اسلام آباد : قومی خبر رساں ادارے (ا ے پی پی ) ایمپلائز یونین (سی بی اے ) کے زیر اہتمام ادارے کو لازمی سروس ایکٹ 1952 کے تحت لانے کے فیصلے کےخلاف ہیڈ کوارٹر اسلام آباد میں احتجاجی مظاہرہ کیا گیا اور حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ فی الفور اس فیصلے کو واپس لیا جائے اورا س اقدام کو ورکرز کے حقوق کوسلب کرنے اور آزادی اظہار رائے پر پابندی لگانے کے مترادف قرار دیا گیا ۔
احتجاجی مظاہرے کی قیادت یونین کے صدر شہزاد علی اکبراور جنرل سیکرٹری ندیم اقبال اور دیگر قائدین نے کی۔ احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ ہم کسی صورت اس کالے قانون کو تسلیم نہیں کریں گے۔ اس فیصلے کو فی الفور واپس لیا جائے بصورت دیگر اس اقدام کے خلاف ہر قانونی اور جائز طریقہ احتیارکیا جائے گا۔ قائدین نے کہا کہ اے پی پی انتظامیہ اس کالے قانون کے پیچھے ورکرزکے استحصال اور حقوق پر ڈاکہ ڈالنے کی سازش کررہی ہے۔یونین کسی سازش کو کامیاب نہیں ہونے دے گی اور ہرمحاذ پر ورکرز کے حقوق کی جنگ لڑیں گے۔
احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے قائدین نے پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹ کے صدر افضل بٹ، پی ایف یو جے دستور کے صدر حاجی نواز رضا، صدر پی ایف یو(برنا) جی ایم جمالی، سیکرٹری جنرل رانامحمد عظیم، نیشنل پریس کلب کے صدر انور رضا، جنرل سیکرٹری خلیل راجہ، ینگ جرنلسٹ ایسوسی ایشن کے صدر ملک زبیر اعوان اوردیگر تمام دھڑوں سے اظہار تشکر کیا جنہوں نے باقاعدہ پریس کانفرنس اورپریس ریلیز کے ذریعے اے پی پی کے وکررز اور یونین کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا اور توقع ظاہر کی کہ وہ اے پی پی ایمپلائز یونین کی جدوجہد میں شانہ بشانہ کھڑے ہوں گے اور اس کا لے قانون کی واپسی کے لئے حکومت میں شامل تمام سیاسی جماعتوں اور قائدین سے بات کریں گے۔ احتجاجی مظاہرے سے یونین کے صدر شہزاد چوہدری ، جنرل سیکرٹری راجہ ندیم اقبال، نائب صدر راجہ محمد خلیل، جوائنٹ سیکریٹری طارق چوہدری اور ایگزیکٹو ممبر سہیل اقبال چیمہ نے بھی خطاب کیا۔
فیس بک کمینٹ

