عطاء الحق قاسمیکالملکھاری

عطاء الحق قاسمی کا کالم : شاہراہِ ’’دوستی‘‘

یہ آج کی نہیں پرانے وقتوں کی بات ہے جب میں ایک شام کو یونیورسٹی کیمپس کی طرف سے گزرا تو طلبہ و طالبات کے جھنڈ کے جھنڈ ایک سڑک پر ادھر سے ادھر اور ادھر سے ادھر آتے جاتے نظر آئے جس طرح مری کی مال روڈ پر چند منٹوں کے بعد چہرے REPEATہونا شروع ہو جاتے ہیں، اس طرح اس چھوٹی سی سڑک پر بھی بار بار وہی چہرے دکھائی دیتے تھے اور ہر بار فقرے اچھالتے ہوئے گزرتے چلے جاتے تھے۔ قریباً آدھ گھنٹے تک اس سڑک پر چہل قدمی کرنے کے بعد میں متجسس ہوا کہ معاملہ کیا ہے؟ چنانچہ ایک نوجوان سے کہ اس نے مونچھیں پالی ہوئی تھیں اور چادر کی بکل ماری ہوئی تھی، ماجرا پوچھا۔ اس مردِ قوی ہیکل نے مونچھیں مروڑتے ہوئے بتایا کہ اس چھوٹی سی سڑک پر تین گرلز ہاسٹل ہیں اور یہ سب رونق اُنہی کے دم سے ہے۔ اس پر میں نے کہا کہ اگر یہاں گرلز ہاسٹل ہیں تو یہ نوجوان یہاں کیا کر رہے ہیں؟ یہ سن کر اس مردِ گستاخ نے ایک نظر میری طرف دیکھا اور کہا پہلے یہ بتائو کہ تم یہاں کیا کر رہے ہو؟ میں نے اس سوال کو ناپسند کیا اور کہا میں تمہارے اس سوال سے ناخوش ہوں، تم نوجوانوں کی آنکھوں میں حیا نہیں رہی۔ چھوٹے بڑے کی تمیز نہیں رہی مگر خیر! یہ بتائو یہ لڑکیاں تم نوجوانوں کی فقرے بازیوں کا برا نہیں مانتیں؟ یہ سن کر اس بےحیا نے تبسم کیا اور کہا پتہ نہیں لیکن ہم تو ان کے فقرے بڑے تحمل سے سنتے اور سہتے ہیں۔ سو اس ناہنجار کی گفتگو سے مجھ پر یہ بھید کھلا کہ پانی سر سے گزر چکا ہے اور اس شخص سے افہام و تفہیم کی کوئی گنجائش نہیں!
تھوڑی دیر بعد اس سڑک پر ایک اور نوجوان مجھے مل گیا کہ شکل و صورت سے صالح لگتا تھا۔ اس مجمع میں آنکھیں جھکا کر چلتا تھا، سو جس سے ٹکرانا ہوتا اس سے جا ٹکراتا۔ میں تھا کہ محض قوم کی زبوں حالی دیکھنے کے لئے اس سڑک پر بادل نخواستہ چہل قدمی کر رہا تھا، اپنے ایسے شریف انسان کو دیکھ کر خوش ہوا، اسے روک کر گلے سے لگایا۔ اس کی بلائیں لیں اور پوچھا۔ اے عزیز! تم یہاں کیا کر رہے ہو؟ اس برخوردار نے نظریں زمین میں گاڑے ہوئے کہا میں روزانہ شام کو اس طرف آ نکلتا ہوں اور پھر واپس ہاسٹل پہنچ کر خون کے آنسو روتا ہوں۔ میں نے پوچھا۔ میں نے پوچھا ! اے جانِ حیا تم کون سے ہاسٹل جاتے ہو؟ اس نے اسی طرح نظریں زمین میں گاڑے ہوئے روہانسا ہو کر جواب دیا ’’جناب اپنے ہی ہاسٹل جاتا ہوں جو لڑکیوں کے ہاسٹل کے قریب ہی ہے جناب! میں اس صورتحال سے بہت پریشان ہوں اور اس کے تمام پہلوئوں کا بغور مطالعہ کرتا رہتا ہوں۔ میں نے ایک دوربین خریدی ہوئی ہے آپ بھی مجھے اہل دل لگتے ہیں کبھی وقت ملے تو میرے ہاسٹل میں تشریف لائیں‘‘۔ میں نے اس نوجوان کو تھپکی دی اور دعائیں دے کر رخصت کرتے ہوئے کہا۔ ’’اے عزیز! میں تمہاری طرف ضرور آئوں گا، تم نے اگر اپنی دوربین کسی اور اہل دل کو مستعار دی ہو تو اس سے واپس لے رکھنا‘‘۔
قریب تھا کہ میں اس صورتحال سے دلبرداشتہ ہو کر واپس لوٹتا کہ ناگاہ میری نظر ایک پرانے شناسا پر پڑی کہ بہت عرصہ پیشتر اورینٹل کالج میں وہ میرے ساتھ ایم اے اردو کا طالبعلم رہ چکا تھا، میں نے بڑھ کر اسے گلے لگایا، زور سے بھینچا اور یہ شعر پڑھا ؎
اے دوست کسی ہمدم دیرینہ کا ملنا
بہتر ہے ملاقات مسیحا و خضر سے
اس نے بھی میری اس گرمجوشی کا جواب اسی گرمجوشی سے دیا اور پیشتر اس کے کہ میں پوچھتا اس نے پوچھا تم یہاں کیا کر رہے ہو مگر میں نے اس سوال کو گول کیا اور کہا میری چھوڑو تم بتائو تم کیا کر رہے ہو ؟ جس پر اس نوجوان نے کہ بال جس کے سفید ہو چکے تھے کہا، ایم اے اردو کے بعد میں نے ایم اے فارسی، عربی، اسلامیات، معاشیات، نفسیات اور سوشیالوجی کیا اور ان دنوں پولیٹکل سائنس میں ایم اے کر رہا ہوں۔میں نے کہ اردگرد کی صورتحال سے تاحال پریشان تھا اس کے جواب سے صرف نظر کیا اور کہا، ’’تم یہ ڈاریں دیکھ رہے ہو؟‘‘ اس مرد بزرگ نے دیدے ادھر ادھر گھماتے ہوئے پوری ڈھٹائی سے جواب دیا۔ یہی دیکھنے کے لئے تو میں بھی روزانہ شام کو یہاں مٹر گشت کرتا ہوں اور پھر اس نے مجھے سمجھایا کہ یہ سب کچھ بہت خوش آئند ہے، کیونکہ پوری یونیورسٹی میں یہ وہ واحد اسپاٹ ہے جہاں لیفٹ رائٹ کی کوئی کشمکش نہیں یہاں سب شانے سے شانہ ملا کر چلتے ہیں۔ میں تو اس سڑک کو امن کی علامت سمجھتا ہوں۔ میں اس کے اس لیکچر سے بدمزہ ہوا اور کہا وہ تو ٹھیک ہے مگر ان نوجوانوں کو دیکھو ان کی آنکھیں کس طرح تارے لگی ہوئی ہیں۔ آخر میں بھی دو سال تک یونیورسٹی میں رہا ہوں اس وقت بھی مخلوط تعلیم تھی بلکہ میرے شعبے میں لڑکیوں کی تعداد لڑکوں سے کہیں زیادہ تھی تمہیں تو یاد ہوگا۔ باہر کے لوگ اورینٹل کالج کو ’’کڑیاں دا کالج‘‘ کہا کرتے تھے ’’مگر میں نے کبھی کسی کو آنکھ اٹھا کر نہیں دیکھا۔ ‘‘یہ سن کر بجائے اس کے کہ اس پر رقت طاری ہوتی، اس بے حیا نے کانوں کو ہاتھ لگا کر ’’اللہ معافی‘‘ کہا اور پھر ہنستے ہنستے پیٹ پکڑ کر وہیں بیٹھ گیا! تھوڑی دیر بعد وہ اٹھا، ایک نظر مجھ پر ڈالی ایک بار پھر کانوں کو ہاتھ لگا کر ’’اللہ معافی‘‘ کہا اور ہنستے ہنستے پیٹ پکڑ کر دوبارہ وہیں بیٹھ گیا۔
( بشکریہ : روزنامہ جنگ )

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker