علی سخن ورکالملکھاری

23مارچ کاسبق : تلاشِ گمشدہ / علی سخن ور

کسی چیز کا ناملنا اور کسی چیز کوکھو دینا ، دو الگ الگ باتیں ہیں۔ اپنی کامیابیوں اور ناکامیوں کا کھاتہ لکھتے ہوئے، ہمیں ان چیزوں کا حساب رکھنا پڑتا ہے جو ہم نے کھو دیں نہ کہ ان کا جو ہمیں کبھی ملی ہی نہیں تھیں۔آزادی ہمیں مل گئی، ہم نے اس کا تحفظ بھی کیا، ہماری کامیابیوں کے پلڑے میں اس کامیابی کی موجودگی کا خیال ہمیں ہمیشہ فتح مند ی کے احساس سے سرشار رکھے گا۔بد قسمتی سے ہمارے کچھ نام نہاد دانشور پاکستان کے ستر برسوں کا حساب کتاب کرتے ہوئے پاکستان کا موازنہ بھارت اور چین سے کرتے دکھائی دیتے ہیں، اکثر کہا جاتا ہے کہ چین پاکستان کے بعد آزاد ہوا اور آج چین دنیا کی سپر پاورز میں شمار ہوتا ہے۔بھارت کے بارے میں بھی یہی کہا جاتا ہے کہ پاکستان کے ساتھ وجود میں آنے والا یہ ملک آج صنعتی ترقی اور فوجی سازوسامان کی تیاری کے حوالے سے پاکستان سے بہت آگے ہے ۔ لیکن یہ کم فہم دانشور اس حقیقت کو سر ے سے فراموش کردیتے ہیں کہ پاکستان چین اور بھارت کی آبادی اور حدود اربعے میں زمین آسمان کا فرق ہے۔2016کے ایک سروے کے مطابق چین کا کل رقبہ 9.597 million km²کے لگ بھگ ہے جبکہ بھارت کا کل رقبہ 3.287 million km²کے قریب ہے جبکہ اس کے مقابلے میں پاکستان کا کل رقبہ796,095 km² ہے۔ اسی طرح چین کی کل آبادی1.379 بلین ہے، بھارت کی آبادی1.324بلین ہے جبکہ پاکستان کی کل آبادی193.2ملین کے لگ بھگ ہے۔یعنی یہ کہ آبادی اور حدود اربعے کے موازنے میں پاکستان ان دونوں ممالک کے مقابلے میں ایک معمولی سے نقطے کے برابر ہے۔ یہاں یہ بات بھی یاد رہے کہ حدود اربعے اور آبادی کی برتری جہاں مسائل میں اضافے کا سبب ہوتی ہے وہاں وسائل کی برتری کو بھی جنم دیتی ہے۔وسیع رقبے کے ساتھ نہریں ، دریا، سمندر، پہاڑ، معدنی خزانے،جنگل، ریگستان ، غرض ہر چیز کی تعداد اور مقدار بھی بڑھ جاتی ہے۔ اگر آج چین اور امریکا جیسے ممالک صنعتی اور سیاسی حوالوں سے دنیا پر راج کر رہے ہیں تو اس کی ایک بڑی وجہ ان ممالک کی وسیع وعریض زمینی سرحدوں کے ساتھ ساتھ ان کی بھاری بھرکم آبادی بھی ہے۔ لیکن کمال کی بات یہ کہ پاکستان اپنے مختصر حدود اربعے اور محدود وسائل کے باوجود بھی آج عالمی سیاسی نقشے پر چین، بھارت بلکہ امریکا ،برطانیہ ، روس اور جاپان جیسے بڑے بڑے ممالک کے ہم پلہ دکھائی دیتا ہے۔دنیا کا وہ کون سا معاملہ ہے جس میں پاکستان کا تذکرہ نہ ہو۔اقوام متحدہ کی قراردادوںسے لے کر افغانستان میں نیٹو افواج کی جنگی حکمت عملی تک، پاکستان کی موجودگی کو کبھی بھی، کہیں بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکا ہے۔بے شمار اقتصادی مسائل، بہت سی سیاسی مشکلات ، اور ان گنت سماجی پیچیدگیوں کے باوجود بھی پاکستان کی ایک بھرپور قوت کے ساتھ عالمی منظر نامے پر موجودگی اس بات کا ثبوت ہے کہ رکاوٹیں سفر کو کچھ طویل ضرور کر دیتی ہیں لیکن رکاوٹوں سے سفر ختم نہیں ہوجاتا۔ پھر یہ بھی ہے کہ ، مشکلیں اتنی پڑیں مجھ پر کہ آساں ہوگئیں، اپنے قیام کے بعد سے لے کر آج تک پاکستان کے لیے ارد گرد کا منظر کبھی بھی آسان نہیں رہا۔پاکستان کے بدخواہ پاکستان کے لیے طرح طرح کی رکاوٹیں کھڑی کرتے رہے، کبھی ہمارے بچوں کو دہشت گردی کی آڑ میں ذبح کیا گیا تو کبھی محبت والوں کی سرزمین بلوچستان کو ہم سے جدا کرنے کی سازشیں کی گئیں، ہمارے سکول کالج بازار حتی کہ ہمارے پارک تک بارود کی نذر کر دیے گئے لیکن ہم پھر بھی زندہ رہے۔دہشت گردوں نے ہماری پولیس ، ہماری فوج اور ہماری انٹیلی جنس ایجنسیوں کے افسروں اور جوانوں کے گلے کاٹ کر ان کے ساتھیوں کو یہ سبق دینے کی کوشش کی کہ دہشت گردوں کے راستے میں آؤگے تو یوں ہی مٹا دیے جاؤگے لیکن ہمارے بہادر بیٹوں کے حوصلوں میں رتی برابر بھی کمی نہیں آئی۔ حال ہی میں رائے ونڈ میں چیک پوسٹ پر جو خود کش دھماکہ ہوا اور جس میں ہمارے بہت سے پولیس ملازمین کو شہادت نصیب ہوئی، اس دھماکے کے ذریعے بھی پاکستان کو ایک بار پھر یہی پیغام دینے کی کوشش کی گئی کہ اگر پاکستان نے دہشت گردوں کے خلاف اپنی جدوجہد یوں ہی جاری رکھی تو پاکستان کو ایک بار پھر میدان جنگ میں بدل دیا جائے گا۔ تاہم اس طرح کی گیدڑ بھبھکیوں سے نہ تو پہلے کبھی پاکستان کو کوئی فرق پڑا تھا نہ ہی آئیندہ پڑے گا۔تاہم سارے پاکستان کے لیے یہ بات باعث تکلیف ضرور ہے کہ عالمی امن کی ہر کوشش میں خلوص نیت کے ساتھ شامل ہونے کے باوجود امریکا جیسے ہمارے ہمدم دیرینہ ہم پر دہشت گردوں کی سرپرستی کا الزام لگاتے ہیں اور بھارت جیسے انسانی حقوق کو کچلنے والے ممالک کو امن کا داعی اور ضامن قرار دیتے ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے عنوان سے امریکا کی جلائی ہوئی نام نہاد آگ میں سب کچھ جھونکنے کے بعد بھی ہمارے ہی ملک کو دہشت گردوں کی محفوظ ترین پناہ گاہ قرار دیا جاتا ہے اور ہمیں دھمکایا جاتا ہے کہ اگر ہم نے دہشت گردوں کی مدد سے ہاتھ نہ اٹھایا تو پاکستان کو ہر قسم کے فوجی اور اقتصادی تعاون سے محروم کردیا جائے گا ۔ کیا ہی اچھا ہو کہ اس بار 23مارچ کو ہم سب مل کر ایک فیصلہ کریں، اپنے آپ سے ایک وعدہ کریں کہ ہم اپنی قومی زندگی سے ہر اس قوت کو نکال باہر کریں جو اس غلط فہمی کا شکار ہوکہ اگر پاکستان کی مالی معاونت بند کر دی جائے تو پاکستان کے لیے آسانی سے جینا بہت مشکل ہوجائے گا۔ آئیے اس سال یوم قرارداد پاکستان پر دنیا کو بتا دیں کہ امدادی رقوم کی بندش سے نہ تو ہم فاقوں کا شکار ہوں گے نہ ہی کہیں ہاتھ پھیلائیں گے۔ہم دیوتاؤں کو آقا مان کرخود کو ان کا غلام کرنے والی قوم نہیں۔
(بشکریہ: روزنامہ خبریں)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker