2018 انتخاباتاختصارئےلکھاری

اسد عمر نے اینگرو کو جرمانہ کرایا اور نوکری سے ہاتھ دھو بیٹھے ۔ ۔ شاہد خان

گزشتہ رات ایک نجی ڈنر میں معروف سابق سینیٹر انور بیگ سے ملاقات ہوئی۔ جو کبھی پیپلز پارٹی میں تھے اور بے نظیر بھٹو کی شہادت کے بعد آصف زرداری سے مخاصمت پر مسلم لیگ ن میں چلے گئے اور ایک مدت سے ان سے بھی الگ ہیں ۔ ۔ ان کا کہنا تھا کہ عمران خان اور کئی قریبی دوستوں نے ان پر زور دیا تھا کہ وہ تحریک انصاف کے کسی بھی اہم رتبہ سے اس میں شامل ہوں ۔
سابق سینیٹر انور بیگ کو بھی تحریک انصاف کی اس فتح پر یقین نہیں آرہا تھا ۔ گفتگو میں اسد عمر اور ان کی ماہر معیشت ہونے کا ذکر آیا تو انور بیگ نے کہا کہ وہ ایک کمپنی کا سربراہ تھا مگر ماہر معیشت نہیں اور پی ٹی آئی کے پاس معاشی ماہرین کی کمی ہے ۔
اس پر کچھ تحقیق کی تو آئی ایم ایف کے قرضے اور عمران کا دعوی سامنے تھا اور ساتھ ہی اب اسد عمر کا آئی ایم ایف سے رجوع ۔۔ ان کا ماضی بتا تا ہے کہ پاکستان کی ایک بڑی کمپنی اینگرو یوریا اسد عمر کے “دورِ حکمرانی ” میں ہیرو سے زیرو ہو گئی تھی ۔ انہوں نے بطور CEO اینگرو کارپوریشن، فوجی فرٹیلائزر کے ساتھ مل کر 2011ء میں پاکستان کی کھاد کی مارکیٹ میں زبردستی منہ مانگے پیسوں پر غریب کسانوں کو کھاد فراہم کی جس پر بعد میں اینگرو کارپوریشن اور فوجی فرٹیلائزر کو جرمانہ دینا پڑا اور اسد عمر اپنی نوکری سے ہاتھ دھو بیٹھا۔ یاد رہے بڑی کمپنیز میں اس طرح کے گھپلوں میں نکالے جانے کی بجائے اس کو مستعفی کرایا جاتا ہے ،ٹربیون کی رپورٹ ملاحظہ فرمائیں
Asad Umar who is often dubbed as clean. Well, Asad Umar has been found guilty of illegal hoarding and increasing the price of Urea the highest in 32 years . Asad Umar was fired by Engro.
Asad Umar was CEO of Engro Corporation for 7 years until 2012 and CCP found that Engro created cartel (Muk Muka) with Fauji Fertilizers in 2010-11 and increased the price up to 86% without any solid reason. Pakistan Army’s Fauji Fertilizer was also slapped with Rs. 5.5 Billion fine for price fixing.
The country’s top antitrust watchdog has slapped a maximum collective penalty of Rs8.6 billion on Fauji Fertilizer and Engro Fertilizers – the two largest urea manufacturers in the country – after both entities were found involved in the “excessive pricing of urea”.
According to the bench’s findings, Rs77 billion were given in subsidies to the fertiliser industry over three years. In 2011 alone, Engro Fertilizers had received a subsidy of Rs4.5 billion, while Fauji Fertilizer had received approximately Rs11 billion in subsidies.

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker