سکردو کے ہوائی اڈے پر جہاز نے لینڈ کیا تو یوں لگا جیسے ہم سونے کے پہاڑوں کے درمیان آ گئے ہوں، چاروں طرف بلند و بالا چوٹیاں تھیں جن میں سے کچھ برف سے لدی ہوئی تھیں جبکہ کچھ پر سورج کی کرنیں ایسے پڑ رہی تھیں کہ وہ سنہری ہو لگ رہی تھیں۔ موسم صاف تھا، دھوپ نکلی ہوئی تھی، ہلکی ہلکی ہوا چل رہی تھی مگر ایسی نہیں کہ سردی محسوس ہو۔ ہمیں افسوس ہوا کہ خواہ مخواہ اتنے گرم کوٹ اور جیکٹس سامان میں ٹھونس کر لے آئے۔ لیکن رات کو جب سردی نے مزاج پوچھا تو ہمارے سارے کس بل نکل گئے۔ ٹھنڈی ہوا کے ساتھ بارش ہوئی تو درجہ حرارت یک دم گر گیا، خدشہ ہوا کہ اب کہیں گرم کپڑے نہ کم پڑ جائیں! بندہ اتنا وہمی بھی نہ ہو۔
سکردو ہوائی اڈے پر سب سے پہلے آپ کا ٹاکرا ان ڈرائیورز کے ساتھ ہوتا ہے جو اپنی گاڑیاں یومیہ کرائے پر دینے کی پیشکش کرتے ہیں، ان کی یہی روزی ہے جو گرمیوں کے موسم تک ہی رہتی ہے، جولائی اگست مقامی لوگوں کے لیے بہترین سیزن ہے، اس کے بعد سرما کی آمد کے ساتھ ہی سیاحت کا کام تقریباً بند ہوجاتا ہے۔ ہوائی اڈے سے نکل کر اگر بائیں جانب مڑ جائیں تو آپ کا رخ سکردو شہر کی طرف ہو جائے گا، ہمارا قیام چونکہ کچورا میں واقع ایک ریسٹ ہاؤس میں تھا سو ہماری گاڑی دائیں جانب مڑ گئی۔ کچورا کا علاقہ ہوائی اڈے سے تقریباً بیس پچیس منٹ کی مسافت پر ہے، سڑک بے حد شاندار ہے جس کے ساتھ ساتھ دریا بہتا ہے۔ کچورا اپنی اس جھیل کی وجہ سے مشہور ہے جو اکثر سکردو کی تصاویر میں نظر آتی ہے، یہاں جا بجا نجی ہوٹل اور گیسٹ ہاؤس بن چکے ہیں، کچھ سرکاری بھی ہیں، لیکن ان سب کا رخ جھیل کی جانب ہے جس کا نظارہ کمرے سے کیا جا سکتا ہے۔ ہم نے کمرے میں سامان رکھا، تازہ دم ہوئے اور ڈرائیور سے کہا کہ آج ارد گرد کی خوبصورت جگہیں دکھا دو۔ اس نے کہا کہ لوگ عموماً اًپر کچورا جھیل اور سوق جاتے ہیں، سوق ایک خوبصورت گاؤں ہے، وہاں تک تو گاڑی پہنچ جائے گی مگر اپر کچورا جھیل تک پہنچنے کے لیے پندرہ بیس منٹ پیدل بھی چلنا پڑے گا۔ پہاڑی علاقوں کی سیر کے دوران میں نے ایک بات سیکھی ہے کہ مقامی آدمی کسی جگہ تک پہنچنے کے لیے جو وقت بھی بتائے اسے آپ کم از کم دو سے ضرب دے دیں اور میں نے یہی کیا۔ ڈرائیور کو کہا کہ اپر کچورا جھیل کو چھوڑ و، ہمیں سوق لے چلو۔ یہ تو سوق جا کر پتا چلا کہ یہاں بھی نہ ہی آتے تو اچھا تھا۔ کچورا سے پینتالیس منٹ کی مسافت پر یہ گاؤں واقع تھا، راستہ اس قدر ٹوٹا پھوٹا کہ ہماری چولیں ہل گئیں۔ وہاں پہنچے تو کچھ بھی نہیں تھا، پتھریلے پہاڑ اور سامنے تھوڑا بہت بہتا ہوا پانی، جسے اپنی سہولت کے مطابق آپ دریا یا چشمہ کہہ سکتے ہیں، اس سے بہتر نظارہ تو ہم نیچے ریسٹ ہاؤس کے سامنے والی جھیل پر چھوڑ کر آئے تھے۔ خیر، وہاں ہم نے ٹراؤٹ مچھلی کھائی، چائے پی، رسید کے طور پر دو چار تصویریں بنائیں اور واپس آ گئے۔ ایک چکر سکردو بازار کا بھی لگایا مگر لطف نہیں آیا، اگر شہر کے ارد گرد پہاڑ نہ ہوں تو اس بازار اور کسی عام سی پاکستانی مارکیٹ میں کوئی فرق نہ لگے۔ مری یا شملہ کی مال روڈ کی طرح یہاں ایسی کوئی جگہ نہیں جہاں گاڑیوں کا داخلہ ممنوع ہو اور لوگ واک کر سکیں۔ اکا دکا ہینڈی کرافٹس کی دکانیں ہیں اور باقی وہی ’ سکردو ٹائر ورکس‘ یا ’عباس ہیئر کٹنگ سیلون‘ !
اصل خوبصورتی سکردو سے باہر ہے اور اس بات کا اندازہ ہمیں اگلے روز ہوا جب ہم سکردو سے شوگر کی جانب روانہ ہوئے۔ ڈرائیور نے کہا تھا کہ شوگر تک پہنچنے میں چالیس منٹ لگیں گے، وہی بات ہوئی، ایک گھنٹہ چالیس منٹ لگے۔ راستے میں دیکھنے کی جگہ سرد صحرا تھا۔ یہ صحرا پہاڑوں کے بیچ و بیچ وادی کی شکل میں ہے، یہاں اگست میں جیپ ریلی ہوتی ہے جس کا ٹریک تقریباً 78 کلومیٹر طویل ہے۔ میں نے اس سے پہلے اتنے بلند مقام پر صحرا نہیں دیکھا، مجھے یہ صحرا کسی عجوبے سے کم نہیں لگا۔ شوگر کے راستے میں چھوٹے چھوٹے گاؤں بھی آئے، یہاں کچے پکے مکانات بنے تھے جن میں سے چند ایک کی چھتوں پر ہم نے ڈش انٹینا لگا دیکھا۔ ایک چھوٹا سا اسکول بھی دکھائی دیا جہاں سے بچیاں بارش میں واپس آ رہی تھیں۔ ان جگہوں کی خامشی دیکھ کر اندازہ نہیں ہوتا کہ یہاں آبادی بھی ہو سکتی ہے، مگر یہ آبادی تقریباً سارے راستے ہی ملتی ہے۔ شوگر کے تاریخی قلعے کے سامنے جا کر ہم نے گاڑی روکی۔ یہ قلعہ شوگر کے راجہ نے 1634 میں تعمیر کیا تھا، اسی راجہ کا خاندان 1999 تک یہاں رہائش پذیر رہا، پھر راجہ نے یہ قلعہ بلتستان کے لوگوں کو عطیہ کر دیا اور خود اس کے سامنے مکان میں منتقل ہو گیا۔ آغا خان فاؤنڈیشن نے اس قلعے کی بحالی کا کام کیا اور پھر 2004 میں اسے سیرینا ہوٹل بنا دیا گیا۔ اس قلعے کی خاص بات یہ ہے کہ یہ قدرتی پتھروں پر تعمیر کیا گیا ہے اور اس میں اخروٹ کی لکڑی استعمال کی گئی ہے جو خراب نہیں ہوتی۔ جس زمانے میں اس کی تعمیر ہوئی اس وقت کے سیکولر ازم کا اندازہ اس بات سے لگا یا جا سکتا ہے کہ وہ تمام معمار جنہوں نے اس کی تعمیر میں حصہ لیا تھا انہوں اپنے اپنے مذہب اور عقیدے کے مطابق اس قلعے کی ایک دیوار پر اپنے نشانات ثبت کیے جو آج بھی دیکھے جا سکتے ہیں۔ بادشاہ کا کمرہ بھی اب تک اسی حالت میں ہے، اس کا دروازہ جان بوجھ کر چھوٹا رکھا گیا ہے تاکہ اس وقت لوگ بادشاہ کے سامنے جھک کر داخل ہوں۔ اسی کمرے کے پیچھے مہمانوں کی تواضع کے لیے چائے اور قہوہ بنانے کا بھی انتظام ہے جبکہ شاہی باورچی خانہ ذرا پرے ہے۔ ان کمروں کو ان کی اصل حالت میں رکھا گیا ہے اور ان میں رکھے ہوئے برتن اور چیزیں بھی سینکڑوں سال پرانی ہیں۔ ہوٹل کے کمرے البتہ چھوٹے اور بہت مہنگے ہیں۔
شوگر سے واپسی پر ہمارے ڈرائیور نے بتایا کہ یہاں دریا پر نیا ہوٹل کھلا ہے وہ ضرور دیکھنا چاہیے۔ یہ ہوٹل پندرہ بیس منٹ کی دوری پر تھا مگر واقعی دیکھنے سے تعلق رکھتا تھا، اس کے کمرے دریا کے عین اوپر اس انداز میں بنائے گئے ہیں کہ آپ باقاعدہ دریا کے پانی کو چھو سکتے ہیں۔ کمروں کے سامنے دریا ہے اور دریا کے ساتھ ساتھ پہاڑ چلتے ہیں، یہ ایک ایسا دلکش اور ناقابل فراموش نظارہ ہے کہ بندے کا دل یہاں سے اٹھنے کو نہیں کرتا۔ بارش کی وجہ سے ہمیں ہوٹل میں لوگ نظر نہیں آئے مگر جب پوچھا تو پتا چلا کہ کل بتیس کمرے ہیں جن میں سے گزشتہ کل تک کوئی بھی خالی نہیں تھا۔ منیجر نے بتایا کہ اس ہوٹل کے مالک نے 1988 میں یہ جگہ دیکھی تھی اور اس کا گرویدہ ہو گیا تھا، بعد میں اس نے یہاں ہوٹل تعمیر کرنے کا منصوبہ بنایا جو ایک سال پہلے ہی مکمل ہوا۔ ہنی مون منانے والے جوڑوں کے لیے یہ آئیڈیل جگہ ہے۔
جس پرواز پر ہم سکردو آئے اس میں غیر ملکی سیاحوں کی بھی اچھی خاصی تعداد تھی، سکردو ہوائی اڈے پر ٹورسٹ پولیس نے ان کا استقبال کیا جو کہ مثبت بات تھی۔ میں نے حساب لگایا کہ اگر یہ غیر ملکی دنیا میں کہیں بھی اور سیاحت کے لیے جاتے اور شوگر قلعے جیسے ہوٹلوں میں قیام کرتے تو ان کا خرچہ پاکستان کی نسبت کم از کم دس گنا زیادہ ہوتا۔ لیکن مسئلہ وہی ہے کہ بلتستان میں جتنی خوبصورتی ہے وہ قدرتی ہے جسے سوئٹزر لینڈ یا ناروے کی طرح میک اپ کر کے سنوارا نہیں گیا، اور یہاں تفریح کے وہ مواقع بھی دستیاب نہیں جو مغربی ملک کے چھوٹے سے گاؤں میں مل جاتے ہیں۔ وہاں جنگل میں منگل کا سماں ہوتا ہے، اپنے یہاں جو ہے وہ قدرت کی دین ہے، باقی ہم نے بگاڑا ہی ہے، سنوارا کچھ نہیں!
(بشکریہ:ہم سب )
فیس بک کمینٹ

