عطاء الحق قاسمیکالملکھاری

بھول جاؤ: روزن دیوار سے / عطا ء الحق قاسمی

ہنسانے اور رُلانے میں یہی فرق ہے کہ ہنسانا تخلیق ہے اور بلاوجہ رُلانا تخریب۔ میرا ایک دوست ’تخریب‘ کی صلاحیت سے مالا مال ہے، اچھی خاصی قہقہوں بھری محفل کو ماتمی سنگت میں تبدیل کر دینا اس کے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے۔ اُس کے سامنے کوئی لطیفہ بھی سنا دے تو اُس میں سے بھی آنسو برآمد کر لیتا ہے۔ ایک دفعہ محفل میں کچھ دوست لطیفے سنا رہے تھے، میرے دوست کی’رگِ خباثت‘ پھڑکی اور قریب بیٹھے صاحب کی کرسی کے پائے کو غیر محسوسانہ انداز میں زور سے ہلا کر بلند آواز سے بولا ’’معافی چاہتا ہوں لیکن کیا آپ نے بھی محسوس کیا، زلزلہ آیا ہے‘‘۔ یہ سنتے ہی سب کے دل اچھل کر حلق میں آگئے۔ جن صاحب کی کرسی ہلی تھی اُن کی باقاعدہ چیخ نکل گئی ’’ہاں ہاں آیا ہے، میری کرسی بڑے زور سے ہلی تھی‘‘ اتنا کہنے کی دیر تھی کہ سب کلمہ پڑھتے ہوئے تیزی سے باہر نکل آئے۔ کئی ایک نے تو تصدیق کردی کہ آفٹر شاکس ابھی تک محسوس ہورہے ہیں۔
ہم سب ہنسنا چاہتے ہیں، خوش رہنا چاہتے ہیں لیکن کہیں نہ کہیں، کوئی نہ کوئی تخریب کار ہماری مسکراہٹوں کو زلزلے میں بدلنے کے لیے تیار بیٹھا ہوتا ہے۔ یہ جب بھی ہمیں مسکراتا دیکھتا ہے، کرسی ہلاتا ہے اور زلزلے کا اعلان کر دیتا ہے۔ چونکہ ہم کئی خوفناک زلزلے دیکھ چکے ہیں لہٰذا ہمیں بھی ایسا لگنے لگتا ہے کہ زلزلہ آچکا ہے لہٰذا ہم اپنی جان بچانے کے لیے کلمہ پڑھتے ہوئے تیزی سے اِدھر اُدھر ہونے لگتے ہیں۔ پاکستان میں مزاح نگاروں کی تعداد بہت کم ہے لیکن جتنے بھی ہیں غنیمت ہیں ورنہ ادب صرف شاعری کا نام رہ گیا ہے۔ بھلے وقتوں میں طنز و مزاح کے رسالے بھی شائع ہوا کرتے تھے لیکن اب شاید یا تو یہ ختم ہو چکے ہیں یا برائے نام رہ گئے ہیں۔ اب مزاح کی صورت فیس بک پر دلچسپ اسٹیٹس میں بدل گئی ہے جہاں بعض اوقات ایسا ایسا جملہ پڑھنے کو ملتا ہے کہ دل بے اختیار داد دے اٹھتا ہے۔ الحمرا آرٹس کونسل کے دور میں مجھے یہ موقع ملا تھا کہ ادبی کانفرنسز کے دوران میں نے مزاح کا سیشن بھی رکھوایا جس میں عہد حاضر کے ممتاز اور نوجوان مزاح نگاروں کو اپنی تخلیقات پیش کرنے کا موقع ملا۔ حیرت انگیز طور پر اِس سیشن میں لوگوں نے ناقابل یقین حد تک شرکت کی اور بھرپور انجوائے کیا۔ ہمارے ہاں مزاحیہ مشاعروں کی روایت بڑی پرانی ہے لیکن مزاحیہ نثر بیچاری دب کر رہ گئی ہے حالانکہ مزاحیہ نثر کے قاری سب سے زیادہ ہیں۔ ایسی محفل کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ ڈیڑھ سو شعراء کے بجائے سات آٹھ مزاح نگاروں سے بھی کام چل جاتا ہے اور تقریب انتہائی مناسب وقت میں اختتام پذیر ہو جاتی ہے۔ دورِ حاضر میں جو مزاح نگار بہترین کام کر رہے ہیں ان کے نام تو مجھے یاد ہیں لیکن یہاں درج کرنے میں احتیاط سے کام لے رہا ہوں کہ ایک نام بھی رہ گیا تو مجھے کسی ’ایجنڈے‘ کا حصہ قرار دے دیا جائے گا۔
طویل عرصے کے بعد لاہور میں نثری مزاح کی تقریب منعقد ہوئی جس کا اہتمام پاکستان رائٹرز کونسل نے کیا۔ مرزا محمد یاسین بیگ اور الطاف احمد اس کے روح رواں تھے۔ یہاں حسین احمد شیرازی، گل نوخیز اختر، ناصر محمود ملک، یاسر پیرزادہ، علی رضا احمد، رضیہ رحمان، ابرار ندیم اور ڈاکٹر قمر بخاری نے اپنی کھلکھلاتی تخلیقات پیش کیں۔ صدیق الفاروق صاحب خاص طور پر اس تقریب میں میرے ساتھ تشریف لائے تھے اور اندازہ ہورہا تھا کہ وہ بھی کوئی قہقہہ بار تخلیق پیش کرنے کی کوشش میں ہیں تاہم گل نوخیز اختر چونکہ سب کا ’ہمدرد‘ ہے لہٰذا اُس نے صدیق الفاروق صاحب کی گفتگو کو اپنے قہقہوں کی آڑ میں سنسر کیے رکھا۔
میں ایک عرصے تک سمجھتا رہا کہ مزاح کی وجہ سے لوگوں کی قوت برداشت بڑھ جاتی ہے، کڑوی کسیلی بات بھی مزاح کے پیرائے میں کی جائے تو قابل قبول ہوتی ہے…..لیکن اب میں قائل ہوگیا ہوں کہ واقعی یہ بات ٹھیک ہے۔ آپ زندگی میں زلزلوں کا اعلان کرنے والوں کی بے سروپا باتوں سے ہٹ کر خوشی کے لمحات میں جی کر دیکھیں، صحت بھی اچھی رہے گی، مسرت بھی حاصل ہو گی اور زلزلہ بھی محسوس نہیں ہو گا۔ میرے لیے وہ سب مزاح نگار قابل احترام ہیں جو مایوسی پھیلانے کے بجائے مسکراہٹ کا سامان پیدا کرتے ہیں۔ یہ اپنی ذات کو نشانہ بناتے ہیں، خود پر بھی ہنستے ہیں اور دوسروں کو بھی سوئیاں بلکہ سوئے چبھوتے ہیں۔ میری بڑی خواہش ہے کہ نثری مزاح کی تقاریب عام ہوں، جس طرح ہر دوسرے دن کوئی نہ کوئی مشاعرہ ہوتاہے اسی طرح نثری مزاح بھی فروغ پائے۔ اِس صنف کو قارئین کی طرح سامعین اور حاضرین بھی میسر آئیں۔ تالیاں بجیں، قہقہے لگیں اور ہر چہرہ کھلا کھلا لگے۔ لیکن چونکہ معاشرے میں جھوٹ اور بہتان سب سے آسان کام ہے لہٰذا جسے کچھ نہیں آتا وہ اِسی پر ہاتھ ڈالتاہے۔ یہ وہی ’زلزلہ پرست‘ لوگ ہیں جن کی تیوریاں ہر وقت چڑھی رہتی ہیں۔ اِن کے اندر احساس محرومی اتنا بڑھ چکا ہے کہ اب یہ کسی اور کو ہنستا دیکھیں تو یقین کر لیتے ہیں کہ اِنہی پر ہنسا جا رہا ہے۔ اِن کے اندر برداشت کا مادہ بھی دیگر مادوں جتنا رہ گیا ہے۔ ان کے ملنے جلنے والے، بیوی بچے، دوست احباب، محلے دار….سب ان سے کتراتے ہیں۔ یہ جب بھی اپنی محفل جماتے ہیں وہاں سبھی اِن جیسے سڑیل ہوتے ہیں۔ اِن کی آنکھیں صرف بدصورتی تلاش کرتی ہیں۔ یہ وہ مقناطیس بن چکے ہیں جو صرف گندگی کھینچتا ہے۔ اِن میں اعلیٰ تعلیم یافتہ اور بظاہر انتہائی ڈیسنٹ نظر آنے والے لوگ بھی ہیں جنہیں دیکھ کر پہلا تاثر یہی ابھرتا ہے کہ یقیناً خاندانی ہیں۔ تاہم جب یہ بولتے یا لکھتے ہیں تو یقین کامل ہو جاتا ہے کہ واقعی’’خاندانی‘‘ ہیں۔
ہم نفرت کے اُس دور میں زندہ ہیں جہاں ایسا ہر شخص اپنے لیے پارسا اور دوسرے کے لیے’ ’پا۔رسہ‘‘ کا لفظ سننا چاہتا ہے۔ ایسا لگتاہے ہمارے معاشرے میں صرف دو ہی مخلوقات زندہ ہیں۔ فرشتے اور شیطان۔ ان کے علاہ کسی عام آدمی کا کوئی تصور ہی نہیں۔ ہم اچھی زندگی گزارنا چاہتے ہیں، ٹینشن سے دور رہنا چاہتے ہیں لیکن ہماری اولین ترجیح ٹینشن ہے۔
وہ ٹینشن جو ہم اپنے سر سے وار کرکسی دوسرے کے سر منتقل کر دیں۔ میں نے ایک دفعہ ایک نفسیات دان سے پوچھا کہ بدزبان اور بدکلام لوگوں کا اصل مسئلہ کیا ہوتا ہے؟ کہنے لگے ’’ایسے لوگ اپنے علاوہ ہر ایک کو بدصورت سمجھتے ہیں، یہ شیشے کے سامنے بھی کھڑے ہوں تو اِنہیں لگتاہے کہ شیشہ خراب ہے، جہاں کہیں اِن کے علاوہ کسی اور کی پذیرائی ہو رہی ہو اِنہیں ہول اٹھنے لگتے ہیں اور اِن کا دماغ اِنہیں قائل کر لیتا ہے کہ یہ سب غلط ہو رہا ہے، آپ ایسے لوگوں سے لاکھ محبت سے بات کرلیں، ان کے منہ سے ببول ہی جھڑتے ہیں‘‘۔ نفسیات دان صاحب کی بات سن کر میں نے سوال کیا کہ ایسے لوگوں کا علاج کیا ہے؟ مسکرا کر بولے ’’علاج کے لیے اِن کے ماضی میں جھانکنے کی ضرورت ہوتی ہے لیکن یہ لوگ اتنی جلدی کھلتے نہیں، تاہم جو لوگ اپنا ماضی بتانے پر آمادہ ہو جاتے ہیں اسے سن کر اکثر ترس آنے لگتاہے کہ واقعی اِن کی تلخی جائز ہے، ایسی باتوں کا اثر ساری زندگی نہیں جاتا، سو اِس کا ایک ہی حل ہے کہ اِنہیں بار بار بتایا جائے کہ جو ہوا اُسے بھول جاؤ اور نئے سرے سے زندگی شروع کرو۔۔۔‘‘
(بشکریہ: روزنامہ جنگ)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker