ہے صنفی امتیاز؟؟ میں نے کہا کہ اگر میں صنفی امتیاز پر بولنا شروع کروں تو رات بیت جائے باقی چھوڑیں ایک مثال وہ بھی لٹریچر سے وہ بھی مغربی لٹریچر سے انگریزی زبان میں ایک ٹرم ہے (ننفو مینیایک) Nymphomaniac اس کا مطلب ہے کہ ایک ایسی عورت کہ جس میں سیکس کی نا قابلِ برداشت خواہش ہو یعنی وہ خواہش اس کے قابو سے بھی باہر ہو ایسی عورت کے لیے انگریزی زبان میں ایک پوری ٹرم وضع کی گئ ہے لیکن ایسے مرد کو ایکسپلین کرنے کے لیے انگریزی زبان با لکل خاموش ہے ایسا کیوں ہے؟؟ میری نظر میں اس کا سیدھا سا جواب ہے 2018 کی Yale یونیورسٹی کی ایک سڈی کے مطابق 76.8 فیصد مرد دنیا میں وہ ہیں کہ جو اپنی جنسی تسکین کے لیے جرائم تک کر سکتے ہیں، اور دنیا کے کُل مردوں کا 89.6 فیصد وہ ہے کہ جس کے قابو میں اس کی جنسی خواہش نہیں ہے، جبکہ وہی سڈی کہتی ہے کہ عورتوں کی کُل آبادی کا صرف ایک فیصد Nymphomaniac ہوتی ہیں، جب یہ پڑھا تو سمجھ آئی کہ اتنی بڑی تعداد کے لیے کسی ٹرم کا وضع کرنا مشکل ہی کہ نا ممکن ہے یعنی کُل ملا کا بات یہ ہے کہ دنیا ہر سو میں سے 89.6 مرد Nymphomaniac ہوتے ہیں….
میری ذاتی رائے میں انسان ارزل المخلوقات ہے اور انسان میں مرد ارزل ہے افضل عورت ہے کیونکہ وہی ہے جو پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے، وہی ہے جو پالنے کی صلاحیت رکھتی ہے، وہی ہے جو تمام نا قدری کے باوجود التجا سن سکتی ہے اور حاجت روائی کر سکتی ہے اسی مرد کی کہ جو اسکے حقوق غصب کرتا ہے، جو اسکا جسم بھنبھوڑ کر تسکین لیتا ہے، جس نے کبھی کسی عورت کی ناف سے اپنا رزق کھینچا تھا، جس نے کبھی اسکے پستانوں سے زندگی اپنے اندر اتاری تھی…. یہ وہ صلاحیت ہے جو اسکو اسکے خالق سے ساتھ لا کھڑا کرتی ہے کیونکہ خالق نے اپنے بعد اگر کسی کو پیدا کرنے، پالنے، اور نا قدری کے باوجود ناراض نہ ہونے کی صلاحیت دی تو وہ مادہ تھی نہ کہ نر، کیا آپ جانتے ہیں کہ جانوروں میں وہ کون سا جانور ہے کہ جس کے Intercourse کا دورانیہ سب کم ہے؟؟ آپ کو شاید پڑھ کر حیرت ہو وہ ہے “شیر” سائنس کہتی ہے کہ شیر کی اوسط ٹائمنگ دس سیکنڈ ہے لیکن ہمارے یہاں کسی کو بہادر کہنا ہو تو کہتے ہیں کہ یہ “شیر کا بچہ” یا “نر کا بچہ ہے” یعنی مختصراً کہا جا سکتا ہے کہ نا مرد کی پراڈکٹ ہے…. مرد کی کیا اوقات کہ وہ عورت کی مرضی کا ایک جنسی اختلاط کر سکے، وہ اس تکلیف کو برداشت کر سکے کہ جو ایک بچہ جننے کے دوران ایک عورت برداشت کرتی ہے ہماری ایک دوست کہا کرتی ہیں کہ حمل چھوڑو ایک ماہواری گزار کر دکھاؤ تم مرد تو ہم عورتیں تم مردوں کے پاؤں دھو دھو کر پئیں, قدرت نے عورت اور مرد اس لیے بنائے تھے کہ یہ کائنات میں تناسب کی علامت بنیں گے لیکن مرد نے حرم بنانے شروع کر دئیے، جس طرح اس نے بھیڑ اور بکری کو مال سمجھا اسی طرح اسنے عورت کو بھی مال سمجھا، جس طرح اس نے اجناس بیچیں اسی طرح اس نے عورت بازار لگائے تبھی ساحر لدھیانوی نے کہا
عورت نے جنم دیا مردوں کو
مردوں نے اسُے بازار دیا
جب جی چاہا مًسلا کچُلا
جب جی چاہا دھتکار دیا
جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ کہاں ہے عورت کے ساتھ ہونے والی زیادتی تو ان سے سوال ہے کہ کس عورت کا حرم آپ نے دیکھا؟؟ کیا کبھی دیکھا کہ کسی عورت کے کسی راہ جاتے مرد پر تیزاب پھینک دیا ہو؟؟ کیوں ہر کیس میں ریپسٹ مرد نکلتا ہے؟؟ کیوں آج تک کوئی مرد اس خوف سے نہیں گزرا کہ جس سے ایک عورت ہر روز صبح شام اپنے ہی گھر میں، سکول میں، بازار میں، بس میں، ٹرین میں، آفس میں گزرتی ہے اسکی صرف ایک وجہ ہے کہ یہ معاشرہ مرد نے مردوں سے مردوں کے لیے بنوایا ہے، جس میں موجودہ ہر چیز کو وہ ہر اس کام کے لیے استعمال کرے گا جس سے اس کو تسکین ملتی ہو عورت کا دودھ اپنے بچے کے لیے دوھ لے گا اور اگر کچھ اور نہ ملے تو بکری، بلی، گدھی، کتیا سے جنسی تسکین بھی پوری کر لے گا یہ سب ایک عورت نہیں کرتی کیونکہ اس کو قدرت نے کائنات کے لیے خود بنایا ہے اور اس کے قدموں تلے اسُ مرد کے لیے بھی جنت رکھ دی ہے کہ جس نے اس دنیا کو اس کے لیے جہنم بنا رکھا ہے…..

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker