ایسے وقت میں جب ایران اور اسرائیل کی طرف سے ایک دوسرے پر حملے کرنے اور دھمکیاں دینے کا سلسلہ جاری ہے ،ایران نے پیش کش کی ہے کہ اگر اسرائیل جارحیت بند کردے تو ایران بھی جنگی کارروائی روک دے گا۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا یہ بیان موجودہ تنازعہ کی تباہ کاری کم کرنے میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔
گزشتہ روز اسرائیل نے ایران میں آئل ریفائینری کے علاوہ قطر کے ساتھ ایران کے گیس فیلڈ پر میزائل حملے کئے تھے۔ ان حملوں کا حوالہ دیتے ہوئے ایرانی وزیر خارجہ نے میڈیا سے باتیں کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل جان بوجھ کر اس جنگ کو ایران سے باہر توسیع دینا چاہتا ہے اور خلیج فارس تک پھیلانا چاہتا ہے۔ انہوں نے اسے خطرناک اشتعال انگیزی قرار دیا ہے۔ تاہم ان کی اس میڈیا ٹاک کا سب سے اہم پہلو جنگ بند کرنے کی طرف اشارہ ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ نے کوئی شرط عائد کئے بغیر اعلان کیاہے کہ اگر اسرائیل ، ایران کے خلاف جارحیت بند کردے تو ایران بھی میزائل حملے بند کردے گا۔ امریکہ سمیت پوری دنیا کو اس ایرانی پیش کش پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہئے اور اسرائیلی حکومت کو ناجائز اور غیر ضروری جارحیت روکنے پر آمادہ کرنا چاہئے۔ بصورت دیگر یہ جنگ خطرناک صورت اختیار کرسکتی ہے۔ اس سے اسرائیل محفوظ ہونے کی بجائے پہلے کے مقابلے میں زیادہ غیر محفوظ ہوسکتا ہے۔
اسرائیلی حملوں کے جواب میں ایران نے گزشتہ شب اسرائیل پر متعدد میزائل حملے کیے۔ اسرائیل کے فول پروف ائیر ڈیفنس سسٹم اور امریکہ و دیگر ممالک کی طرف سے اسرائیل کی طرف آنے والے میزائل و ڈرون مار گرانے کی کوششوں کے باوجود متعدد ایرانی میزائل اسرائیل میں اہداف تک پہنچے ۔ اسرائیل نے اعتراف کیاہے کہ حیفہ میں آئیل ریفائینری اس حملے کا نشانہ بنی ہے۔ اس کے علاوہ مختلف اسرائیلی علاقوں میں شہری آبادی سمیت متعدد ٹارگٹس پر میزائل گرے ہیں۔ جنگ کی موجودہ صورت حال میں ایک دوسرے کے نقصان کی حقیقی تصویر سمجھنا ممکن نہیں ہے لیکن اسرائیلی ذرائع کے مطابق گزشتہ رات کے حملوں میں کم از کم 10 شہری ہلاک ہوئے ہیں جن میں 3 بچے بھی شامل ہیں۔ جبکہ ایک سو سے زیادہ لوگ زخمی ہوئے ہیں۔ ایران میں اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں جاں بحق ہونے والوں کی تعداد 120 بتائی گئی ہے جن میں ددو درجن کے لگ بھگ بچے شامل ہیں۔
اتوار کی سہ پہر کو ایران کی طرف سے اسرائیل پر ایک نیا میزائل حملہ کیا گیا تھا جس کی تفصیلات یہ سطور لکھنے تک موصول نہیں ہوئی تھیں۔ البتہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے گزشتہ رات ایرانی میزائیلوں کا نشانہ بننے والے شہریوں سے ملاقات کے دوران دعویٰ کیاکہ ایران کو اس کی بھاری اور خوفناک قیمت ادا کرنا پڑے گی۔ لیکن دیکھا جاسکتا ہے کہ گزشتہ تین روز کی جنگ میں ایک دوسرے کو نقصان پہنچانے کے باوجود کوئی فریق بھی پیچھے ہٹنے پر آمادہ نہیں ہے۔ البتہ ایران کی طرف سے حملے بند کرنے کی دو طرفہ پیش کش خوش آئیند ہے۔ اب اسرائیل کو اس کا فائدہ اٹھانا چاہئے۔ بصورت دیگر یہ دکھائی دیتا ہے کہ اسرائیل اپنے دعوؤں کے مطابق ایران کی میزائل لانچ کرنے کی صلاحیت کو ختم کرنے یا بہت حد تک کم کرنے میں کامیاب نہیں ہؤا۔ ایران کی جوابی کارروائیوں اور کسی کمزوری کا اظہار نہ کرنے سے بھی یہی لگتا ہے کہ تہران طویل مدت تک اسرائیل کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس کا جائزہ خود اسرائیلی حکومت اور امریکہ کو لینا چاہئے تاکہ مشرق وسطیٰ کو ایک خطرناک جنگ سے بچایا جاسکے۔
گزشتہ رات ہونے والی ہلاکتیں اور تباہی اسرائیلی باشندوں کے لیے ایک نیا تجربہ ہے۔ اس سے پہلے اسرائیلی فوج غزہ کے علاوہ کسی بھی ہمسایہ ملک کو خطرہ قرار دے کر حملے کرتی رہی ہے اور کسی نہ کسی عذر کی وجہ سے اسرائیل خود محفوظ رہا ہے۔ البتہ ایران کے ساتھ جنگ شروع کرنے کے بعد اسرائیلی باشندوں کو جنگ کی تباہ کاری اپنے گھروں کے قریب دکھائی دی ہے۔ کئی لوگ مارے گئے ہیں اور اگر اسرائیلی حکومت نے جنگی دیوانگی روکنے کا اقدام نہ کیا تو نہیں کہا جاسکتا کہ آنے والے دنوں میں کتنا جانی و مالی نقصان ہوگا۔ صرف ایران کو تباہ کرنے کے شوق میں اسرائیلی شہریوں کو ہلاکت کی طرف دھکیلنا وزیر اعظم نیتن یاہو کی حکومت کی فاش غلطی شمار ہوگی۔ انہیں اس کی سیاسی قیمت بھی ادا کرنا پڑے گی ۔ اسرائیل کے شہریوں کو سوچنا چاہئے کہ کیا وہ ایک عاقبر نااندیش حکومت کو اپنا ملک تباہ کرنے کی اجازت دے سکتے ہیں۔
اسرائیل نے اپنے وجود کو لاحق خطرے کا دعویٰ کرتے ہوئے جمعہ کی رات ایران پر غیرمتوقع اور اچانک حملہ کیا تھا۔ موساد کے ایجنٹوں اور ایران میں بنائے گئے عسکری نیٹ ورک کے ذریعے اسرائیل ایران کی اعلیٰ عسکری قیادت اور متعدد جوہری سائنسدانوں کو ہلاک کرنے میں کامیاب ہؤا تھا۔ اسی رات درجنوں اسرائیلی طیاروں نے ایران کی متعدد جوہری سائیٹس پر بھی بمباری کی اور اعلان کیا کہ ایران کی ایٹم بم بنانے کی صلاحیت ختم کردی گئی ہے۔ وزیر اعظم نیتن یاہو نے جنگ کا آغاز کرتے ہوئے خود ہی یہ اعلان کیا تھا کہ اسرائیل کو ایران کے جوہری پروگرام کو روکنے کے لیے حملہ کرنے پر مجبور ہونا پڑا کیوں کہ اگر ایران ایٹم بم بنانے میں کامیاب ہوجاتا تو اسرائیل کا وجود خطرے میں پڑ سکتا تھا۔ اسرائیلی وزیر اعظم یاحکومت کے پاس اپنے اس دعوے کی تصدیق کے لیے کوئی شواہد موجود نہیں ہیں ۔ جبکہ پوری دنیا کے علم میں ہے کہ اسرائیل خود جوہری صلاحیت حاصل کرچکا ہے لیکن اس نے ایٹمی دھماکہ نہیں کیا۔ اس کے باوجود امریکہ اور جوہری پھیلاؤ کے خلاف کام کرنے والے ممالک و تنظیمیں اسرائیلی ایٹمی پروگرام کے خلاف بات نہیں کرتیں۔
البتہ حملوں کے ایک ہی روز بعد نیتن یاہو نے تہران حکومت گرانے کی باتیں شروع کردیں۔ ایک روز پہلے تل ابیب پر ایرانی میزائل حملوں کے بعد انہوں نے ایرانی عوام سے اٹھ کھڑے ہونے اور انتہاپسند اسلامی حکومت کا تختہ الٹنے کی اپیل بھی کی۔ پہلی رات ہونے والے ایرانی حملوں میں زیادہ جانی یا مالی نقصان نہیں ہؤا تھا۔ البتہ کل رات ہونے والے حملے زیادہ تباہ کن ثابت ہوئے۔ عام طور سے خیال کیا جارہا ہےکہ ایران نے اس بار زیادہ خطرناک اور تیز رفتار میزائل استعمال کیے ہیں۔ ایرانی لیڈر مسلسل کہہ رہے ہیں کہ حملوں کی شدت اور نوعیت میں اضافہ ہوگا۔ اسرائیل کے آئیرن ڈوم دفاعی سسٹم ، اعلیٰ فضائی صلاحیت اور امریکہ و دیگر ممالک کی مکمل حمایت کی وجہ سے اب بھی اسرائیل کی طرف آنے والے اکثر ایرانی میزائل فضا میں ہی تباہ کردیے جاتے ہیں۔ لیکن دیکھا جاسکتا ہے کہ گزشتہ رات ایران کے کچھ میزائل اہداف تک پہنچنے اور نقصان پہنچانے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ ایرانی وزیر خارجہ نے بتایا ہے کہ ایران نے اسرائیل کی طرف سے جنگ کا دائرہ کار بڑھانے کے بعد ہی معاشی اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔
اس وقت اسرائیل کے قریب ترین حلیف بھی نہیں جانتے کہ نیتن یاہو کی حکومت ایران پر حملے جاری رکھ کر کیا مقاصد حاصل کرنا چاہتی ہے۔ یوں بھی اگر اسرائیل کو ایران کے جوہری پروگرام سے خطرہ تھا اور اسے شدید نقصان پہنچایا جاچکا ہے تو شہری ٹھکانوں یا معاشی اہداف کو نشانہ بنانے کا کیا جواز ہوسکتا ہے۔ نیتن یاہو اپنی جنونیت میں کسی بھی قیمت پر ایران کو مکمل طور سے تباہ کرنے کی خواہش رکھتے ہیں۔ البتہ اسرائیل کی طرف سے ایران کی صلاحیتیں مفقود کرنے کے بارے میں جو اندازے پہلے دن کے حملوں کے بعد قائم کیے گئے تھے ، وہ اب غلط ثابت ہورہے ہیں۔ ایسی صورت میں جنگ کو طول دینے اور تباہی کو دعوت دینے کی بجائے اب جارحیت ختم کرنے کا وقت آپہنچا ہے۔
امریکہ کے علاوہ ایران بھی جوہری پروگرام کمے حوالے سے بات چیت کرنے اور معاہدے پر پہنچنے کا اظہار کررہا ہے۔ وزیر خارجہ عباس عراقچی کی اس بات میں وزن ہے کہ اسرائیل ان مذاکرات کو سبوتاژ کرنا چاہتا تھا اور وہ امریکہ اور ایران کے درمیان جوہری معاہدے کے خلاف ہے۔ اسی طرح ایران کے اس دعوے کو مسترد کرنا بھی ممکن نہیں ہے کہ اسرئیلی حملوں کو امریکہ کی تائید و حمایت حاصل ہے۔ ایران کوئی دوسرے شواہد نہ بھی پیش کرسکے تو بھی صدر ٹرمپ کے اپنے بیان اسرائیل و امریکہ کی اس ساز باز کا پول کھولنے کے لیے کافی ہیں۔
اب اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو اس حد تک ایرانی حملوں کا دباؤ محسوس کررہے ہیں کہ انہوں نے امریکہ سے براہ راست جنگ میں شامل ہونے کی درخواست کی ہے۔ امریکہ سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق ٹرمپ حکومت ایسا کوئی اقدام کرنے کے موڈ میں نہیں ہے۔ وہ خود جنگ بند کرنے کا وعدہ کرکے منتخب ہوئے ہیں۔ ایک نئی جنگ شروع کرکے وہ امریکی عوام کو شدید مایوس کریں گے۔ ان حالات میں ٹرمپ حکومت کو تمام تر سفارتی دباؤ استعمال کرکے نیتن یاہو کو مزید جارحیت سے روکنا چاہئے تاکہ تباہی کے ایک ناقابل یقین سلسلہ کو روکا جاسکے۔
(بشکریہ: کاروان ناروے)
فیس بک کمینٹ

