ایاز امیرکالملکھاری

زندگی آسان بنائی جا سکتی ہے۔۔نقطہ نظر/ایازامیر

ہمالیہ کے قریب ترین پہاڑ ہندوستان کے شہر جالندھر سے 200 کلومیٹر کے فاصلے پہ ہیں۔ تیس سال کے بعد پہلی دفعہ جالندھر سے یہ پہاڑ نظر آنے لگے ہیں۔ صرف اس لئے کہ روزمرّہ کی زندگی پہ بندش کی وجہ سے فضائی آلودگی کم ہو گئی ہے۔ غور فرمائیے، تیس سال تک یہ پہاڑ جالندھر سے اوجھل ہو گئے تھے ۔
روزمرّہ زندگی کے پہیے چلنا ضروری ہیں۔ اس کے بغیر ہماری گزر اوقات کیسے ہو۔ لیکن کورونا وائرس کی وجہ سے جو عام زندگی پہ قدغنیں لگی ہیں اس سے یہ تو ثابت ہوگیا ہے کہ بہت سی چیزیں غیر ضروری طورپہ روزمرّہ کی زندگی کا حصہ بن چکی ہیں۔ مثال کے طورپہ موٹر کارکو ہم نے اپنی زندگی کا ناگزیر حصہ کیسے بنالیا ہے؟ جب میں چھوٹا تھا اور لارنس کالج میں پڑھتاتھا‘ پورے چکوال میں دو تین موٹرکاریں تھیں۔ نہیں تو عام آدمی کیا اور شرفاء کیا سب بسوں پہ سفر کرتے تھے‘ اور کسی کی چودھراہٹ میں کوئی فرق نہیں پڑتاتھا۔ والد صاحب 1951ء میں پنجاب اسمبلی کے ممبر منتخب ہوئے۔ تب انہوں نے ایک گاڑی خریدی۔ ممبر نہ رہے اورمالی حالات نے اجازت نہ دی تو گاڑی بیچ دی۔
میرے سامنے کا واقعہ ہے کہ فیلڈ مارشل ایوب خان کے زمانے میں کسی جلسے میں شرکت کیلئے والد صاحب کو جہلم سے لاہور جانا تھا۔ ساتھ اُن کے چوہدری الطاف حسین مرحوم تھے جو بعد میں بینظیر بھٹوصاحبہ کے زمانے میں گورنر پنجاب ہوئے۔ میں بھی ہمراہ تھا اورسفرِ لاہور بس میں طے ہوا۔ آج کوئی ممبر اسمبلی حاضر یا سابقہ بس میں سفر کرکے دکھا دے۔
جنرل مشرف کے دور تک پاکستان کی سڑکیں موٹر گاڑیوں سے بھری ہوئی نہیں تھیں۔ یہ تو 9/11 کے بعد جب باہر کا پیسہ آنے لگا تو بینکوں نے لیز کا کام وسیع پیمانے پہ شروع کردیا اور ہر دوسرے تیسرے آدمی کے ہاتھ میں موٹرگاڑی آگئی۔ یہ امریکی ماڈلِ ترقی ہے جس میں سمجھا جاتا ہے کہ ہر ایک کے پاس موٹرکار ہونی چاہیے۔ کمیونسٹ ملک جب تک رہے وہاں پرائیویٹ کاروں کی ریل پیل نہیں ہوا کرتی تھی۔ 1974ء سے 1977ء تک میں سوویت یونین کے دارالحکومت ماسکو میں سفارتخانۂ پاکستان میں تعینات رہا۔ ماسکو کے حالات سن لیجیے۔ تب آبادی اُس کی اَسّی لاکھ کے لگ بھگ تھی۔ اُس سپر پاور کے مرکزی شہر میں کل چار یا پانچ پٹرول پمپ تھے۔ کسی کو یقین نہیں آئے گا لیکن یہ حقیقت ہے پورے شہر میں چار یا پانچ پٹرول پمپ۔
پورے شہر میں موٹرکاروں کی فقط دو ورکشاپیں تھیں۔ وہاں کے مکینک کیا پَھنے خان تھے۔ میرا اپنا مشاہدہ ہے کہ ایک دفعہ اپنی گاڑی اُن میں سے ایک ورکشاپ لے گیا۔ دیکھتا کیا ہوں کہ وردی میں ملبوس سوویت فوج کے ایک حاضر سروس میجر جنرل ہیں۔ اُن کے ساتھ ایک عدد سفارشی بھی تھا جو مکینک سے کہہ رہاتھا کہ ذرا جنرل صاحب کی گاڑی دیکھ لے۔ مکینک کسی اور گاڑی کے نیچے لیٹا ہوا تھا اور سفارشی کی بات پہ زیادہ دھیان نہیں دے رہاتھا۔ سفارشی پھر آہستہ سے بولا کہ یہ ہیرو آف دی سوویت یونین ہے، بہادری کا وہ اعلیٰ ترین تمغہ جو ہمارے نشان حیدر کے برابر ہے۔ وہ سُن کے مکینک کھڑا ہوا اور اُس کا رویہ تھوڑا مؤدبانہ ہو گیا۔
اُس زمانے کے ماسکو میں زیادہ پرائیویٹ کاریں نہ ہوں گی لیکن پبلک ٹرانسپورٹ دنیا کی سب سے اعلیٰ تھی۔ بسیں ہر جگہ جاتی تھیں، ڈیزل پہ چلنے والی بسوں کا کرایہ پانچ پیسے تھا چاہے سفر جتنا بھی لمبا ہو۔ بجلی کی بسوں کا کرایہ چار پیسے تھا۔ ماسکو کی زیر زمین ریل جو سٹالن نے بنوائی تھی اور جو 1935ء میں مکمل ہوئی وہ دنیا کی سب سے اعلیٰ اور خوبصورت تھی۔ اُس کا کرایہ پانچ پیسے تھا‘ چاہے آپ نزدیک ترین سٹیشن پہ اُتریں یا شہر کے آخری کونے پہ۔ ایسی پبلک ٹرانسپورٹ ہو تو موٹر کار کی کیا ضرورت رہ جاتی ہے؟ جو کاریں تھیں زیادہ تر روسی مارکہ تھیں، گزارے کے قابل لیکن بغیر کسی شو یا شوخی کے۔
انگریزوں نے ہندوستان میں پبلک ٹرانسپورٹ اچھی بنائی۔ پرائیویٹ بسوں کے ساتھ ساتھ گورنمنٹ کی بسیں چلتی تھیں۔ بڑے بڑے شرفاء اُن میں سفر کرتے تھے۔ لاہور جیسے شہر میں زیادہ تر آمدورفت بسوں پہ ہوتی یا تانگوں اور ٹیکسیوں میں۔ تانگہ ہو یا کوئی اور سواری‘ قانون کے مطابق چلا کرتی تھی۔ ریل کا تو سب کو پتہ ہے کہ بہت ہی خاطر خواہ نظام تھا۔ کہاں کہاں انگریز ریل کی پٹڑی نہیں لے گیا۔ پاکستان بننے کے بہت سالوں بعد تک‘ جب تک انگریز کی یاد رہی‘ پرانا ٹرانسپورٹ نظام خوش اسلوبی سے چلتا رہا۔ لاہور اور دیگر بڑے شہروں میں ٹیکسیاں میٹر پہ چلتی تھیں۔ آپ گاڑی میں بیٹھے اور ڈرائیور میٹر کو گھما دیتا۔ کوئی بحث و تکرار نہیں کرنی پڑتی تھی۔
70ء کی دہائی تک ریل کا نظام بہترین رہا۔ پھر پتہ نہیں کس کی نظرِ بد لگی کہ ہر شعبہ خرابی کی طرف جانے لگا۔ معیشت سکڑی نہیں، پھیلتی گئی اور ذرائع آمدن بھی زیادہ ہوتے گئے لیکن ڈسپلن نام کی چیز ہر شے سے جاتی رہی۔ عوام تو وہی تھے۔ انگریز کے زمانے میں کوئی باہر سے مخلوق نہیں آئی تھی۔ حکمرانی البتہ بدلی اور اُس کا معیار گرتا رہا۔ عوام کی ترجیحات نہ بدلیں، حکومتوں کی بدلتی گئیں۔ اچھی پبلک ٹرانسپورٹ عوام کے فائدے میں تو ہے لیکن حکمرانوں کی ترجیح نہ رہی۔ نہ پبلک ٹرانسپورٹ نہ صحت عامہ نہ تعلیم۔ جنرل ضیاء الحق آئے تو زندگی کے سارے شعبے نجی ہاتھوں میں چلے گئے۔ پرائیویٹ ہسپتال بننے لگے۔ شعبہ تعلیم میں بھی نجی سکولوں کو ترجیح ملی۔ این ایل سی کے بننے سے ریلوے نظام کو تباہی کے دہانے تک پہنچا دیا گیا۔ آنکھوں کے سامنے انگریزوں کے زمانے سے اچھی بنیادوں پہ چلنے والے ادارے تباہ ہوتے گئے اور حکمرانوں کو کوئی فکر نہ تھی۔ زندگی نسبتاً سادہ اور آسان ہوا کرتی تھی لیکن دانستہ طور پہ اُسے مہنگائی اورپیچیدگی کی طرف لے جایاگیا۔
سیمنٹ کا شعبہ سرکاری تحویل میں تھا۔ جیسا بھی چل رہا تھا سیمنٹ سستا تھا۔ نوازشریف بطور وزیراعظم آئے اور سیمنٹ کے شعبے کو نجی ہاتھوں میں دے دیا۔ راتوں رات سیمنٹ کی قیمتیں بڑھ گئیں۔ سیٹھوں کو تو فائدہ پہنچا لیکن اِس نجی پالیسی سے عوام کا کیا فائدہ ہوا؟
ذوالفقار علی بھٹو کے زمانے میں چینی راشن پہ ملتی تھی۔ یونین کونسل کی وارڈوں کی سطح تک راشن ڈپو ہوا کرتے تھے۔ اپنے حصے کا راشن خاص و عام کو میسر تھا۔ آٹا اورگھی بھی راشن ڈپوؤں سے ملتا تھا۔ کمی یا شارٹیج کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتاتھا۔ راشن ڈپوؤں کانظام ختم ہوا اور ہرچیز نجی ہاتھوں میں چلی گئی۔ نتیجہ اُس کا دیکھا جا سکتا ہے۔ متموّل ہاتھوں کو فرق نہیں پڑتا لیکن دوسرے طبقات یا چینی کا رونا رو رہے ہوتے ہیں یا آٹے کا۔ بھٹو کے زمانے میں آٹے کا بحران کبھی نہ آیا۔
امیر اور غریب میں فرق تھا۔ یہ فرق ہمیشہ رہا ہے، دُنیا کی ہر ریاست اور ہر معاشرے میں‘ لیکن پاکستان میں اتنا فرق نہ تھا جتنا اب ہو چکا ہے۔ امیر طبقات تب بھی تھے لیکن معاشرے میں کچھ نہ کچھ بیلنس بھی تھا۔ اَب تو کچھ رہا ہی نہیں۔ غریب یا نادار ایسے ہی ہیں لیکن امیر بہت امیر ہو گئے ہیں۔ ریاست کا جھکاؤ اس فرق کو مٹانے کی طرف نہیں ہے۔ ریاست کی ہر پالیسی اس فرق کو بڑھا رہی ہے۔
پذیرائی کس کو دی جا رہی ہے؟ کنسٹرکشن انڈسٹری کو۔ پاکستان میں یہ انڈسٹری کسی قاعدے قانون کے بغیر چلتی رہی ہے۔ یہ جو ہاؤسنگ سوسائٹیوں کی وباء ہے اور جس کی وجہ سے وسیع پیمانے پہ زراعت کے لائق زمینیں تباہ ہو رہی ہیں‘ عوام کو تو اِس سے کوئی زیادہ فائدہ نہیں پہنچتا‘ ہاں مزدوریاں مل جاتی ہیں لیکن ان سوسائٹیز میں آسودہ حال لوگ رہتے ہیں۔ ہاؤسنگ پالیسی تو پاکستان میں ایسی ہو کہ چھوٹے گھر بنیں اور بڑے گھروں پہ اتنے بھاری ٹیکس لگیں کہ آسانی سے بڑے گھروں کے بارے میں کوئی نہ سوچے۔ گھر ایسے ہوں جیسے آبپارہ کے پرانے سرکاری کوارٹر۔ اسلام آباد کے شروع کے دنوں میں اعلیٰ افسروں کے لئے بھی درمیانی قسم کے گھر بنا کرتے تھے۔ پھر اسلام آباد مالدار لوگوں کا مسکن بنتا گیا اوراُس کا حلیہ وہ ہوگیا جو ہمارے سامنے ہے۔ معاشرہ وہ اچھا کہلاتا ہے جس میں کلچرل زندگی بھرپور ہو۔ لائبریریاں ہوں، موسیقی اور ڈراموں کیلئے تھیٹر ہوں۔ ایسی چیزیں تو یہاں ہیں نہیں، محض بے ڈھنگی دولت کی نمائش ہے۔
(بشکریہ: روزنامہ دنیا)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker