عطاء الحق قاسمیکالملکھاری

عطا ء الحق قاسمی کا کالم:میرے بچپن کے دن (قسط 5)

اس زمانے میں نئی اور پرانی فلموں کی مختصر کہانیاں اور گانے چار پانچ صفحے کے گھٹیا کاغذ پر شائع شدہ صورت میں بھی فروخت ہوتے۔ شہر کے واحد سینما میں لگنے والی فلم کی پبلسٹی تانگے کےتین اطراف میں اس فلم کے بورڈ لگا کر کی جاتی۔ یہ تانگےبچوںکو اسکول سے لاتے تھے اور یوںشہر بھر میںفلم کی پبلسٹی ہو جاتی تھی۔ دوسرا طریقہ یہ تھا کہ ایک شخص گھنٹی یا ڈھول بجاتا ہوا آگے چلتا اور اس کےپیچھے تین چار مزدور فلم کے پبلسٹی بورڈ اٹھا کر چل رہے ہوتے۔ ان بورڈوں پر ’’آج شب کو‘‘ کےا لفاظ اکٹھے یعنی ’’آج شب کو‘‘آج، شب اور کو علیحدہ علیحدہ پڑھنے کی بجائے ایک ہی سانس میں اکٹھا پڑھتا اور پریشان ہوتا تھا کہ اس کا مطلب کیا ہے؟
وزیر آباد میں ایک پاگل گلیوں اور بازاروں میں برہنہ گھوما کرتا تھا۔ لوگ اسے طوطی طوطی کہتے تھے ’’جانے چور‘‘ کے گھر کے پاس ایک ہندو عورت ’’رام سروپ‘‘ رہتی تھی۔ طوطی سارا دن سڑکوںپرکھجل ہونے کے بعد اس کے ٹھکانے پرپہنچ جاتا وہ اس کابہت دھیان رکھتی۔ ایم بی ہائی اسکول کے پچھواڑے میں مجید پہلوان کا اکھاڑا تھا۔ یہاں مجیدا پہلوان (جو فوت ہو چکے ہیں) اپنے شاگردوں کے ساتھ لنگوٹ باندھے اور بدن پر تیل ملے ورزش میں مصروف نظر آتے تھے۔ والد ماجد مولانا بہاء الحق قاسمی کو میری مکروہات یعنی پتنگ بازی وغیرہ میں دلچسپی پسند نہ تھی۔ وہ چاہتے تھے کہ میں اس کی بجائے صحت مند کھیلوں میں دلچسپی رکھوں چنانچہ میں نے اپنے دوستوں منور وغیرہ کے ساتھ مجید پہلوان کے اکھاڑے میں جانا شروع کردیا، تیسرے دن اس صحت مند کھیل کے نتیجے میں جب میں لنگڑاتا ہوا گھر پہنچا تو والد صاحب نے آئندہ اکھاڑے میں جانے سے منع کردیا اور فٹ بال خرید کر دیا مگر منور (مرحوم) کے گھر کے ساتھ چھوٹے سے خالی پلاٹ جسے ہم ’’کھولا‘‘ کہتے تھے میں فٹ بال کیسے کھیلا جاسکتا تھا۔ چنانچہ مجبوراً ایک بار پھر ’’مکروہات‘‘ کی طرف رجوع کرنا پڑا۔ بسیں او ررکشے نہ ہوں، آبادی کم ہو، درخت زیادہ ہوں اور اوپر سے پائوں میں جرابیں بھی نہ ہوں، کوٹ نام کی کوئی چیز نہ ہو، بس پاجامے اور قمیض پر پتلا سوئیٹر پہنا ہو تو سردی نہیں لگے گی تو کیا لگے گا؟ سردیوں میں صبح اسکول جاتے ہوئے جسم پر کپکپی طاری رہتی تھی اور دانت مسلسل بجتے رہتے تھے ، لیکن مزا آتا تھا۔ میں اس سردی کے لئے ترس گیا ہوں۔ اب سردی کی جگہ ’’سرد مہری‘‘نے لے لی ہے۔ ایم بی ہائی اسکول کے ساتھ سکھوں کا گوردوارہ تھا جسے ’’گورو کوٹھا‘‘ کہا جاتا تھا۔ جب مشرقی پنجاب کے مختلف شہروں سے مسلمانوں کی لاشوں سے بھری ہوئی ٹرینیں پاکستان پہنچیں تو اشتعال کی لہر نے سب کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ چنانچہ وزیر آباد کے اس گورو دوارے کوبھی آگ لگا دی گئی۔ میری عمر اس وقت پانچ سال سے زیادہ کیا ہوگی۔ مگر میں حیران ہوں کہ ایک دھندلا سا منظر ابھی تک میرے حافظے میں محفوظ ہے۔ مجھے یاد پڑتا ہے کہ میری والدہ مرحومہ اور میری بہنیں اپنے مکان کی چھت پر کھڑی گورو دوارے سے اٹھتے شعلے اور دھواں دیکھ رہی تھیں اور زار و قطار رورہی تھیں اور میں حیران ہو رہا تھا کہ یہ سب کیوں رو رہے ہیں؟ شنید ہے کہ گورو دوارے میں پناہ لینے والے کچھ لوگ ان شعلوں کی زد میں آکر زندہ جل مرے تھے۔ فسادات ہی کے دنوں میں ایک روز دوپہر کے وقت کسی شخص کےبھاگنے کی آواز سنائی دی اور تھوڑی دیر بعد یہ آواز ہمارے گھر کی ڈیوڑھی پر آ کر رک گئی اور پھر ایک چھناکے کے ساتھ ایک تھیلی ڈیوڑھی میں آن گری اور ساتھ میں یہ آواز بھی سنائی دی ’’قاسمی صاحب! یہ زیورات آپ رکھ لیں‘‘ زیورات کی یہ تھیلی لوٹ مار کے دوران روشن نام کے ایک تیل فروش کے ہاتھ لگی تھی۔ پولیس اس کا پیچھا کر رہی تھی۔ اس نے ہمارے گھر کے سامنے سے گزرتے ہوئے سوچا کہ یہ زیورات پولیس کے ہاتھ لگنےکی بجائےکسی مہاجر خاندان کے کام آنے چاہئیں جو اس سے کہیں زیادہ زیورات اپنے پرانے گھروں میں چھوڑ کر آئے ہیں۔ چنانچہ میرے ایک کزن نے فوراً لپک کر یہ تھیلی اٹھائی لیکن والد ماجد نے جو حلال حرام کے معاملے میں تقویٰ کی سرحدوں کو چھوتے تھے یہ تھیلی ان سے چھین کر اگلے روز سرکاری خزانے میں جمع کرا دی یا شاید اس کو اسی وقت واپس گلی میں پھینک دیا مجھے تفصیل اچھی طرح یاد نہیں ہے۔
1951ءمیں شہید ملت لیاقت علی خان کو راولپنڈی کے جلسۂ عام میں سید اکبر نامی بدبخت نے گولی مار کر شہید کر دیا تو پورا وزیر آباد غم کی شدید لہر کی لپیٹ میں آگیا۔ اس زمانے میں سہگل کی آواز میں ایک گانا بہت مشہور تھا۔
غم دیئے مستقل، کتنا نازک ہے دل
یہ نہ جانا، ہائے ہائے یہ ظالم زمانہ
چنانچہ ہماری قریبی مسجد میں اس گانے کی طرز پر کئی دن تک شہید ملت کا یہ نوحہ پڑھا جاتا رہا۔
سید اکبر نے جلسے میں آ کر
اپنے ہاتھوں سے گولی چلا کر
قوم کو دکھ دیا بے ٹھکانہ
ہائے ہائے یہ ظالم زمانہ
میرے حافظے میں تانگے کے گھوڑے کی وہ ٹاپ بھی محفوظ ہے جو کبھی کبھی رات کےسناٹوں میں سنائی دیتی تھی۔ وزیر آباد کا کوئی باسی یا کوئی مہمان آخری ٹرین سے واپس پہنچتاتو سوئے قصبے کی طلسماتی فضا میں گھوڑا ایک اور پراسرار سا رنگ بھر دیتا ۔ جس روز لیاقت علی خان کو شہید کیا گیا اس روز بھی یہ ٹاپ سنائی دی تھی۔ اس روز تانگہ کچہری سے خالی آیا تھا۔
(بشکریہ: روزنامہ جنگ)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker