عطاء الحق قاسمیکالملکھاری

مولوی سعید اظہر اور حفیظ الرحمٰن احسن!۔۔عطا ء الحق قاسمی

کچھ لوگ بہت عجیب و غریب ہوتے ہیں، وہ آپ کے ساتھ بیٹھے ہوں یا کہیں اور، لگتا یہی ہے کہ آپ سے گپ شپ لڑائی جا رہی ہے۔ مولوی سعید اظہر سے میری دوستی بہت پرانی ہے۔ وہ ایک عرصے سے بیمار چلا آ رہا تھا مگر اسپتال میں داخل ہونے تک اس کی دلچسپ شخصیت فضاؤں میں پھیلتی اور خوشبو بکھیرتی چلی جاتی تھی۔ اسپتال میں بھی ڈاکٹروں اور دوسرے طبی عملے کے ساتھ اس کا رویہ ایک کینسر کے مریض ایسا مردنی اور مایوسانہ نہیں تھا بلکہ اس نے جیتے جاگتے اور ہنستے مسکراتے اپنی زندگی اللہ کے سپرد کر دی۔
میری اس سے قریبی ملاقات نوائے وقت میں ملازمت کے دوران ہوئی، ویسے ’’مولوی سعید اظہر‘‘ کا خوشگوار تذکرہ اکثر سننے کو ملتا تھا۔ اللہ جانے اسے ’’مولوی‘‘ کا ’’خطاب‘‘ کس نے دیا تھا، میرا خیال ہے کہ یہ میرے یار طرح دار عباس اطہر (مرحوم) کی شرارت تھی ورنہ اس میں مولویوں والی کوئی بات نہ تھی، بس چہرے پر جماعت اسلامی کے سائز کی چھوٹی سی داڑھی تھی جو شاید اس جماعت سے اس کے تعلق کی نشانی تھی جو اس نے نظریات میں تبدیلی کے بعد بھی برقرار رکھی۔ اصل میں مولوی سعید اظہر کا خاکہ بیان کرنا بہت مشکل ہے۔ اگر آپ اسے ملے ہوتے تو جہاں آج آپ اس کی وفات پر مغموم ہوتے، وہاں اس کی ظریفانہ شخصیت اور اس کا اندازِ گفتگو آپ کو کسی دوسری کیفیت میں بھی لے جاتا۔ سانولا رنگ، درمیانہ قد، زبان میں ہکلاہٹ اور سنجیدہ گفتگو کے دوران بھی وہ مسکراتا نظر آتا تھا۔ زبان کی ہکلاہٹ کی وجہ سے اس کی گالی تین قسطوں میں آپ تک پہنچتی تھی، جو سننے والے کو بدمزہ کرنے کے بجائے مخاطب کے دل میں یہ خواہش پیدا کرتی تھی کہ وہ اسے دو تین مزید گالیوں سے نوازے!
ایک زمانہ تھا جب مولوی سعید اظہر سے میری ملاقاتیں تقریباً روزانہ کی بنیاد پر ہوتی تھیں مگر یہ ان دنوں کی بات ہے جب یہ دونوں ’’آتش‘‘ جوان تھے اور پیدل بھی تھے۔ آپ اس لفظ پیدل کو جن معنوں میں بھی لینا چاہیں، لے سکتے ہیں لیکن میری مراد پیدل چلنے سے ہے۔ اس زمانے میں آج کے سارے پھنے خاں بھی ’’روڈ ماسٹر‘‘ ہی ہوتے تھے، لاہوریے تو مال روڈ پر جوتیاں چٹخاتے نظر آتے تھے اور دوسرے شہروں والے اپنے اپنے خالی روڈ پر! مگر ان دنوں کوئی نہیں کہتا تھا کہ پاکستان نے ہمیں کیا دیا ہے۔ شاید اس لئے کہ ہم سب فقیری میں امیری کے مزے لوٹتے تھے اور خوش رہتے تھے۔ کسی ڈھابے پر جمع ہو جاتے اور قہقہوں سے اس ’’غریب خانے‘‘ کو ابوالحسن کے روایتی محل میں تبدیل کر دیتے جہاں خدام اور کنیزیں ہمارے آگے پیچھے پھرتی تھیں! سچی بات یہ ہے کہ مولوی سعید اظہر اور میں سنجیدہ گفتگو بہت کم کرتے تھے، اس کام کیلئے ہم کتابوں اور ادبی تنظیموں کی محفلوں کو کام میں لاتے تھے۔ مجھے سعید اظہر کی تین چیزیں بہت پسند تھیں، ایک اس کے سنجیدہ اور خیال افروز کالم، دوسری کسی کی غیبت نہ کرنا، اور تیسری اس کی تین قسطوں والی گالی، جب میں پی ٹی وی کا چیئرمین تھا اس وقت ایک پروگرام کے پینل میں وجاہت مسعود، رؤف طاہر، عطاء الرحمٰن اور مولوی سعید اظہر شامل ہوتے تھے۔ میں محسوس کرتا تھا کہ میرے یہ دوست سعید اظہر کی بات اکثر کاٹ دیتے تھے، میں نے آغا مسعود شورش کی توجہ اس طرف دلائی اور کہا کہ مولوی سعید اظہر ہی تو اس پروگرام کو ایک اچھوتی شکل دیتا ہے مگر اس کی بات کوئی دوسرا کاٹ دیتا ہے۔ اس پر مسعود شورش نے ہنستے ہوئے کہا سر آپ ٹھیک کہتے ہیں مگر اس کے باوجود سب سے زیادہ وقت مولوی سعید اپنی ہکلاہٹ کے بل بوتے پر لے جاتا ہے۔مولوی سعید اظہر ایک غیور اور خوددار شخص تھا، بہت گہری اور پتے کی بات بھی نہایت شگفتگی سے کہنا جانتا تھا، اس کے پاس مال و دولت کی فراوانی نہیں تھی، بس عزت کی روٹی کھاتا تھا مگر پاکستان کا عاشق تھا۔ وہ ضمیر فروش نہیں تھا، ساری عمر وہی لکھا اور کہا جسے سچ جانا، وہ آج بظاہر ہم میں نہیں ہے مگر آپ یقین کریں میں زندگی سے بھرپور اس شخص کو گپ شپ کرتے، قہقہے لگاتے اور تین قسطوں میں کی جانے والی اس کی ’’مدح سرائی‘‘ کے ساتھ اپنے ہمراہ پاؤں گا۔
بلھیا اساں مرنا ناہیں گور پیا کوئی ہور
حال ہی میں ایک اور دوست سے جدائی کا دکھ بھی اٹھانا پڑا، یہ حفیظ الرحمٰن احسن تھے۔ اقبال ٹاؤن میں میرے ہمسائے تھے اور اکثر ان سے ملاقاتیں رہتی تھیں۔ اعلیٰ درجے کے شاعر، اعلیٰ درجے کے انسان اور متقی و پرہیزگار ، میں اقبال ٹاؤن سے ای ایم ای سوسائٹی میں منتقل ہوگیا تو یہ ملاقاتیں نہ ہونے کے برابر رہ گئیں تاہم فون پر گاہے گاہے بات ہوتی رہتی تھی۔ کچھ عرصہ پہلے میں نے برادرم تحسین فراقی کو فون کیا اور پوچھا کہ حفیظ الرحمٰن احسن سے بہت دیر ہوئی بات نہیں ہو سکی،خیر تو ہے؟ تحسین نے دکھ بھری آواز میں کہا وہ تو فوت ہو گئے اناللہ و انا الیہ راجعون،
آخر میں منیر نیازی کی ایک نظم جس کا ایک ایک لفظ میرے جذبات کا آئینہ دار ہے۔
وہ جو اپنا یار تھا دیر کا کسی اور شہر میں جا بسا
کوئی شخص اس کے مکان میں کسی اور شہر کا آ بسا
یہی آنا جانا ہے زندگی کہیں دوستی کہیں اجنبی
یہی رشتہ کارِ حیات ہے کبھی قرب کا کبھی دور کا
ملے اس میں لوگ رواں دواں، کوئی بے وفا کوئی باوفا
کٹی عمر اپنی یہاں وہاں، کہیں دل لگا کہ نہیں لگا
وہ جو اس جہاں سے گزر گئے کسی اور شہر میں زندہ ہیں
کوئی ایسا شہر ضرور ہے انہی دوستوں سے بھرا ہوا
یونہی ہم منیرؔ پڑے رہے کسی اک مکاں کی پناہ میں
کہ نکل کے ایک پناہ سے، کہیں اور جانے کا دم نہ تھا
(بشکریہ: روزنامہ جنگ)

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker