عطاء الحق قاسمیکالملکھاری

نماز کے بعد ۔۔روزن دیوار سے /عطا ء الحق قاسمی

گزشتہ روز میرے ایک دوست نے تازہ تازہ ’’اسلام‘‘ قبول کیا ہے یعنی اس نے اپنی زندگی کی پہلی نماز ادا کی ہے اور وہ اس کے بعد سے نماز کے لئے سراپا تحسین بنا ہوا ہے۔ وہ گزشتہ روز میرے پاس آیا تو اس کی باتوں سے لگا کہ میں کسی مبلغ اسلام کی صحبت میں بیٹھا ہوا ہوں۔ وہ بولا ’’یار عطا !نماز تو نماز یہ وضو بھی کمال کی چیز ہے۔‘‘ میں نے پوچھا ’’کیا مطلب؟‘‘ کہنے لگا ’’پہلے میں نے ہاتھ دھوئے جو میں کم ہی دھوتا ہوں۔ اس سے ہاتھوں پر جمع گردو غبار صاف ہو گیا۔ اس کے بعد میں نے کلی کی اور ناک کے دونوں نتھنوں میں پانی ڈالا جو کافی دور تک اندر گیا جس سے منہ اور ناک کی ساری رطوبتیں خارج ہوگئیں۔ یہ نصیحت تو میرا ڈاکٹر مجھے کیاکرتا تھا مگر میں نے اس کی کبھی نہیں مانی تھی مگر اس عمل کے نتیجے میں میری ناک جو بند چلی آرہی تھی، وہ کھل گئی۔ پھر میں نے منہ سے لے کر پائوں تک اپنے جسم کے باقی حصے بھی دھوئے۔ اس سے نہ صرف یہ کہ میرا جسم آلودگیوں سے پاک ہو گیا بلکہ میں نے خود کو بہت فریش بھی محسوس کیا۔‘‘ میں اپنے دوست کی یہ باتیں بہت دلچسپی سے سن رہا تھا کیونکہ ان باتوں کی کبھی اس سے توقع ہی نہیں کی جاسکتی تھی۔ اس نے مجھے اپنی جانب متوجہ پایا تو اس کے جوش و خروش میں اضافہ ہوگیا۔اس نے کہا ’’اور سچی بات یہ ہے کہ نماز کا تو جواب ہی نہیں۔‘‘ میں نے جواب دیا ’’اس میں کیا شبہ ہے۔‘‘ بولا ’’یار! یہ تو عبادت کی عبادت اور ایکسرسائز کی ایکسرسائز ہے۔ روح اور جسم دونوں کو سکون ملتاہے۔ میں اب پانچوں نمازیں باقاعدگی سے ادا کرنے کی سوچ رہا ہوں۔‘‘ میرا خیال تھا کہ اس کا بیان اب ختم ہو گیا ہے لیکن اس ’’نومسلم‘‘ کا جوش و خروش تو ابھی تک عروج پر تھا۔ اس نے ایک دفعہ پھر مجھے مخاطب کیا اور کہا ’’یار! جب میں سورۃ فاتحہ کی تلاوت کررہا تھا اور اس کا ترجمہ دل ہی دل میں دہراتا جاتا تھا تو بہت لطف آتا تھا۔ سب تعریفیں اللہ ہی کےلئے ہیں۔ جو سارے جہانوں کا رب ہے۔ جو رحمٰن اور رحیم ہے۔ جو روزِ جزا کا مالک ہے۔ اے خدا ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں ہمیں سیدھاراستہ دکھا ان لوگوں کا راستہ جن کو تو نے انعام سے نوازا۔ ان کا راستہ نہیں جن پر تو نے غضب کیا اور جو گمراہی پر ہیں۔‘‘
مجھے اس کے ترجمے میں کہیں کہیں جھول کا شبہ ہوا لیکن میں خاموش رہا کیونکہ میری تمام توجہ اس کی بدلی ہوئی ذہنی حالت پر تھی چنانچہ اس بار میں نے اس سے پوچھا ’’پھر کیا ہوا؟‘‘ بولا ’’پھر یہ نماز سے فراغت کے بعد میں نے محسوس کیاکہ‘‘ میں نے اسے درمیان میں ٹوکا ’’یہی کہ تم اب ایک نیک انسان ہو کیونکہ تم نے نماز شروع کردی ہے اور باقی ساری دنیا گنہگار ہے۔‘‘ اس پر میرا د وست گڑبڑا کر بولا ’’لاحول ولا قوۃ۔ یہ تم نے کیسی بات کہہ دی۔ میری سوچ تو اس سے بہت مختلف تھی۔‘‘ میں نے حیران ہو کر پوچھا ’’وہ کیا؟‘ اس نے کہا ’’یہی کہ میں بہت بڑا منافق ہوں۔‘‘ یہ سن کر مجھے جھٹکا سا لگا کیونکہ یہ اس کی تمام تر گفتگو کا اینٹی کلائمکس تھا۔ بیشتر اس کے کہ میں کچھ کہتا، اس نے کہا ’’میری اس بات پر اپنا ردعمل دینے کی بجائے تم صرف میرے سوالوں کے جوابات دیتے جاؤ۔ اس کے نتیجے میں تمہیں میری بات سمجھ آجائے گی۔‘‘ میں بے بسی سے بولا ’’پوچھو‘‘ اس کے بعدمیرے اور اس کے درمیان یہ گفتگو ہوئی۔ ’’ہم نماز کے دوران کیسی سیدھی قطار بناتے ہیں۔ بناتے ہیں نا۔‘‘ ’’ہاں‘‘ ’’او ر ایک دوسرے کے ساتھ کاندھے سے کاندھا اورپاؤں سے پاؤں ملا کر کھڑے ہوتے ہیں تاکہ خالی جگہ دیکھ کر شیطان ہماری صفوں میں نہ گھس آئے اور ہم میں نفاق نہ ڈالے۔‘‘ ’’ہاں ایسا ہی ہے ۔نماز کے دوران محمود و ایاز ایک ہی صف میں کھڑے ہوتے ہیں۔‘‘ ’’تو پھر ایسا کیوں ہےکہ مسجد سے نکلتے ہی ہم قطار بنانا بھی بھول جاتے ہیں۔ نفاق کا شکار ہو کرایک دوسرے کے خون کے پیاسے نظر آنے لگتے ہیں اور محمود و ایاز کے درمیان پھر وہی خلیج حائل ہو جاتی ہے جو نمازکے دوران ختم ہوگئی تھی۔ کیا ہم منافق نہیں ہیں؟‘‘ میں نے ہنستے ہوئے کہا ’’تم ہوگے میں تو نہیں ہوں۔‘‘ وہ بولا ’’میں تمہاری پارسائی کے دعوے بعد میں سنوں گا پہلے یہ بتاؤ کہ نماز میں سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے دوران ہم جب خدا سے وعدہ کرتے ہیں کہ ہم صرف تیری ہی عبادت کریں گے، صرف اسی سے مدد مانگیں گے اور یہ بھی کہ ساری تعریفیں تیرے ہی لئے ہیں لیکن سلام پھیرتے ہی ہم ان وعدوں سے مکر کیوں جاتے ہیں؟ ہم ہر آستانے پر سجدہ ریز ہوتے ہیں۔ ہم خدا کے سوا ہر ایک سے مدد مانگتے ہیں۔ ہم بے شمار خداؤں کی عبادت کرتے ہیں اور دن رات ان کی حمد بیان کرتے رہتے ہیں۔ کیا میں غلط کہہ رہا ہوں؟‘‘
’’تم صحیح کہہ رہے ہو۔‘‘
’’توپھر کیاہم سب منافق نہیں ہیں؟‘‘
’’تم خود ہوگے‘‘میں نے ایک بار پھر ہنستے ہوئے کہا۔
’’تمہیں کون سا سرخاب کا پر لگا ہے کہ تم منافق نہیں ہو۔‘‘
’’منافق ہونا ایک بات ہے۔ منافق کہلوانا دوسری بات ہے۔ میں اپنے لئے یہ خطاب پسند نہیں کرتا۔‘‘
’’یہ تمہاری منافقت کا ایک اور ثبوت ہے۔‘‘
’’تم یہ چارج شیٹ چھوڑو۔ یہ بتاؤ کہ تم کہنا کیا چاہتے ہو؟‘‘
’’یہی کہ مجھے نماز میں بہت سرور محسوس ہوا ہے۔ میں یہ سلسلہ آگے بڑھائوں گا لیکن نماز میں جووعدہ خدا سے کروں گا مسجد سے نکل کر اس سے منحرف نہیں ہوں گا تاکہ میرا شمار بھی منافقین میں نہ ہو۔‘‘
’’پھر کیا ہوگا؟‘‘
’’پھر یہ کہ اللہ مجھ سے خوش ہوگا۔‘‘
’’اللہ کےخوش ہونے سے کیا تمہارے متعلقین تم سے خوش رہ سکیں گے؟ کیا تم نے اس بارے میں کچھ سوچا ہے؟‘‘
’’میں جب ایمانداری سے کام کروں گا تو وہ خوش کیوں نہیں ہوں گے۔‘‘
’’تمہیں یقین ہے کہ تمہارے بزنس پارٹنر کو، تمہارے اہل خانہ کو یا تمہارے اہل محلہ کو تمہاری ایمانداری اور خداترسی سےکوئی غرض ہے۔‘‘
میرے اس سوال پر میرا دوست پریشان ہوگیا اور اس نے کہا ’’میں جانتا ہوں انہیں اس سے کوئی غرض نہیں ان کے صرف مقاصد پورے ہونا چاہئیں خواہ وہ جس طرح بھی پورے ہوں لہٰذا تم ہی بتائو مجھے کیا کرنا چاہئے؟‘‘
میں نے جوا ب دیا ’’وہی جو ہم سب کرتے ہیں۔ ہم نمازیں بھی پڑھتے ہیں،درود پاک کا ورد بھی کرتے ہیں، چلّے بھی کاٹتے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ ہیرپھیر بھی کرتے رہتے ہیں۔ تم بھی صرف نماز پڑھو اور دیگر عبادات میں بھی پوری محویت سے مشغول رہو لیکن ان عبادات کی روح اور مقصد کے بارے میں سنجیدہ ہونے کی ضرورت نہیں۔ انسان کو چاہئے کہ وہ اپنے خدا کو خوش رکھے لیکن شیطان کو بھی بیزار نہ ہونے دے۔‘‘
پس نوشت….. اندرون ملک اور بیرون ملک سے آج میری 75ویں سالگرہ کے حوالے سے ایک بہت بڑی تعداد میں میرے قارئین اور دوستوں نے گلدستے اور مبارکباد کے پیغامات بھیجے ہیں۔ فرداً فرداً ان کا شکریہ ادا کرنا ممکن نہیں۔ میں ان سطور کے ذریعے دل کی گہرائیوں سے ان کی اس محبت کے لئے شکرگزارہوں۔ اللہ ہم سب پر اپنی رحمتیں نازل فرمائے!

(بشکریہ : روزنامہ جنگ)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker