آمنہ مفتیکالملکھاری

آمنہ مفتی کا کالم اڑیں گے پرزے: زیادہ بارش ،زیادہ پانی، خوب مزے

بارشوں نے ڈبو دیا۔ کراچی تو خیر ڈوبا لاہور بھی ڈوب گیا اور یقیناً چھوٹے شہر بھی ڈوبے ہوں گے۔ ٹین کی چھتوں پہ تو مینہہ وہ شور مچاتا رہا ہو گا کہ الامان و الحفیظ! پرنالے بھر بھر کے بہے ہوں گے۔
خستہ مکانوں کی چھتیں ٹپکی ہوں گی اور اتنا ٹپکی ہوں گی گھر بھر کے برتن رکھنے پہ بھی پانی فرش پہ بہا ہو گا۔ شکستہ دیواریں، سیلن سے ڈھے گئی ہوں گی اور کھڑکیوں، روشندانوں سے مینہہ کی بوندیں گھس گھسا کر اسباب کو بھگو گئی ہوں گی۔
غریب غربا کے مکانات منہدم ہوئے ہوں گے۔ گوداموں میں پانی نے گھس کے تباہی مچائی ہو گی، کچی بستیوں، بغیر منصوبہ بندی کے بنی آبادیوں میں بارش کا پانی اژدھے کے طرح پڑا ہو گا اور ہر شے ہڑپ کر گیا ہو گا۔
بجلی کی تاریں ٹوٹ کر، یم دوت کی صورت گری ہوں گی۔ پانی میں کرنٹ آنے سے جانے کتنے ابدی نیند سو گئے ہوں گے۔
یہ سب وہ احوال ہے جو ہم سالہا سال سے دیکھتے آ رہے ہیں۔ حکومتیں بدلیں، زمانے بدلے لیکن عناصر سے کون جیت سکا ہے؟ مون سون آتا ہے اور ہر برس یہ ہی کتھا دہراتا ہے۔ ہر حکومت ان نقصانات کا ذمہ دار پچھلی حکومت کو ٹھہراتی ہے، ہر حزب مخالف، مون سون کی لائی تباہی کا الزام حکومت کے سر دھرتی ہے اور یوں یہ سلسلہ جاری رہتا ہے۔
کیا ایسا انتظام ممکن ہے کہ مون سون سے ہونے والے نقصان کم ہو پائیں؟ گھروں کی حد تک تو پرنالوں کی صفائی، چھت کی لپائی، کھڑکیوں وغیرہ کی مرمت کسی حد تک بچا سکتی ہے لیکن شہری علاقوں میں جو سیلاب آتے ہیں وہ بہت زیادہ نقصان پہنچاتے ہیں۔
کیا سیوریج سسٹم کو اس طرح ڈیزائن نہیں کیا جا سکتا کہ برسات کا پانی اس میں سما سکے؟
چلیے وہ تو پھر لمبی کہانی ہے اور اس میں زمین کی ساخت، ڈھلان، نشیبی علاقوں کی طرف پانی کا قدرتی بہاؤاور جانے کیا کیا آجاتے ہیں لیکن کیا ہم ایسی عمارتیں بھی نہیں بنا سکتے جو مون سون کے جھالے سہار سکیں؟
اسلام آباد ائیر پورٹ کی چھت ہو یا کسی شاپنگ مال کی چھت، سب یکساں ٹپکتی اور ایک رفتار سے گرتی ہیں۔ خرابی کہاں ہے؟ انسانی آبادیوں کی خاصیت ہی یہ ہے کہ وہاں عناصر انسان پہ بری طرح اثر انداز نہ ہو پائیں۔
پچھلے دنوں ایک کتاب میں بادشاہ کے وقت کی دلی کے ساون کا حال پڑھ رہی تھی۔ ان کے عیش، میلے اور’پنکھے والوں‘ ،’پھول والوں‘ کی سیر کا احوال پڑھ کے کلیجے پہ خوب ہی سانپ لوٹے کہ ہم سے تو وہ بھلے تھے۔ ایسا برے تو نہ ڈوبتے تھے۔
پھر دھیان آیا کہ صاحب اقتدار، ہر ساون میں نہیں ڈوبتے اور نہ ہی چلو بھر پانی میں ڈوبتے ہیں۔ ڈوبتے بھی ہیں تو صورت خورشید کہ ادھر ڈوبے تو ادھر نکلے۔ یہ تو ایک ہی بار ڈوبتے ہیں اور تب یہ اپنے ہی خون کے سیلاب میں ڈوبتے ہیں اور پھر کبھی ابھر نہیں پاتے چاہے زیادہ بارش ہو اور زیادہ پانی آئے۔
اس برس کے بھیگنے،ڈوبنے اور ابھرنے کے بس چند ہی دن رہ گئے ہیں پھر جم کے سوکھا پڑے گا اور سب پہلے جیسا ہو جائے گا۔ کسی کو یاد بھی نہ رہے گا کہ کتنا برسا تھا اور کہاں کہاں برسا تھا؟
(بشکریہ: بی بی سی اردو)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker