بچپن میں مجھے شاعروں سے ملنے کا بہت شوق تھا۔ محسن نقوی باباجی (میرے والد) کے دوستوں میں سے تھے۔ ایک رات وه ہمارے دروازے پر گھنٹی بجاتے رہے اور کسی نے دروازه نہ کھولا۔ آخرکار وه تھک ہار کر لوٹ گئے۔ اگلے دن باباجی لاہور سے آئے تو انہوں نے بتایا کہ کل رات ہمارے دروازے پر محسن نقوی آئے تھے۔ میں اس دن بہت پچھتایا کیونکہ جب بیل ہو رہی تھی، میں سن رہا تھا۔ لیکن چونکہ میں پڑھ رہا تھا اس لیے اٹھ کر نہ جا سکا۔ بدقسمتی سے شدید ترین خواہش کے باوجود میری محسن نقوی سے کبھی ملاقات نہ ہو سکی۔ میں نے ان کی کچھ مجالس ضرور سنیں۔ وہ اعلٰی پائے کے مقرر اور زود گو شاعر تھے۔
باباجی کے کچھ اور دوستوں میں قمر رضا شهزاد، رضا ٹوانہ، لطیف ساحل اور ضیغم شمیروی شامل تھے۔ لیکن میرے بچپن میں باباجی نے کبھی مجھے ان شعراء سے نہیں ملوایا۔ یہ مجھے بڑے ہو کر پتا چلا کہ انہوں نے ایسا کیوں کیا۔
شاعری پڑھنے اور کرنے کا شوق مجھے بچپن سے تھا۔ قمر رضا بھائی کی "پیاس بھرا مشکیزه” جو انہوں نے اپنے دستخط کے ساتھ باباجی کو دی تھی مجھے زبانی یاد تھی۔
سبھی کو برسر پیکار مت کر
یہ میرا شہر ہے مسمار مت کر
محبت تیرا میرا مسئلہ ہے
زمانے کو شریک کار مت کر
(قمر رضا شہزاد)
رضا ٹوانہ کی بھی ایک چھوٹی سی کتاب کے بہت سے شعر مجھے یاد تھے۔
میں رضائے حسین تھا آخر، سامنے کچھ یزید ثانی تھے
خواہشوں نے شہید ہونا تھا، زندگی کربلا تو ہونی تھی
انہونی جو بات ہے اس کو آج تو ہونا کر دے
میرے گھر کی مٹی کو اے مالک سونا کر دے
گھر جانا ہے میرے بچے پھر مجھ سے کچھ مانگیں گے
تو میرے خاموش بدن کو آج کھلونا کر دے
(رضا ٹوانہ)
1992 میں ایف ایس سی کے دوران ضیغم شمیروی سے میری ملاقات ہوئی۔ وہ بحیثیت ایک شاعر نہیں بلکہ ایک استاد کے طور پر مجھ سے ملے۔ میں دوستوں کے ساتھ ان کے گھر اردو پڑھنے جاتا تھا۔ باتوں باتوں میں میری واقفیت ان کے سوشلسٹ سیاسی نظریات سے بھی ہوئی اور میں نے ان سے ان نظریات کے بارے میں بہت کچھ سیکھا۔ وه میرے بچپن کے بہترین اساتذه میں سے ایک تھے۔ ضیغم صاحب چاہتے تھے کہ نوجوان رومان سے دور رہیں اور "بامقصد” ادب پڑھیں لیکن وہ رومانوی شاعری ہمیں بہت لطف لے کر پڑھایا کرتے تھے۔ انہوں نے غالب، اقبال، مجید امجد اور دوسرے نصابی شاعروں اور ادیبوں کے بارے میں ہمیں کچھ فارمولے بتائے اور گارنٹی دی کہ ان فارمولوں کے استعمال سے ہم بآسانی اردو میں ستر فیصد نمبر حاصل کر سکتے ہیں اور ایسا ہی ہوا، ہم سب دوستوں نے اردو کے امتحان میں کامیابی کے جھنڈے گاڑ دیے۔
میرے والد صاحب نے گھر پر مجھے شاعری پڑھنے سے کبھی نہیں روکا لیکن خود شاعری کرنے کی حوصلہ افزائی نہیں کی۔ وہ مجھے میرے اشعار پر داد نہیں دیتے تھے جس سے میں مایوس ہو جاتا تھا۔ میں نے باباجی کی لائبریری میں موجود غالب، فیض، مجید امجد، فراز، امجد اسلام امجد، پروین شاکر، قتیل شفائی اور منیر نیازی وغیره کی شاعری پڑھی۔
باباجی نے بچپن میں مجھے شاعری کیوں نہ کرنے دی اور شعراء سے کیوں نہ ملنے دیا اس کا ادراک مجھے اس وقت ہوا جب میں شعراء سے ملا۔ ایک مرتبہ لاہور کے ایک مقامی شاعر عرفان صادق صاحب نے ایک گفتگو کے دوران فرمایا کہ شعراء کو صرف پڑھنا چاہیے، ان سے مل کر آپ اکثر سخت مایوس ہوتے ہیں۔ بدقسمتی سے شاعروں کی اکثریت ادبی سیاست کا شکار ہوتی ہے۔ ادبی سیاست شعراء میں ہمیشہ سے موجود رہی ہے، جیسا کہ انیس و دبیر اور غالب اور ذوق وغیره کے درمیان مخاصمت ہوا کرتی تھی۔ بعض اوقات اس سیاست کے دوران شعراء ایسی حرکات کر گزرتے ہیں جن سے کراہت محسوس ہوتی ہے. شاعروں کی محفل میں ہمیں علمی گفتگو کم اور جگت بازی زیاده دیکھنے کو ملتی ہے۔
ان دنوں ہم بہت سے نوجوان شعراء کو مختلف لابیز میں متحرک دیکھ رہے ہیں ۔ ان سے میری گزارش ہے کہ وه یہ سب چھوڑ کر پہلے اپنی تعلیم پر توجہ دیں۔ شاعری ضرور کریں اور اس کا مطالعہ بھی کریں لیکن دوران تعلیم شاعر نامی مخلوق اور مشاعروں سے فاصلے پر رہیں۔ ہم نے دیکھا ہے کہ کچھ نوجوان ذہنی ناپختگی کی وجہ سے منفی رجحانات کی طرف راغب ہو جاتے ہیں۔ وہ مایوسی اور ذہنی دباؤ کا شکار ہو جاتے ہیں، منشیات استعمال کرنے لگتے ہیں اور بعض اوقات خودکشی بھی کر گزرتے ہیں۔ نوجوان شاعروں کو معاشرتی برائیوں کا شکار ہونے کی بجائے ادب کے ذریعے معاشرے کو بدلنے کی ضرورت ہے بلکہ یہ ان کی ذمہ داری ہے۔
فیس بک کمینٹ

