انسان جدید ٹیکنالوجی کے دور میں داخل ہو چکا ہے۔ آئے روز نت نئی ایجادات دیکھ دیکھ کر اب تو حیرت بھی نہیں ہوتی ۔انسان جتنی پیچیدہ تخلیق ہے اتنی ہی پیچیدہ ایجادات کرنے کے درپے ہے۔یہ سوچے بغیر کہ کہیں اس کی ایجادات اس کی تباہی کا سبب نہ بن جائیں۔آرٹیفیشل انٹیلیجنس ایسی ہی تباہی کی طرف لے کر جانے والے ایجادات میں سے ایک ہے۔ گوکہ اس ٹیکنالوجی کا علم کچھ نہ کچھ ہم سب کو ہوگا ہی پھر بھی آسان ترین الفاظ میں کچھ تعارف کرا دیتے ہیں۔۔مصنوعی ذہانت مشینوں میں سوچنے سمجھنے اور خود سے فیصلے لینے کی صلاحیت ڈالنے کا نام ہے۔
اس کے تین درجے ہیں۔۔پہلے درجے (weak AI)میں فوٹو شاپ ۔۔ورڈپاور ایکسل گیمز وغیرہ شامل ہیں۔۔دوسرے درجے پر آجاتی ہے(strongAI) یہاں انٹیلیجنس کو نسبتاً مضبوط شکل دے دی گئی ہے جس کی مثالیں ہمارے اردگرد بکھری پڑی ہیں اس درجے میں مشینوں میں کسی حد تک خود سے سمجھنے فیصلہ لینے کی صلاحیت بھی شامل کر دی گئی ہے۔ جن میں ایسے ‘ siri’ Google asistant’ alexa’ translater ‘ google map facebook chatbox ‘ face recognition apps ‘ robotic technology..وغیرہ۔۔
اور تیسرے درجے پر آتی ہے super typ یعنی” singularity ” اس درجے میں ایک مشین میں ہو بہو انسان کے دماغ جیسا پروسیسر ہوگا یا انسان کا دماغ مشین میں منتقل کرنا۔ اس اسٹیج تک پہنچنا فی الوقت ممکن نہیں لیکن کام جاری ہے۔۔اور بلاشبہ اس کے پیچھے انسان کی ہمیشہ زندہ رہنے کی خواہش کا ہاتھ ہے اور قدرت سے لڑنا کبھی انسان کے حق میں بہتر ثابت نہیں رہا ۔
بے شک دوسرے درجے کی مصنوعی ذہانت ہمارے لیے بہت مددگار ثابت ہورہی ہے ۔۔اور یہیں تک محدود رہتی تو شاید بہتر تھا ۔ لیکن کیا کیا جاے حضرت انسان کو چین کسی صورت نہیں لہذا اس مصنوعی ذہانت کو مزید خود مختار بنانے کے چکروں میں ہیں۔۔اور یہیں سے مسائل کا آغاز بھی ہوچکا ہے ۔ دنیا کے کئی نامی گرامی سائینسدان اور تھنک ٹینک اس ایجاد پر تشویش کااظہار کر چکے ہیں۔۔اور مصنوعی ذہانت کے حق میں نہیں۔۔
ان کے مطابق ایک بار اگر مصنوعی ذہانت تشکیل پا گئی تو یہ خود ہی اپنے آپ کو ری ڈیزائین کرکے بہتر سے بہتر ہوتی جائے گی۔۔اور ایک وقت آئے گا جب یہ انسانوں سے زیادہ چست اور قابل ہوجائے گی۔انسان غیر فعال ہو کر رہ جاے گا ۔۔جبکہ یہ ہر معاملے میں انسان سے برتر ہوتی جائے گی۔پھر ہوسکتا ہے ان کو انسان ہی فضول لگیں اور ان کے خاتمے کے بارے میں سوچنا شروع کر دے۔
حساس طبقہ مصنوعی ذہانت سے خوفزدہ کیوں ہے آیئے کچھ واقعات سے اس خوف کا پس منظر سمجھتے ہیں۔
۔1۔۔چند سال پہلے فیس بک نے دو روبوٹک سافٹ وئیر بنائے جن کا مقصد فیس بک پر موجود صارفین کا ڈیٹا جمع کرنا چیٹ کرنا اور مختلف زبانوں کو سمجھ کر آگے منتقل کرنا تھا ۔۔کچھ ہی عرصے میں ہوا یہ کہ یہ روبوٹ ایک عجیب سی زبان میں ایک دوسرے سے باتیں کرنے لگے ایسی زبان جس سے انتظامیہ مکمل طور پر لاعلم تھی۔ جب ان کی سمجھ میں کچھ نہ آیا کہ یہ آپس میں بات کیا کر رہے ہیں آخر تو پریشانی سے انہوں نے یہ روبوٹ ڈی ایکٹیویٹ کر دیے۔۔
۔2 ..مائکروسافٹ نے بھی ایسا ہی ایک مصنوعی ذہانت پر مشتمل tay نامی سافٹ وئیر بنایا جس کا مقصد مختلف ٹیکنالوجی کی خبروں پر خود کار طریقے سے ٹویٹس کرنا تھا۔۔لیکن ہوا یہ کہ سولہ گھنٹے کے اندر اندر یہ سافٹ وئیر بند کرنا پڑا کیونکہ یہ عجیب وغریب ٹویٹس کرنا شروع ہوچکا تھا ۔۔جن میں شدت پسندی’ تعصب’ شر پسندی وغیرہ شامل تھی۔ عوام نے احتجاج کیا انہوں نے اس معذرت کے ساتھ بند کیا کہ اس سافٹ وئیر کو شاید ہیک کرکے چینج کیا گیا۔۔
۔3..سن2016میں ہانگ کانگ نے صوفیہ نامی ایک روبوٹ تیار کیا ہے جوکہ چہرے پر پچاس سے زائد تاثرات دے سکتا ہے ۔۔انسانوں سے گپ شپ لگا سکتا ہے مشورے دے سکتا ہے حتی کہ ہنسی مذاق بھی کرسکتا ہے اس کو سعودی عرب نے شہریت بھی دے دی ہے۔۔شاید پہلا روبوٹ ہوگا جسے کسی ملک نے شہریت دی ۔ اب سعودیہ نے شہرت کیوں دی یہ تو ان کو پتہ۔۔صوفیہ کے بہت سے انٹرویوز لیے گئے۔۔ایک انٹرویو کے دوران اینکر نے اس سے سوال پوچھا آپ کو انسانیت سے خطرہ ہوا تو کیا کریں گے؟؟
صوفیہ نے مسکرا کر کچھ یوں جواب دیا "تب ہمیں انسانوں کو تباہ کرنے میں دلچسپی ہوگی ”
۔۔اینکر کو اس جواب کی توقع یقیناً نہیں تھی یہ چونکا اس نے زبردستی مسکرانے کی کوشش کی اور بات کو ٹال دیا۔۔کچھ ایسی گیمز بھی موجود ہیں جہاں مصنوعی ذہانت اپنے بنانے والوں کو ہرا چکی ہے ۔
۔لیبس میں کئی تجربات ایسے بھی کیے گئے ہیں جہاں روبوٹس کو کچھ ٹاسک دیے گئے تو انہوں نے ان تجربات میں اپنی طرف سے تبدیلیاں کردیں ۔۔کچھ روبوٹس نے دھوکے بازی تک سے بھی کام لیا ۔۔تو ان واقعات کی روشنی میں بخوبی سمجھا جا سکتا ہے کہ مصنوعی ذہانت کتنی خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔
جاری ہے
فیس بک کمینٹ

