علی سخن ورکالملکھاری

مرے زوال کا منظر،مرا نصیب نہیں : تلاشِ گم شدہ / علی سخن ور

پاکستان کی بدحالی ،ابتر ی ، لاقانونیت اورعدم استحکام کی کہانیاں سنانے والے کسی دور میں بھی کم نہیں رہے۔پاکستان کے ٹوٹنے اور ڈوبنے کی من گھڑت داستانیں سنا کر لوگوں کو خوفزدہ کرنا بعض لوگوں کا مشغلہ بھی ہے اور بعض کا پیشہ بھی۔شاید ایسے لوگ اس مقولے کو عملی صورت میں دیکھنے کے خواہاں ہوں کہ جو ڈر گیا وہ مر گیا لیکن ایسے احمقوں کو اس بات کا بالکل بھی اندازہ نہیں کہ بیس بائیس کروڑ پاکستانیوں میں سے کوئی ایک بھی ایسا نہیں جو اس طرح کے مداریوں کی باتوں میں آکر ڈر جائے۔پاکستانی بھی عجیب قوم ہیں کہ انہیں نہ تو کبھی بین الاقوامی سازشی عناصر نقصان پہنچا سکے نہ ہی بڑی بڑی قدرتی آفات۔یہ تو وہ قوم ہے جس کی رگوں میں ان دلیر شیروں کی داستانیں لہو بن کر دوڑتی ہیں کہ جو بارود برساتے ٹینکوں کے سامنے پہاڑ بن کر کھڑے ہوجاتے ہیں۔پاکستان وہ سورج ہے جس کے زوال کا منظر بدخواہوں کے لیے ہمیشہ ایک خواب رہے گا۔افغانستان سے لے کر بھارت تک اور پھرامریکا سے لے کر اسرائیل تک، پاکستان کو مٹانے کی منصوبہ بندی کے لیے نہ جانے کتنے افلاطون آج بھی سر جوڑے اپنا وقت ضائع کرنے میں مصروف ہیں لیکن نہ تو انہیں کبھی پہلے کامیابی ہوئی نہ ہی آئندہ کبھی ہوسکے گی۔ پاکستان کی ترقی اور کامیابی سے خوفزدگی کی ایک تازہ ترین مثال حال ہی میں ممبئی سے شائع ہونے والے ایک پمفلٹ کی صورت میں سامنے آئی ہے۔ تفصیلات کے مطابق فیڈریشن آف ویسٹرن انڈیا سینما ایمپلائیز نے ایک اجلاس میں فیصلہ کیا ہے کہ آئندہ پاکستان سے تعلق رکھنے والے کسی بھی گلوکار، اداکار، رائٹر حتی کہ ٹیکنیشن کو بھی بھارتی فلموں اور ڈراموں میں کام کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ پمفلٹ کے مندرجات کے مطابق یہ فیصلہ پاکستان سے اظہار نفرت اور اپنی فوج سے محبت کے اعتراف میں کیا گیا ہے۔ فیڈریشن کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ پاکستان ہمارے سینکڑوں فوجیوں کے قتل عام کا ذمے دار ہے، ہم اپنے فوجیوں کے گلے کاٹنے والوں سے کوئی رابطہ رکھنے کے حق میں نہیں۔عہدے داروں کا کہنا ہے کہ ہماری نظر میں ’ سب سے پہلے ہندوستان‘ کا اصول سب سے مقدم ہے۔ فیڈریشن آف ویسٹرن انڈیا سینما ایمپلائیز کا یہ اقدام کس حد تک قابل عمل ہوگا ، اس بارے میں کچھ بھی کہنا قبل از وقت شمار ہوگا کیونکہ پچھلی کئی دہائیوں سے پاکستانی اداکاروں اور گلوکاروں نے بھارتی فلم انڈسٹری میں اپنی صلاحیتوں کی بنیاد پر جس طرح اپنے ملک کا نام روشن کیا ہے ہو بحرحال اپنی مثال آپ ہے۔ آج کسی بھی بھارتی فلم میں پاکستانی فنکاروں کی موجودگی کامیابی کی ضمانت سمجھی جاتی ہے۔معلوم نہیں مذکورہ فیڈریشن اپنے اس احمقانہ فیصلے کے بعد ان گیتوں کے ساتھ کیا سلوک کرے گی جو استاد نصرت فتح علی خان، راحت فتح علی خان اور عاطف اسلم جیسے نابغہ روزگار فنکاروں نے گائے اور ان گیتوں کے طفیل بھارت نے دنیا بھر میں نام کمایا۔یہاں یہ حقیقت بھی پیش نظر رہنی چاہیے کہ ماضی میں کچھ بھارتی اداکار بھی پاکستانی فلموں میں اپنے فن کا مظاہرہ کرتے رہے ہیں لیکن ان کی بدقسمتی کہ وہ فلمیں کسی بھی حوالے سے اپنا نام نہیں بنا سکیں جن میں ان اداکاروں نے کام کیا تھا۔تاہم فیڈریشن آف ویسٹرن انڈیا سینما ایمپلائیز کا مذکورہ فیصلہ ہمارے موجودہ الیکٹرانک میڈیا ہاﺅسز ، فلم میکرز اور ایڈورٹائزنگ ایجنسیوں کو ایک بہت بڑا سا آئینہ ضرور دکھاتا ہے اور یقینا ہمارے کیبل آپریٹرز کے لیے بھی اس فیصلے کے ذریعے سوچنے سمجھنے کو بہت کچھ موجود ہے۔اگر بھارت میں ’سب سے پہلے ہندوستان‘ کے نعرے کو راہنما اصول قرار دیا جاسکتا ہے تو پھر ہمارے لیے ’ سب سے پہلے پاکستان‘ کیوں نہیں۔کیا ہمارے فوجی بھارت کی بلا اشتعال گولہ باری سے شہید نہیں ہوتے، کیا بھارت کی وحشیانہ فائرنگ سے ہر روز لائن آف کنٹرول پر پاکستانی علاقے میں بے گناہ شہری جاں بحق نہیں ہوتے، کیا ان معصوم بچوں کے خون کی کوئی حیثیت نہیں جو اپنی سکول وین میں بھارت کی جانب سے پھینکے جانے والے بارودی گولوں کا شکار ہوکر راکھ بن گئے۔ کیا ان پولیس ملازمین کی زندگی کی کوئی حیثیت نہیں جو بھارت کے پروردہ دہشت گردوں کی کارروائیوں کا شکار ہوتے ہیں۔ یقینا یہ صورت حال ہماری طرف سے ایک منہ توڑ جواب کی متقاضی ہے۔ ہم مظلوم ہیں لیکن ہمارے ساتھ سلوک ظالموں والا کیا جارہا ہے، صرف اس لیے لہ ہم ظلم کا جواب دینے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ہماری اس سے بڑی بے بسی اور کیا ہوگی کہ ہمارے ٹی وی چینلز پر آج بھی ایسے بہت سے اشتہار چل رہے ہیں جن میں بھارتی اداکاروں کے چہرے دکھائی دیتے ہیں،ہمارے ہاں شہروں کے درمیان چلنے والی بسوں میں آج بھی بھارتی فلمیں دکھائی جاتی ہیں۔ ہمیں اس سلسلے کو روکنا ہوگا۔
ہم اپنی ساری قوت پیار محبت کے گیت گانے میں ضائع کر رہے ہیں جبکہ ہمارے بدخواہ ہماری پیٹھ میں چھرا گھونپنے کا کوئی ایک بھی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔ سنہ 2016 کی طرح 2017میں بھی اکتوبر کے مہینے میں لندن میں SAATHکانفرنس کا انعقاد ہوا۔ کچھ لوگ اس نام کو SAARC سمجھ بیٹھتے ہیں لیکن نام کا سارک سے کوئی تعلق نہیں۔South Asians Against Terrorism and Human Rights سوچ بچار کے لیے بنائے گئے ایک فورم کا نام ہے جو جنوب ایشیائی ممالک میں انسانی حقوق کی پامالی کے حوالے سے صورت حال پر نظر رکھنے کا دعوی کرتاہے۔ اس فورم کے اب تک دو سالانہ اجلاس ہوئے ہیں اور دونوں بار ہی موضوع گفتگو صرف اور صرف پاکستان ہی رہا۔دوسرے سال کی کانفرنس میں بھی پاکستان کے چند ’ پرانے دوستوں‘ نے پاکستان میں انسانی حقوق کی پامالی پر شدید افسوس کا اظہار کرتے ہوئے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا۔ ہم سب کے راج دلارے حسین حقانی صاحب بھی شریک محفل تھے اور ان کے علاوہ براہمداخ بگتی اور احمر مستی خان نے بھی پاکستان کے دیگر ’ خیر خواہوں‘ کے ساتھ پاکستان میں انسانی حقوق کی پامالی پر جی کھول کر بولا۔ مقررین کا کہنا تھا کہ پاکستان کی وفاقی حکومت صوبوں کو ان کے حقوق دینے کو کسی طور تیار نہیں اسی لیے پاکستان میں صورت حال بد سے بد تر ہوتی جارہی ہے ۔ افسوس کہ اس اجلاس میں مقبوضہ کشمیر میں بھارتی ظلم و ستم کا کسی نے بھول کر بھی تذکرہ نہیں کیا، شاید مقبوضہ کشمیر جنوب ایشیا سے باہر کی کسی ریاست کا نام ہے یا پھر وہاں رہنے والوں کا شمار انسانوں میں نہیں ہوتا کہ ان کے ساتھ ظلم و ستم کو انسانی حقوق کی پامالی شمار کیا جاسکے۔ اس اجلاس میں مذکورہ فورم کا ایک باقاعدہ دفتر اسلام آباد میں قائم کرنے کا ارادہ بھی ظاہر کیا گیا۔ قارئین کو یاد ہوگا کہ برسوں پہلے بلیک واٹر نامی امریکی دہشت گرد تنظیم نے بھی اپنے کارندوں کو مختلف این جی اوز اور تھنک ٹینکس کے نمائندوں کے روپ میں پاکستان میں داخل کیا تھا۔ انہوں نے جو تباہی اور بربادی مچائی وہ بھی کسی پاکستانی کے نظر سے پوشیدہ نہیں۔یقینا ہماری حکومت اور ہمارے سیکیورٹی ادارے پاکستان کے مفادات سے کسی طور بھی غافل نہیں، ان میں پاکستان کی حفاظت کرنے کی صلاحیت بھی ہے اور جذبہ بھی۔کبھی مصر جائیں تو نہر سوئیز کا چکر ضرور لگائیے گا۔یہ مشہور زمانہ آبی گذرگاہ بحیرہ روم کو بحیرہ احمر سے ملاتی ہے۔ ابتدا میں دونوں سمندروں کا پانی الگ الگ رنگ کا دکھائی دیتا ہے لیکن پھر کچھ فاصلہ طے کرنے کے بعد ان دونوں کے پانی کو الگ الگ شناخت کرنا ممکن نہیں رہتا۔ پاکستان کی وفاقی حکومت، صوبائی حکومتیں، پاکستان کی فوج، پولیس اور انٹیلی جنس اداروں سمیت پاکستان کا ہر فرد بحیرہ احمر اور بحیرہ روم کے پانیوں کی طرح ہے، پاکستان پر ذرا سا بھی کڑا وقت آتا ہے تو ایسے ایک ہوجاتے ہیں کہ انہیں الگ الگ پہچاننا ممکن نہیں رہتا۔

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker