عطاء الحق قاسمیکالملکھاری

عطا ء الحق قاسمی کا کالم:ابرار ندیم اور عزیر احمد کون ہیں؟

ظاہر ہے میری طرح میرے بہت سے دوستوں کی ایک سے بڑھ کر ایک اعلیٰ کردار کے افراد سے ملاقات ہو ئی ہو گی ان میں سے کسی ایک کے ساتھ بھی ملاقات ہو تو دن اچھا گزرتا ہے، صرف دن اچھا نہیں گزرتا، کمینے لوگوں کی کمینگی بھی کچھ دیر کے لئے انسان بھول جاتا ہے !ان اعلیٰ کردار کے لوگوں سے مل کر زیادہ خوشی ہوتی ہے جو صاحبِ اختیار ہوں ،بڑے عہدوں پر فائز ہوں، ان کے پاس مال ودولت کی بھی کمی نہ ہو، مختلف شعبوں علم، ادب، موسیقی، مصوری وغیرہ میں ان کے نام کا ڈنکا بجتا ہو، مگر ان کی گردنوں میں سریا نہ آیا ہو، یہی معاملہ دوسرے شعبوں کے سرکردہ افراد کے حوالے سے ہے کہ جن کا دماغ خوشامد سے خراب کرنے کی کوشش کرنے والے ہزاروں میں ہوں، جن کے قلم سے فائل پر لکھا جانے والا ایک لفظ زندگی سنوارنے یا بگاڑنے کے لئے کافی ہو، لیکن وہ اگر خود کو لافانی نہیں، فانی انسان سمجھتے ہوئے چھوٹوں بڑوں سب سے یکساں احترام سے ملتے ہیں اور اچھے کاموں میں مدد گار ثابت ہوتے ہیں تو ان کی تعریف و توصیف کوئی بڑی بات نہیں ہوتی، میں ایسے انسانوں کو زندگی میں کبھی نہیں بھولتا، اور ظاہر ہے میں جواباًان کے لئے دل میں ان سے زیادہ احترام اور محبت کا جذبہ رکھتا ہوںلیکن اس وقت میں جن دو بڑے لوگوں کا ذکر کرنے لگا ہوں یہ دونوں کسی اعلیٰ عہدے پر فائز نہیں ہیں اور نہ ان کے پاس مال و دولت کے ڈھیر ہیں ، ان میں سے میرا ایک شاعر دوست ابرار ندیم ہے جو اردو اور پنجابی کا بہت خوبصورت شاعر ہے اور ادبی حلقوں میں اس کا بڑا نام ہے اس کا پنجابی کا یہ شعر تو آپ نے بھی سنا ہو گا۔
اکو واری فرض تے نئیں نا
عشق دوبارہ ہو سکدا اے
(عشق ایک ہی دفعہ کرنا فرض نہیں ہے، عشق دوبارہ بھی ہو سکتا ہے)گو ایک ستم ظریف کا کہنا ہے کہ اس شعر میں محبوب کو جتلایا گیا ہے کہ کسی بھول میں نہ رہنا، میں کسی اور کا بھی ہو سکتا ہوں، تفنن برطرف ابرار ندیم ریڈیو پاکستان میں سینئر پروڈیوسر ہے اور ملٹی پل فنون سے وابستہ ہے ۔میرا دوسرا دوست عزیر احمد ہے وہ درمیانے درجے کا بزنس مین ہے اسے ادب سے نہ صرف گہری دلچسپی ہے بلکہ شاعروں، ادیبوں کے ساتھ اٹھنے بیٹھنے کی وجہ سے اب وہ شاعر بھی ہے اور ’’شام ہو گئی جاناں ‘‘ کے عنوان سے اس کا شعری مجموعہ بھی شائع ہو چکا ہے، اس نے اپنی محبت سے مجیب الرحمان شامی اور حامد میر کو بھی اپنا گرویدہ بنا رکھا ہے۔ ابرار ندیم کم آمیز ہے محبت سب سے کرتا ہے، بے لوث کرتا ہے اور دل کے راستے دل میں اتر جاتا ہے ۔یہ دوبڑے لوگ ہیں جن سے میرے مراسم بہت دیرینہ ہیں مگر جس امرنے مجھے یہ کالم لکھنے پر مجبور کیا ہے وہ آپ بھی سنیں گے تو دم بخود رہ جائیں گے اور سوچیں گے کہ کیا اس دنیا میں واقعی ایسے لوگ موجود ہیں ؟جی ہاں ،موجود ہیں۔بس اب تمہید ختم کرتا ہوں اور اصل واقعہ کی طرف آتا ہوں، گزشتہ دنوں جب مجھے کورونا ہوا جس کے آفٹر افیکٹس ابھی تک بہت بری طرح بھگت رہا ہوں تو میں نے اس کا اعلان مناسب نہیں سمجھا کہ کہیں کوئی دوست عیادت کے لئے نہ آ جائے۔ اگرچہ بڑی خواہش تھی کہ کورونا دریافت ہونے پر اپنے تین دیرینہ ’’دشمنوں‘‘ سے ملنے جائوں اور ان سے گلے مل کر کہوں کہ میں نے تمہیں معاف کیا ، لیکن تھوڑی بہت انسانیت تو آخر مجھ میں بھی ہے، چنانچہ یہ ارادہ ترک کر دیا میں بہرحال میوہسپتال میں داخل ہو گیا اور وہاں جو ابتدائی دن اور راتیں گزاریں وہ میرے لئے ڈرائونے خواب کی حیثیت رکھتی ہیں۔ مگر ہسپتال میں داخل ہوتے ہی ابرار ندیم اور عزیر احمد کو اس کی خبر ہو گئی اور دونوں بلاخوف وخطر میرے کمرے میں داخل ہو گئے جہاں ڈاکٹر اور دوسرا میڈیکل اسٹاف بھی خوفناک قسم کے سفید یونیفارم کے بغیر قدم نہیں رکھتا تھا۔انہوں نے پورا ایک ہفتہ گھربار کو ا لوداع کہہ کر دن اور ر ات شدید کورونا کے مریض کے ساتھ گزارا ، یہ مجھے باتھ رومز لے جاتے تھے اور باہر نکلنے تک میرا انتظار کرتے تھے ،مجھے بستر پر لٹاتے تھے ،مجھ پر سردی سے کپکپی طاری ہوتی تھی اور کپکپی بھی ایسی کہ بستر سے نیچے گر سکتا تھا، یہ مجھے مضبوطی سے تھام کر رکھتے۔ایمرجنسی میں اسٹاف کے کسی اہم فرد کو بلاکر لاتے، مجھے زبردستی کچھ نہ کچھ کھلاتے جب قدرےنارمل ہوا تو یہ مجھے وہیل چیئر پر بٹھا کر باہر دھوپ میں لے جاتے اور دھوپ ڈھل جانے تک ابرار ندیم میری فرمائش پر اپنی خوبصورت شاعری سناتا اور عزیر احمد سے میں پوچھتا کہ تمہاری جائیداد پر جو قبضہ ہوا ہے اس کا کیا بنا ؟وہ کہتا سر اس پر لعنت بھیجیں، بس آپ ٹھیک ہو جائیں ہمارے لئے یہی کافی ہے !میں نے بچپن میں موت کے کنوئیں میں موٹر سائیکل چلانے والوں کو دیکھا ہے مگر ان دوستوں نے تو ایک ہفتہ موت کے کنوئیں میں گزارا، انتہائی جان لیوا قسم کے متعدد کھیل بھی دیکھے ہیں ، مگر ان فنکاروں کو تو اس کا معاوضہ بھی ملتا تھا ،ان کا نام بھی بنتا تھا مگر ابرار ندیم اور عزیر احمد کو سوائے خوفناک نتائج کے کیا حاصل ہو سکتا تھا، میری بہن راشدہ بھی گوجرانوالہ سے میرے پاس آنا چاہتی تھی، میری منہ بولی بہن کبریٰ خانم بخاری اپنی صاحبزادیوں فائزہ بخاری اور ثمرین بخاری کےساتھ میری عیادت کے لئے آئیں مگر میں نے نہایت عاجزی اور ادب کے ساتھ ابرار ندیم کی وساطت سے انہیں صرف کمرے کی دہلیز تک آنے دیا، میں اب روبصحت ہوں ،کمزوری بہت زیادہ ہے لیکن ابرار اور عزیز نے مجھے اندر سے بہت طاقتور کر دیا ہے، میں ’’جان پر کھیل جانے ‘‘ والا محاورہ صرف سنا کرتا تھا ،مگر دوستوں کو جان پر کھیلتے دیکھ بھی لیا میں ابرار اور عزیر کے اہل خانہ کو بھی کیسے بھول سکتا ہوں جنہوں نے اپنا سب کچھ میرے حوالے کر دیا !
بائی دے وے اگر میں یہ کالم نہ لکھتا جو ممکن ہےکچھ دوستوں کو اوورڈونگ لگے بلکہ خود متذکرہ قربانی دیتے ہوئے ابرار اور عزیر نے یہ سوچا تک نہ ہو گا کہ میں کالم میں ان کا یوں شکریہ ادا کروں گا، لیکن مجھے گرمی میں اگر کوئی ٹھنڈا پانی پلائے تو میں گرمیوں کے ہر موسم میں اسے یاد رکھتا ہوں، میں اسی طرح کا ہوں، میں ناشکری سے خدا کی پناہ مانگتا ہوں اور دل کی گہرائیوں سے نکلنے والی تمام دعائیں ان دوستوں کےلئے ہیں !پسِ نوشت:ابرار ندیم اور عزیز احمد الحمدللّٰہ دونوں خیریت سے ہیں اسپتال سے واپسی کے دس دنوں بعد پھر میں نے دونوں کے کورونا ٹیسٹ کرائے جو الحمدللّٰہ نگیٹو آئے ….اللہ ہمیشہ ان کا نگہبان ہو ۔
(بشکریہ: روزنامہ جنگ)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker