آمنہ مفتیکالملکھاری

آمنہ مفتی کا کالم: مارچ کا ہے آن پہنچا مہینہ!

جوں جوں مارچ کا مہینہ قریب آتا ہے کچھ لوگوں کو ایک اضطراب سا گھیر لیتا ہے۔ بیٹھے بیٹھے ہذیان بکنے لگتے ہیں اور جب تک یکم اپریل نہیں آ جاتی ان کی کیفیت میں کچھ خاص تبدیلی واقع نہیں ہوتی۔
یہ بیماری پچھلے چند برسوں سے شدت اختیار کر گئی ہے اور وجہ اس کی سادہ سی ہے کہ آٹھ مارچ کو عورتوں کے عالمی دن کے طور پر منایا جاتا ہے اور کچھ برس سے پاکستان میں بھی اس دن پر ’عورت مارچ‘ منعقد ہونے لگا ہے۔
یہ عورت مارچ، گو کچھ خاص نتیجہ خیز تو ثابت نہ ہوا لیکن اتنا ہوا کہ بات کہی جانے لگی اور سب کو نظر آنے لگا کہ بات کہنا اتنا آسان نہیں ہے۔
عورتوں کے مسائل تھے، ہیں اور رہیں گے۔ یہ مسائل ویسے ہی ہیں جیسے مردوں کے مسائل ہوتے ہیں لیکن عورتوں کا ایک بہت بڑا مسئلہ مرد بھی ہیں۔ گو کئی مردوں کا مسئلہ بھی عورت ہی ہے لیکن اس مسئلے کے کئی مزید گفتنی و نا گفتنی پہلو ہیں۔
سب سے پہلے تو یہ کہ پاکستانی مردوں کو عورتوں کی سرپرستی اور ان کی فلاح کا بہت خیال ہے۔ اس خیال کے تحت وہ مارچ کی ابتدا ہی سے حلق پھاڑ پھاڑ کر چیخنے لگتے ہیں کہ ہم بتائیں گے کہ عورتوں کے مسائل کیا ہیں؟ ہمیں پتا ہے، ہمیں پتا ہے، ہمیں پتا ہے!
ایک صاحب کو تو خاص اس ماہ کے لیے تربیت دی گئی ہے۔ جیسے پھاگن مہینے میں بہت سے پودوں پہ پھول آ جاتے ہیں ان صاحب پہ بھی مارچ میں بہار آ جاتی ہے اور یہ وہ، وہ گل افشانیاں کرتے ہیں کہ بس وہ کہیں اور سنا کرے کوئی۔
خیر یہ تو جو ہیں سامنے ہیں زیادہ برے وہ بگلہ بھگت اور رنگے سیار ہیں جو ٹھگوں کی طرح اس قافلے کے ساتھ تو ہیں لیکن ان کے لہجے اور انداز سے ان کی بد نیتی چھپائے نہیں چھپتی۔ یہ وہ سرپرست ہیں جو پاکستان میں اینٹ اٹھاؤ تو ملتے ہیں۔
ان کی زندگی کا سب سے اہم کام یہ ہی ہوتا ہے کہ اپنے ارد گرد پائی جانے والی خواتین کے بارے میں قیافے لگاتے رہیں. اس کام سے فرصت ملے تو ان قیافوں کو رنگین افسانوں میں تبدیل کر کے آگے پھیلاتے رہیں۔ جہاں سے یہ افسانے، سرگوشیاں بن کے سینہ بسینہ آگے سے آگے چلتی رہیں۔ ان سرگوشیوں کی حقانیت پہ بھلا کون شک کر سکتا ہے؟
ان ہی کے باقی ماندہ بھائی بند چلا چلا کر بتاتے ہیں کہ دیکھا،گھر سے نکلنے والی عورتیں ایسی ہوتی ہیں۔ گھر کے اندر جو حال ہے اگر اس پہ بات کی جائے تو کونوں کھدروں سے غوغا بلند ہوتا ہے کہ یہ تو گھر کی باتیں تھیں باہر کیوں کر دی گئیں؟
نوکری کرنے والی عورتوں کے مسائل، گھر میں بیٹھی خواتین کے مسائل، بچیوں کے مسائل، ادھیڑ عمر عورتوں کے مسئلے، ان سب پہ بات کرنا عورتوں ہی کا حق ہے اور انھیں اس بات کا موقع ملنا چاہیے۔ سرعام حوائج ضروریہ سے فارغ ہونے والے مردوں کو کیا علم کہ خواتین کے لیے کام کی جگہ پہ علیحدہ ٹوائلٹ بھی موجود نہیں ہوتے۔
میٹرنٹی لیو کتنی ہونی چاہیے، مہینے میں خواتین کو کتنی چھٹیاں ملنی چاہیں، کام کی جگہوں پہ ڈے کئیر سنٹرز ہونے چاہییں، عورتوں کے کام کرنے کی جگہوں کا ماحول کیسا ہونا چاہیے؟ یہ سب اور ان کے علاوہ کتنی ہی باتیں عورتوں ہی کو کرنی ہیں اور خدارا انھیں بولنے دیجیے۔
اپنے ذہنوں کو کھولیے، سوچ بدلیے، بلاول بھٹو کو آج بھی اپنی ماں کا نام اپنانے کا طعنہ پڑتا ہے اور مریم نواز کو باپ کے نام کی وجہ سے مزاح کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ یہ سب فقط اس لیے کہ زہریلے پدر سری سماج میں اولاد کا تعارف بھی باپ ہونا چاہیے اور شادی کے بعد عورت کے ساتھ بھی شوہر کا نام لگنا چاہیے۔
قربان جائیے ان خیالات کے اور بھس بھروا کے رکھ لیجیے ان خیالات کے حامیوں کو کہ آنے والے وقت میں لوگ حیران ہو کر انھیں دیکھا کریں گے۔
‎حال ہی میں ایک صاحب نے پاکستان کی ایک سرکردہ خاتون سیاستدان کو مضحکہ خیز انداز میں چنڈی کا روپ دھارنے کا طعنہ دیا۔ کبھی رنڈی، کبھی دیوی، کیا کبھی کوئی مارچ ایسا بھی آئے گا جب عورت کو عورت سمجھا جائے گا؟ اسے اس کے اصل روپ میں، جو کہ اس نے خود اپنی مرضی سے اختیار کیا ہے، جینے کا حق دیا جائے گا؟
نہ عورت رنڈی ہے نہ دیوی، وہ بھی ایک انسان ہے گوشت پوست کا جیتا جاگتا انسان جو کسی کی ملکیت نہیں، کسی کی جاگیر نہیں۔ مسئلہ صرف سوچ کا ہے۔ جب تک عورتوں کو ’ہماری عورتیں‘ کا چشمہ لگا کر دیکھا جائے گا بات سمجھ نہیں آئے گی۔ اپنی سوچ بدلیے، مارچ بھی اپریل لگے گا۔
(بشکریہ: بی بی سی اردو)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker