امجد اسلام امجدکالملکھاری

قند مزید:چشم تماشا / امجد اسلام امجد

گزشتہ کالم میں میں نے عزیزی نواز نیاز کی حاصل مطالعہ کچھ دانش کی باتوں کا ذکر کیا تھا اور یہ بھی بتایا تھا کہ ان کی کچھ ’’باقیات‘‘ ابھی میرے پاس محفوظ ہیں جنھیں انشاء اللہ آئندہ کسی موقع پر آپ سے شیئر کروں گا لیکن وہ موقع فوراً ہی نکل آیا ہے کہ پرسوں روزنامہ ایکسپریس کے افطار ڈنر میں بہت سے دوستوں سے ملاقات ہوئی اور تقریباً ہر ایک نے ہی کسی نہ کسی حوالے سے ان دانش کی باتوں کا ذکر اور اگلی قسط کی فرمائش کی، دانش مندوں اور دانش وروں کی یہ محفل بجائے خود ایک دانش کدہ تھی سو ان کی طرف سے اس خیر مقدم کو ایک مثبت اشارہ اور قبولیت کا استعارا سمجھتے ہوئے یہ دانش پارے درج کیے جا رہے ہیں جن کے آخر میں ایک نسبتاً تازہ نعت کے رمضان کے اس مبارک مہینے میں اس کی برکت اور تاثیر میں کئی گنا اضافہ ہو جاتا ہے۔
٭ اگر تم کسی بلند منزل تک پہنچنا چاہتے ہو تو منفی خیالات اور مخالف آوازوں کی طرف سے کان بند بند کر لو۔
٭ مطالعہ آپ کی جہالت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا سکتا ہے۔
٭ میں صحیح فیصلے کرنے پر یقین رکھنے کے بجائے ایک فیصلہ کرتا ہوں اور پھر اسے صحیح ثابت کرتا ہوں۔
٭ ہماری آنکھیں سامنے کی طرف لگائی گئی ہیں کیونکہ پیچھے سے زیادہ آگے کی طرف دیکھنا ضروری ہوتا ہے۔
٭ ایمانداری ایک بہت قیمتی تحفہ ہے اس کی توقع سطحی اور گھٹیا لوگوں سے نہیں رکھنی چاہیے۔
٭ پانی کی گہرائی کو ناپنے کے لیے کبھی دونوں پاؤں ایک ساتھ استعمال نہ کرو۔
٭ جب ہم بچے تھے تو پنسل استعمال کرتے تھے لیکن اب پین استعمال کرتے ہیں کیونکہ بچپن کی غلطیاں مٹائی جا سکتی ہیں مگر بعد کی نہیں۔
اگر تم وہ چیزیں خریدتے رہو گے جن کی تمہیں ضرورت نہیں ہے تو بہت جلد تمہیں وہ چیزیں بیچنا پڑیں گی جن کی تمہیں ضرورت ہے۔
مکالمہ یا تبادلہ خیال کرنے کے بھی کچھ اصول ہوتے ہیں جن کی طرف عام طور پر سنجیدگی سے توجہ نہیں کی جاتی اور یوں ہمارا مکالمہ ’’خود کلامی‘‘ یا ’’جھگڑے‘‘ کی شکل اختیار کر جاتا ہے سو ان دس اصولوں کا خیال رکھنا ضروری ہے۔
٭ مخاطب کی بات کو دھیان اور توجہ سے سنئے اور اس کی باتوں سے اس کی شخصیت کو سمجھنے کی کوشش کیجیے۔
٭ ہمیشہ گفتگو کے مثبت پہلوؤں پر نظر رکھئے۔
٭ مکالمہ کیجیے، مقابلہ نہیں۔ اختلاف لڑنے کے لیے نہیں لڑائی سے بچنے کے لیے کرنا چاہیے۔
٭ دوسرے کی بات کی جائز عزت کیجیے وہ آپ کی بات کی عزت کرے گا۔
٭ دوسروں کے لیے حسن ظن سے کام لیجیے۔
٭ اشتراک تک پہنچنے کا راستہ اختلاف کو تسلیم کرنے سے نکلتا ہے۔
٭ اپنے ساتھ سچ بولیے، بڑبڑایئے نہیں، بات کیجیے۔
٭ بحث میں دوسروں کو بھی برابر کی آزادی اور جگہ دیجیے۔
٭ بامعنی سوال ہمیشہ معلومات افزا جواب پیدا کرتے ہیں۔
٭ جو سہولت اپنے لیے چاہتے ہیں دوسروں کو بھی دیجیے۔
ان میں سے شاید کوئی بھی بات ایسی نہیں جو ہم سب کو پہلے سے معلوم نہ ہو مگر دیکھنے میں یہی آیا ہے کہ لوگ سب کچھ جاننے بوجھنے کے باوجود ہٹ دھرمی کو اصول اور اپنے اخذ کردہ نتائج کو آخری سچ سمجھنا شروع کر دیتے ہیں۔
نعت
کرے کیسے کوئی اس رحمت پیہم کا اندازہ
کوئی آئے!کبھی آئے! کھلا ہے اُنؐ کا دروازہ
سر محشر ہجوم عاصیاں میں کاش ایسا ہو
شفاعت اُنؐ کی مل جائے، پڑے جب مجھ کو آوازہ
بکھر جاتا وگرنہ میں تو ان وحشی ہواؤں میں
انہیؐ کے دم سے قائم ہے مری ہستی کا شیرازہ
تمنا اُنؐ کی رحمت کی ہمیشہ بارور ٹھہرے
چمن اُنؐ کی توجہ کا، رہے آٹھوں پہر تازہ
سرفہرست ہی رکھنا پڑا اسم محمدؐ کو
کیا جب بھی کسی نے عظمت آدم کا اندازہ
کشش کافِ کرم کی ہے ہمارا آسرا امجدؔ
وگرنہ کون بھگتے گا وہاں کرنی کا خمیازہ
(بشکریہ: روزنامہ ایکسپریس)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker