اسد اللہ غالبکالملکھاری

جنت کے گلابوں اور جہنمی انگاروں کے لئے یکساں سہارا: انداز جہاں / اسد اللہ غالب

یہ طالب علموں اور طالبات کا ایک ہجوم تھا، ان میں سے کئی ایک نے پہلی بار لاہور دیکھا تھا، یہ ان کے لئے نیا پاکستان تھا، روشنیوں ، رنگوں اور مسکراتے پھولوں کا شہر جس نے لاہور نہیں دیکھا اس نے کچھ نہیں دیکھا مگر اس محفل میں سے ایک طالب علم اسٹیج پر آیا اس نے کہا کہ کبھی خضدار کو بھی دیکھنے آؤ، دوسرا طالب علم اسٹیج پر آیا تواس نے درد بھرے انداز میں کہا کہ میں روہی دیس کی ایک چیخ ہوں جو شاید یہاں آپ کوسنائی نہیں دے گی، اس کے لئے کبھی روہی کی دھرتی پر قدم رکھو مگر وزیرستان کی ایک طالبہ نے جب مقامی زبان میں ایک شعر پڑھا اور پھر اس کا ترجمہ کیا تو محفل کو رلا ہی دیا طالبہ نے کہا تھا کہ مجھے جنت کا گلاب بنا دیا جائے یا میں جہنم کا ایک انگارہ بن کر رہ جاؤں مگر میں جوکانٹوں بھری زندگی بسر کر رہی ہوں، اسے بھول نہیں پاؤں گی یہ کاروان علم فاؤنڈیشن کی سالانہ تقریب تھی، پورے ملک سے ان ہونہار بچوں کو مدعو کیا گیا تھا جو اس ادارے کی مالی معاونت سے اپنی تعلیم مکمل کرنے میں مصروف ہیں، گلگت ، بلتستان، فاٹا، کے پی کے، بلوچستان ، سندھ اور پنجاب کے طلبہ و طالبات کی یہ محفل چھوٹے سے پاکستان کا منظر پیش کر رہی تھی میں زندگی میں کبھی حسد کا شکار نہیں ہوا، مگر اس روز جب پہلی تقریر کے لئے کالم نگار اور اینکر جاوید چودھری تقریر کرنے آئے اور پھر تقریب کے آخر میں جناب اعجاز حسن قریشی نے ان کا خصوصی طور پر شکریہ ادا کیا کہ جاوید چودھری کی کوششوں سے اس ادارے کو کروڑوں کے فنڈ دستیاب ہوئے اور یہ فنڈ اب تک لاکھوں نوجوانوں کی زندگی میں خوش کن انقلاب برپا کر چکے ہیں تو یقین مانئے میں مارے شرم کے زمین میں گڑ گیا، کیونکہ میں وہ طالب علم ہوں جو کاروان علم کی تشکیل سے بھی پہلے ڈاکٹر اعجاز حسن قریشی کی مالی معاونت سے گورنمنٹ کالج میں تعلیم مکمل کرنے میں کامیاب ہوا اور پھر اللہ نے مجھے بھی وہی قلم عطا کیا تھا جو جاوید چودھری کو عطا ہوا مگر میں اپنے محسن و مربی اور ان کے ادارے کی وہ خدمت نہ کر سکا جو اللہ نے جاوید چودھری کے حصے میں لکھ دی، یہ میری زندگی کی ایک ایسی شکست ہے جس کی کسک مجھے ہمیشہ بے کل رکھے گی۔ میں بھی جاوید چودھری کا شکر گزار ہوں کہ وہ میرے اولیں محسن اور مربی ڈاکٹر اعجاز حسن قریشی کے لئے دست و بازو بنے اور ان کی کاوشوں سے میرے جیسے لاکھوں بے مایہ طالب علم زندگی کی دوڑ میں شریک ہونے کے قابل ہوئے۔کاروان علم فاؤنڈیشن کی تشکیل کا خیال ڈاکٹر اعجاز حسن قریشی کے ذہن میں کب آیا ، کیا ا س وقت جب وہ ایک لٹے پٹے قافلے کے ساتھ مشرقی پنجاب کے دور دراز علاقے سے افتاں و خیزاں پاکستان کی سرحد کی طرف رواں دواں تھے یا اس وقت جب وہ جرمنی میں پی ایچ ڈی کرنے گئے اور انہوں نے سوچا کہ یہ ان کی زندگی میں ایک خدائی معجزہ ہے، انہوں نے شاید ا س لمحے سوچا کہ وطن عزیز میں لاکھوں طالب علم ایسے ہیں جو انہی کی طرح ذہنی صلاحیتوں سے مالا مال ہیں مگر تہی دست ہونے کی وجہ سے یا تو سکول کا راستہ تک نہیں دیکھ پاتے یا کہیں درمیان میں تعلیم ادھوری چھوڑنے پر مجبور ہو جاتے ہیں اور نہ اپنی مدد کر سکتے ہیں، نہ خاندان کی کفالت کر سکتے ہیں، نہ پاکستان کی خدمت کے قابل رہتے ہیں۔ انہوں نے کچھ دوستوں سے مشورہ کیا ہو گا، ایک خیال ان کے سامنے رکھا ہو گا،، شکر ہے انہیں کسی نے بھکاری اور سوالی نہیں سمجھا اور آفرین ہے ان ہستیوں پر جنہوں نے ان کی آواز پر لبیک کہا میں کبھی ڈاکٹر صاحب کی خدمت میں حاضر ہو کر اس ادارے کی تشکیل بارے تفصیلات حاصل کروں گا۔اس روز لاہور کا ایک فائیو اسٹار ہوٹل کا وسیع ہال طالب علموں سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔ ڈاکٹر اعجاز حسن قریشی اپنے خطاب کے لئے اسٹیج پر آئے، انہوں نے ایک نظر وسیع و عریض پنڈال پر ڈالی تو وہ اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکے وہ بچوں کی طرح بلک بلک کر رونے لگے وہ آنسوؤں کی زبان سے رب کریم کی بے پایاں عنایات کے لئے سراپا سپاس تھے جن کی بدولت وہ ایک عرصے سے نادار مگر ہونہار طالب علموں کی دستگیری کر رہے ہیں۔ انہیں اپنی والدہ گرامی قدر بھی یادآئیں جو انہیں بڑا نسان بنانا چاہتی تھیں، پھر ان کی آنکھوں کے سامنے کروڑوں ماؤں کے چہرے گھوم گئے ہوں گے جو اپنے اپنے لاڈلوں کو چاند ستاروں کی طرح چمکتے دمکتے دیکھنا چاہتی ہیں اور پھر وہ ا س راہ پر چل پڑے جوکٹھن تو بہر حال تھی مگر اس کا پھل بے حد لذیذ اور میٹھا ہے۔کاروان علم کی طر ف سے وظائف دیئے جاتے ہیں مگر میری حیرت کی اس وقت کوئی انتہا نہ رہی جب اسٹیج پر اظہار خیال کے لئے ایک نابینا طالب علم آیا وہ اس وقت پنجاب یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کر رہا ہے مگر اس نے بتایا کہ اس نے کاروان علم کو یہ تجویز دی تھی کہ ہمیں اپنے آپ پر بوجھ نہ بنائیں، اس کے لئے وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے کہیں کہ وہ نابینا طالب علموں کو مفت تعلیم دیں، اس کی تجویز انوکھی تھی اور اس کی منظوری کے لئے حکومتی دفتروں کے سرخ فیتے کو عبور کرنا پڑتا تھا مگر اب تک کاروان علم کئی صوبوں کو اس تجویز پر عمل پیرا ہونے کے لئے مائل کر چکا ہے، اب نابینا طالب علموں سے کوئی فیس نہیں لی جاتی، ان کو ہوسٹل میں بھی مفت رہائش دستیاب ہے اور یونیفارم کے لئے بھی مناسب اعانت جاری کی جاتی ہے۔ ڈاکٹر اعجاز حسن قریشی کے جذبوں کو دیکھتے ہوئے انہیں نوے سالہ نوجوان کا خطاب دیا گیا ہے، خدا کرے، ان کی جوانی قائم و دائم رہے، وہ جذبوں سے معمور رہیں اور انہیں ایسے ساتھی ملتے جائیں جن کی مدد سے وہ جوہر قابل کو پاکستان کی خدمت کے قابل بنانے کا عمل جاری رکھیں، جوہر قابل سے مجھے یادآیا کہ کاروان علم کی طرف سے اسی نام سے ایک کتاب شائع کی جا چکی ہے جس میں ان بچوں کی کہانیاں ہیں جو اس ادارے کے طفیل زیور تعلیم سے آراستہ ہوئے اور آج بڑے مناصب پر جلوہ افروز ہیں، یہ خوبی بھی قابل ذکر ہے کہ اس ادارے سے مستفید ہونے والوںنے اپنے ماضی کو فراموش نہیں کیا اور وہ ا پنی آمدنی سے کاروان علم کو باقاعدگی سے فنڈ دے رہے ہیں تاکہ ان کی طرح کے دیگر بے سہارا اور بے نوا نوجوان تعلیم کے سفر کو مکمل کر سکیں۔ تعلیم میں کسی کو مدد دینا پہلی وحی پر عمل کرنے کے مترادف ہے جس میں خدا نے اپنے نبی کو حکم دیا تھا کہ پڑھ۔ اپنے رب کے نام سے جس نے آپ کو پیدا کیا، جواب ملا میں تو امی ہوں اور جبرائیل نے حضور کو گلے سے لگایا اور سارا علم ان کے سینے میں منتقل کر دیا۔ پڑھنے پڑھانے میں اعانت کرنا اس پہلی وحی الہی کی تعمیل ہے جو ہر مسلمان اور کلمہ گو پر فرض ہے، آپ کے گرد بھی کوئی بچہ پڑھنے کی طلب رکھتا ہے اور اس کے پاس وسائل نہیں تو اس کی مدد فراخدلی سے کیجئے، آپ بھی اس کاروان علم کا حصہ بن جائیں گے۔ میں توقع رکھتا ہوں کہ اس محفل کی کارروائی کے اختتام پر وزیرستان کی طالبہ اور روہی دیس کے طالب علم کی نا امیدی اور تلخی ختم ہو گئی ہو گی اور انہیں احساس ہوا ہو گا، کہ اب ان کی زندگی کانٹوں کا سفر نہیں، یہ پھولوں کی خوشبو سے لبریز ہے، پھول جو علم کے گہوارے میں کھلتے ہیں اور چاروں طرف بہار کا سماں پیدا کر دیتے ہیں کاروان علم فاؤنڈیشن کے خالد ارشاد صوفی کوا س کامیاب تقریب کے انعقاد اور اس ادارے کے کارہائے نمایاں پر دلی مبارکباد! کبھی میں بھی اپنی زندگی کے اس تجربے کو قلم بند کروں گا جب میرے پاس بھی وسائل کی کمی تھی مگر ڈاکٹراعجاز حسن قریشی کی شکل میں ایک فرشتے نے میری دست گیری کی یہ دنیا ایسے ہی فرشتہ صفت انسانوں کے دم قدم سے شاد و آباد ہے اور رہے گی، ان شاءاللہ !!
(بشکریہ: روزنامہ نوائے وقت)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker