آمنہ مفتیکالملکھاری

آمنہ مفتی کا کالم: غلطی کرنے والے جنّ اور خلائی مخلوق

خان صاحب کی حکومت کیا گئی ویران سڑکوں پر بہار سی آ گئی۔ پھر سے پنڈال سجنے لگے اور سوشل میڈیا پر جگہ جگہ بلوے اور فساد پھوٹ پڑے۔
پرانے دوست چھوٹ گئے، میاں بیوی میں تلخی آ گئی، رشتے داروں میں قطع تعلق ہو گئے اور جن سے دور دور کی سلام دعا تھی سب بلاک ہو گئے۔ عدم برداشت اور بد زبانی کے ایک نئے دور کا آغاز ہوا۔
ماضی کی تمام حکومتوں کی طرح گذشتہ حکومت اور موجودہ اپوزیشن کو بھی سوائے اپنی حکومت کی بحالی کے اس ملک سے کوئی دلچسپی نہیں۔ عوام کے لیے نہ ان کے پیشرو کچھ خاص کر پائے اور انھوں نے تو خیر لٹیا ہی ڈبو دی۔
اب غم ہے تو صرف اقتدار کا۔ عوام صرف سٹریٹ پاور ہیں۔ ان کے مسائل کل بھی ان ہی کے تھے اور آج بھی ان ہی کے ہیں۔ بلکہ اب تو اقتدار کی جنگ لڑنا بھی عوام کا مسئلہ بن چکا ہے۔
خان صاحب کی باتیں سن کر مجھے اپنی ایک عزیزہ یاد آ جاتی ہیں جنھوں نے سیاست کا مضمون پڑھا اور ایم اے کے بعد کل وقتی گھرداری اختیار کر لی۔
جب کبھی گھر میں کوئی بات ان کی مرضی کے خلاف ہوتی تھی وہ ہاتھ پر ہاتھ مار کے کہتی تھیں، ‘اب دیکھنا میں کیسی انارکی پھیلاتی ہوں۔
انارکسٹ آپا کسی دلیل، کسی بات کو نہیں مانتی تھیں۔ ان کے مخالفین کھسیا کھسیا کر صفائیاں دیتے تھے لیکن نتیجہ وہی ڈھاک کے تین پات۔ بات انارکسٹ آپا کی ہی مانی جاتی تھی۔
خان صاحب نے لاہور کے جلسے میں کچھ نادیدہ مخلوقات کا ذکر کیا ہے ‘جن’ سے غلطی ہو گئی۔ ایسی ہی ایک مخلوق کا ذکر نوازشریف صاحب نے بھی کیا تھا جسے وہ خلائی مخلوق کہتے تھے۔
بات یہ ہے کہ ان لوگوں کا نام جلسوں میں لینے سے پہلے جب آپ چپکے چپکے ان سے پینگیں بڑھا رہے تھے اس وقت آپ کو ذرا ڈر نہ لگا کہ ان کے تو دم اور سینگ ہیں، یہ ناری ہم خاکی، کہاں یاری لگا رہے ہیں؟ بھلا آدم زادوں اور ‘ان’ کی دوستی بھی ممکن ہے؟
میاں صاحب اور خان صاحب کی کہانی میں ایک اختلاف ضرور ہے۔ خلائی مخلوق پر ہمیں بطور قوم اتنا یقین نہیں۔ ہاں ‘جن’ تو ہوتے ہیں۔ اس لیے ہمیں غلطی کرنے والے جنّوں پر بہت غصہ ہے۔
ہم نے یہ بھی سنا کہ جنّ انسانوں کی نسبت بہت طویل عمر پاتے ہیں۔ اس لیے ایک ایک جن نے کئی کئی حکمرانوں کے دور حکومت دیکھ رکھے ہوتے ہیں۔ ایک بار ایک صاحب نے بتایا کہ ان کا موکل بابر کے زمانے کے سیب لایا تھا وہ بھی فرغانہ سے، واللہ اعلم بالصواب!
جنّات سے زیادہ بگاڑنی بھی نہیں چاہیے سنا ہے شتر کینہ رکھتے ہیں۔ موقع مل جائے تو مربی کو ہی نگل جاتے ہیں۔ گاؤں، دیہات میں کسی کی جنّ سے منڈھ بھیڑ ہو جاتی ہے تو دنوں سہما پھرتا ہے۔ یہ شہر والے عجیب ہیں مجمع لگا کے ‘جنوں’ کی غلطیاں بیان کرتے ہیں۔
خیر یہ سب خدا کی مخلوق ہے، ہماری آپ کی طرح۔ دنیا ان کی بھی ہے جیسے ہماری اور آپ کی ہے۔ ان کے رہنے کے لیے الگ جگہیں ہیں۔ ان کو وہیں رہنے دینا چاہیے۔ جب آپ انسانوں سے مقابلہ کرنے کے لیے ان کو بلائیں گے تو کسی نہ کسی دن آپ کو بھی نقصان پہنچائیں گے چاہے غلطی سے ہی سہی۔
جنّوں کے بارے میں ہمارا تجربہ قصے کہانیوں تک محدود ہے۔ وہاں جنّات سے دوستی کے معاملات تو کہیں نہیں ملے، ہاں جنّوں کو مطیع کرنے کی بڑی داستانیں ہیں۔
ہم نے یہ بھی سنا کہ جنّ کو بوتل، انگوٹھی یا چراغ وغیرہ میں بھی بند کیا جا سکتا ہے۔ بعض جن ایسے بھی ہوتے ہیں جو سکیورٹی کی وجہ سے اپنی جان کسی طوطے میں ڈال کے کسی دور کی وادی میں چھپا آتے ہیں۔ کسی طرح اس طوطے کو حاصل کر لیا جائے تو جن قابو آجاتا ہے۔
یہ سب کچھ لکھنے سے راقم الحروف مقصود صرف اتنا ہے کہ اب کی بار جو بھی ایوان اقتدار میں آئے وہ جنّوں اور خلائی مخلوقات کا پکا بندوبست کر کے آئے ورنہ کل کو وہ بھی روتے پیٹتے سر میں خاک ڈالتے نادیدہ مخلوق کو کوستے اسی کوچے میں یوں ہی پکارتے نظر آئیں گے، ‘ایک بار دیکھا ہے، دوسری بار دیکھنے کی ہوس ہے۔’
(بشکریہ: بی بی سی اردو)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker