یہ اس دور کی کہانی ہے، جب طرح طرح کے فیشنوں نے پاکستان کو گھیر رکھا تھا۔ محبت میں ناکامی کے بعد شراب پینا، ایش ٹرے سگریٹ کے ٹکڑوںسے بھر دینا فیشن میں شمار ہوتا تھا۔ دانشور ہونا اہم نہیں تھا۔ دانشور نظر آنا اہم تھا۔ بھاری بھرکم کتابیں اٹھائے پھرنا۔ بڑے بڑے بال رکھنا، بالوں میں کنگھی نہ کرنا، میلے کچیلے کپڑے پہننا۔ کھوئے کھوئے رہنے کی اداکاری کرنا۔ دیر تک آسمان کو تکتے رہنا۔ مولی کو گاجر اور گاجر کو مولی سمجھنا فیشن بن چکا تھا۔ اس نوعیت کی چال ڈھال اور الجھنوں کے بغیر آپ کو کوئی بھی دانشور ماننے پر آمادہ نہیں ہوتا تھا۔ ان دنوں پاکستان آئی ایم ایف جیسے اداروں اور دوست ممالک کا مقروض نہیں ہوتا تھا۔ چونکہ تب پبلسٹی کا رواج نہیں پڑا تھا، اس لئے پتہ نہیں چلتا تھا کہ پاکستان کن کن کنگال ممالک کی امداد کرتا رہتا تھا۔ تب قرض دینے والے اور قرض لینے والے اپنا نام ظاہر نہیں کرتے تھے۔ کسی بھوکے کو کھانا کھلاتے ہوئے کھانا کھلانے والا اپنی تصویر کھنچوا کر اخباروں میں شائع نہیں کرواتا تھا۔
یاد ہے نا کہ میں کس دور کی بات کر رہا ہوں؟ میں انیس سو پچاس کی دہائی کے آخری پانچ چھ برسوں اور انیس سو ساٹھ کی دہائی کے ابتدائی پانچ چھ برسوں کی باتیں آپ کو سنا رہا ہوں۔ بڑا ہی دلچسپ دور تھا۔ ضرورت سے زیادہ پڑھے لکھے لوگوں کے منہ سے ہم سامراجی ممالک کا ذکر سنتے تھے۔ مگر ہم احمق اور نالائق ان ممالک کے جغرافیائی محل وقوع کا اندازہ نہیں لگا سکتے تھے۔ پڑھے لکھے لوگوں سے ہم استحصال اور استحصالی قوتوں کا ذکر سنتے تھے، مگر ہمارے پلے کچھ نہیں پڑتا تھا۔ اس دور میں بڑھ چڑھ کر سامراج اور سامراجی ممالک کو برا بھلا کہنا اور کوسنا بھی فیشن تھا۔ بات سمجھ میں آئے، یا نہ آئے دیگر نوجوانوں کی طرح ہم بھی سامراجی قوتوں کو کوستے تھے۔ استحصالی قوتوں کو خوب برا بھلا کہتے تھے۔ایسا کرنے کے عوض ہمیں ترقی پسند مانا جانے لگا تھا۔ ہم ککھ نہیں جانتے تھے کہ یہ Progressive یعنی ترقی پسند کیا چیز ہے۔ دنیا میں ایسا کون ہوگا جو ترقی کو پسند نہ کرتا ہو۔ ترقی پسند ہونا بھی ایک طرح کا فیشن تھا۔ قریب جا کر دیکھا تو پتہ چلا کہ ترقی پسند ایک دوسرے کو کامریڈ کہہ کر بلاتے تھے۔ کامریڈ کہہ کر ایک دوسرے کو پکارنے والوں کو زیادہ پڑھا لکھا مانا جاتا تھا۔ لہٰذا مجھ جیسے کئی دوست ایک دوسرے کو کامریڈ کہنے لگے۔ ایک دوسرے کو کامریڈ کہہ کر پکارنے کی دیر تھی۔ ہم کمیونسٹ کہلوانے میں آئے۔ کامریڈ بڑھا چڑھا کر ایک دوسرے کو روس، لینن اور کارل مارکس کے قصے کہانیاں سناتے تھے۔ کامریڈوں کو زرعی اور صنعتی دولت مندوں سے نفرت تھی۔ وہ چاہتے تھے کہ کسان اور مزدور ساہو کاروں سے انکی زرعی زمینیں،کارخانے اور فیکٹریاں چھین لیں۔ کچھ کامریڈوں نے سرمایہ دار، مزدور اور کسان کے حوالے سے شاعری کی، افسانے لکھے۔ کچھ دل جلوں نے ناول تک لکھ ڈالے۔ چہ میگوئیاں ہونے لگیں۔ افواہوں کو پر لگ گئے۔ باتیں اس قدر بڑھیں کہ اچھے خاصے، دیکھے بھالے لوگ فکر مند ہو گئے تھے۔ عام خیال تھا کہ ایک نظریاتی ملک پر دہریے، ملحد، کافر کمیونسٹ آہستہ آہستہ، چپکے چپکے قبضہ کرتے جا رہے ہیں۔ دیواروں کو کان لگ گئے۔ آج کل کے دور کے برعکس ہمارے بھولے بسرے دور میں پکڑ دھکڑ کے لئے سرکار کے پاس ایک ہی ادارہ ہوتا تھا۔ وہ ادارہ زیادہ تر جمائیاں لیتا رہتا تھا۔ کراچی میں آج کل چھینا چھپٹی اور مافیاؤں جیسا دور نہیں تھا۔ اس لئے ان کو چوکنا رہنے کی قطعی ضرورت نہیں ہوتی تھی۔ اس ادارے میں بڑے منجھے ہوئے دماغ بیکار پڑے ہوئے تھے۔ جب کراچی میں کچھ چونکا دینے والا ہوتا ہی نہیں تھا، تب منجھے ہوئے دماغوں کو اپنی بےمثال کارکردگی دکھانے کا موقع نہیں ملتا تھا۔ سرکاری سیاست دانوں کو خوش رکھنے کے لئے مراعتوں کے دروازے کھلے نہیں رہتے تھے۔ افسران بندر بانٹ میں ملوث نہیں ہوتے تھے۔ آج کل کے دور کی طرح آپ اچانک گم نہیں ہو جاتے تھے۔ اس نوعیت کی بے ضرر صورت حال میں بے چارے ذہین ترین دماغ اپنا کام دکھائیں تو کیسے دکھائیں۔ قانون اور لاقانونیت کا آپس میں چولی دامن کا ساتھ ہوتا ہے۔ جب تک لاقانونیت نہیں ہوتی تب تک قانون سوتا رہتا ہے۔ جب تک معاشرے میں چھینا چھپٹی نہیں ہوتی، ایک دوسرے کی املاک پر قبضہ گیری نہیں ہوتی، جب تک آئینی حقوق پامال نہیں ہوتے، جب تک کھلم کھلا ایک طبقہ دوسرے طبقے کو بلاسفیمی، الحاد اور غدار ہونے کا لیبل لگا کر کھلے عام قتل نہیں کرتا، جب تک پیار کرنے والوں کو ذلیل اور خوار کرنے کے بعد قتل نہیں کیا جاتا، تب تک قانون حرکت میں نہیں آتا۔ ایک بگڑے ہوئے دانشور کا بدنام قول ہے کہ:ڈاکٹروں کو متحرک رکھنے کیلئے لازمی ہے کہ معاشرے میں طرح طرح کی بیماریاں پھوٹ پڑیں۔ عین اسی طرح قانون نافذ کرنے والوں کو متحرک رکھنے کے لئے ضروری ہے کہ جرائم پیشہ اور قانون شکن عام آدمی کی زندگی میں زہر گھول دیں۔
میں جس دور کی باتیں آپ کو بتا رہا ہوں، اس دور میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے حرکت میں آنے کی کوئی خاص وجہ نہیں تھی۔ وہ جمائیاں لیتے رہتے تھے، اونگھتے رہتے تھے اور پھر لمبی تان کر سو جاتے تھے۔ اچانک ایک طبقے نے لاؤڈ اسپیکروں سے چیخ چیخ کر قانون کے ایوانوں میں کھلبلی مچادی۔ ان کا لینا دینا ادب، آرٹ اور فنون لطیفہ سے نہیں تھا۔ اس طبقہ کو نوجوانوں کے ادب، شاعری، آرٹ اور فنون لطیفہ میں کفر، الحاد، دہریت اور عقیدوں سے انحراف دکھائی دیا۔ بقول ان کے ایک نظریاتی ملک میں کمیونسٹوں اور کافروں کے لئے کوئی رعایت کوئی گنجائش نہیں ہو سکتی۔قانون جاگ اٹھا۔ اس طبقہ کے اشاروں پر چل پڑا۔ اس کے بعد کیا ہوا؟ ادب، آرٹ، شاعری، فنون لطیفہ کی کس طرح بیخ کنی کی گئی، آپ اگلے منگل کے روز سنیں گے۔
(بشکریہ: روزنامہ جنگ)
فیس بک کمینٹ

