Close Menu
  • مرکزی صفحہ
  • اہم خبریں
    • عالمی خبریں
    • تجزیے
  • English Section
  • ادب
    • لکھاری
    • مزاح
    • افسانے
    • شاعری
    • کتب نما
  • کالم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • علاقائی رنگ
    • پنجاب
      • لاہور
      • اوکاڑہ
      • خانیوال
      • پاکپتن
      • چکوال
      • جہلم
      • اٹک
      • گوجرانوالا
      • سیالکوٹ
      • گجرات
      • قصور
      • فیصل آباد
      • راولپنڈی
      • نارووال
    • سرائیکی وسیب
      • ملتان
      • ڈی جی خان
      • رحیم یار خان
      • لیہ
      • میانوالی
      • جھنگ
      • بہاول پور
      • راجن پور
      • مظفر گڑھ
      • وہاڑی
      • بہاول نگر
    • سندھ
      • کراچی
    • بلوچستان
      • کوئٹہ
      • ہرنائی
    • خیبر پختونخوا
      • شانگلہ
    • گلگت بلتستان
    • کشمیر
  • کھیل
    • پاکستان سپر لیگ
    • کرکٹ ورلڈ کپ2019
  • تجارت
  • جہان نسواں
  • وڈیوز
    • لایئوٹی وی چینلز
Facebook X (Twitter)
منگل, جنوری 20, 2026
  • پالیسی
  • رابطہ
Facebook X (Twitter) YouTube
GirdopeshGirdopesh
تازہ خبریں:
  • دو جنوری 1978 ء کالونی ملز میں 133 مزدوروں کا قتل ضیاء کے حکم پر ہوا : ڈان نیوز کی تحقیقی رپورٹ کا ایک حصہ
  • آج نام ور کالم نگار ، ڈرامہ نگار ، صحافی منو بھائی کی آٹھویں برسی ہے
  • گل پلازہ آتشزدگی : 14 افراد ہلاک 65 لاپتا ، آگ بجھا دی گئی
  • بلڈر انتقال کے بعد گل پلازہ اور آرجے مال میں یکے بعد دیگرے آتشزدگیاں ۔۔ محض حادثات یا کچھ اور ؟شاہ ولی اللہ جنیدی کی ر پورٹ
  • معروف خطاط، ڈیزائینر اور صحافی ارشد خرم انتقال کر گئے
  • مظاہروں میں ہزاروں افراد ہلاک ہوئے : امریکا مجرم ہے : خامنہ ای
  • کراچی کے شاپنگ پلازے میں ہولناک آتشزدگی : 5 افراد ہلاک
  • کراچی پولیس کا 100 سے زائد بچوں سے زیادتی کے ملزمان گرفتار کرنے کا دعویٰ
  • پروفیسر ڈاکٹر مزمل حسین کا اختصاریہ : فرید اللہ چودھری ، ذمہ دار صحافت اور فکری عمل کا استعارہ
  • خاران میں مسلح افراد نے تین بینک لوٹ لیے : تھانے پر حملہ ۔۔ 12 شدت پسند مقابلے میں مارے گئے : آئی ایس پی آر
  • مرکزی صفحہ
  • اہم خبریں
    • عالمی خبریں
    • تجزیے
  • English Section
  • ادب
    • لکھاری
    • مزاح
    • افسانے
    • شاعری
    • کتب نما
  • کالم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • علاقائی رنگ
    • پنجاب
      • لاہور
      • اوکاڑہ
      • خانیوال
      • پاکپتن
      • چکوال
      • جہلم
      • اٹک
      • گوجرانوالا
      • سیالکوٹ
      • گجرات
      • قصور
      • فیصل آباد
      • راولپنڈی
      • نارووال
    • سرائیکی وسیب
      • ملتان
      • ڈی جی خان
      • رحیم یار خان
      • لیہ
      • میانوالی
      • جھنگ
      • بہاول پور
      • راجن پور
      • مظفر گڑھ
      • وہاڑی
      • بہاول نگر
    • سندھ
      • کراچی
    • بلوچستان
      • کوئٹہ
      • ہرنائی
    • خیبر پختونخوا
      • شانگلہ
    • گلگت بلتستان
    • کشمیر
  • کھیل
    • پاکستان سپر لیگ
    • کرکٹ ورلڈ کپ2019
  • تجارت
  • جہان نسواں
  • وڈیوز
    • لایئوٹی وی چینلز
GirdopeshGirdopesh
You are at:Home»لکھاری»عطاء الحق قاسمی»عطا ء الحق قاسمی کا کالم:میرے صوفی صاحب!
عطاء الحق قاسمی

عطا ء الحق قاسمی کا کالم:میرے صوفی صاحب!

رضی الدین رضیفروری 3, 20230 Views
Facebook Twitter WhatsApp Email
Share
Facebook Twitter WhatsApp Email

جس طرح ہمارے بلوچستان کے لوگ بجاطور پر احساس محرومی کا شکار ہیں اسی طرح میں بھی ایک حوالے سے احساس محرومی کا مارا ہوا ہوں۔ میرا احساس محرومی یہ ہے کہ اپنی طالب علمی کے زمانے میں مجھے مرحوم صوفی تبسم صاحب سے پڑھنے کا اتفاق کیوں نہ ہوا کیونکہ ان کے شاگرد اپنے استاد کا ذکر جس محبت اور عقیدت سے کرتے ہیں اور بطور استاد ان کے ’’فضائل‘‘ جس طرح بیان کرتے ہیں اس سے میرے اندر احساس محرومی پیدا ہوتا ہے۔ صوفی صاحب کی شاگردی میں نہ آسکنے کی وجہ یہ تھی کہ اس کے لئے راوین ہونا ضروری تھا جب کہ میں راوین نہیں۔ میں نے بی اے، ایم اےاو کالج سے کیا تھا البتہ میری بیوی ’’اولڈ‘‘ راوین ہے کاش وہ صرف راوین ہوتی۔ ایم اے او کالج کا معاملہ یہ تھا کہ ایک دفعہ اعجاز حسین بٹالوی نے ایک طالب علم کے داخلے کی سفارش کے لئے مجھے اس کے ہاتھ ایک رقعہ بھیجا جس میں لکھا تھا برادرم قاسمی صاحب حامل رقعہ ہذا کا خیال ہے کہ انسان کو علم ضرور حاصل کرنا چاہیے خواہ اس کے لئے اسے ایم اے او کالج ہی کیوں نہ جانا پڑے۔ تاہم یہ اس زمانے کی بات ہے جب لڑکا وہاں فرسٹ ایئر میں داخلہ لیتا تھا اور فورتھ ایئر تک پہنچتے پہنچتے عموماً پولیس مقابلے میں مارا جاتا تھا۔ تاہم پڑھائی مکمل کرکے وہاں بطور لیکچرر میری تعیناتی کے بعد صورتحال بدل گئی تھی۔ اس کے بعد کسی طالب علم کے نہیں استاد کے مارے جانے کا اندیشہ ہمیشہ لاحق رہنےلگا۔
خیر اگرچہ مجھے صوفی صاحب کے سامنے زانوے تلمذ تہہ کرنے کی سعادت نصیب نہیں ہوئی لیکن ان سے ملاقات کا شرف ضرور حاصل رہا ہے سوائے ایک ملاقات کے باقی اکثر ملاقاتیں مختصر دورانیے کی ہوتی تھیں اور باعث ملاقات مشاعرےبنتے تھے یا ان سے سرراہے ملاقات ہو جاتی تھی البتہ ایک طویل ملاقات ان کی سمن آباد والی کوٹھی میں ہوئی تھی اور اس دوران وہ کافی دیر تک مجھ سے امرتسر میرے والد صاحب مولانا بہاء الحق قاسمی اور میرے دادا مفتی غلام مصطفیٰ قاسمی کی باتیں کرتے رہے۔ والد ماجد ایم اے او کالج اور ایم اے او ہائی اسکول امرتسر سے 28برس تک وابستہ رہے تھے ویسے بھی امرتسر کے لوگ ایک گھرانے کی طرح رہتے تھے اور یوں ایک دوسرے سے شناسائیاں اور محبتیں بہت عام تھیں۔ صوفی صاحب کے ساتھ میرے خاندان کا ایک رشتہ کشمیری ہونے کے ناتے بھی تھا اور یہ تو آپ جانتے ہیں کہ کشمیریوں کی نانی ایک ہوتی ہے۔ کسی دن مجھے صوفی صاحب اور اپنے شجرۂ نسب میں پرنانی تلاش کرنا ہی پڑے گی بلکہ ایک دفعہ صوفی صاحب کے داماد اور میرے دوست ماجد علی شاہ نے یہ فال ڈھونڈ ڈھانڈ کر نکال ہی لی تھی اور مجھے اس بارے میں بتایا بھی تھا۔ صوفی غلام مصطفیٰ تبسم فارسی ، اردو اور پنجابی زبان و ادب کے وہ غواص تھے جو ان سمندروں سے وہ موتی نکال کر لاتے تھے جن کی چمک آنکھوں کو خیرہ کردیتی تھی وہ اپنے طالب علموںکی جھولیاں موتیوں سے بھر دیتے تھے۔ صوفی صاحب اپنے تمام تر علم و فضل کے باوجود نہایت شگفتہ طبیعت کے مالک تھے۔ وہ پھلجھڑیاں چھوڑتے بھی تھے اور پھلجھڑیوں سے لطف اندوز بھی ہوتے۔ ایک بار میں نے بھی لبرٹی لیتے ہوئے اپنے کالم میں صوفی صاحب کی ایک میٹھی سی چٹکی لی مگر پھر ڈر کے مارے ان کے سامنے آنے سے گریز کرنے لگا۔ ایک روز انار کلی سے نیلا گنبد کی طرف آ رہا تھا کہ ناگاہ میری نظر صوفی صاحب پر پڑی وہ ٹائروں کی دکانوں کے سامنے چلتے چلتے میری طرف ہی آ رہے تھے، میں ابھی وہاں سے دوڑ لگانے کی سوچ رہا تھا کہ صوفی صاحب نے مجھے پکارا ’’اوئے ایدھر آ‘‘میں سر جھکائے گربہ مسکین بنا ان کے پاس گیا۔ انہوں نے ایک ہاتھ میرے کاندھے پر رکھا اور کہا ’’وہ تم نے اپنے کالم میں کیا لکھا تھا؟‘‘ میں نے منمناتے ہوئے کہا ’’کچھ نہیں جی! بس ایسے ہی!‘‘ یہ سن کر صوفی صاحب نے اپنے جھالروں والے سر کے میدانی حصے میں ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا ’’توں بڑا….‘‘ اگلا لفظ میں چھوڑ رہا ہوں۔صوفی صاحب سے ملنے والے جانتے ہیں کہ وہ لفظ کیا تھا اور انہیں یہ بھی علم ہے کہ اس لفظ کا استعمال وہ عموماً شاباش دینے کے لئے ہی کیا کرتے تھے۔ تاہم ایک دفعہ میں نے صوفی صاحب کو ایک مشاعرے کے دوران جو پنجاب آرٹس کونسل کے زیرا ہتمام ہو رہا تھا، غصے میں بھی دیکھا لیکن ان کے اس غصے کو اسٹیج پر ہم سب شعراء نے بہت انجوائے کیا کیونکہ اس میں ہم سب کے غصے کی نمائندگی بھی موجود تھی دراصل اس مشاعرے میں لاہور کے ایک شاعر بھی موجود تھے جو مسلم لیگ کی حکومت میں اپنی جناح کیپ اور پیپلز پارٹی کی حکومت میں اپنی ماؤ کیپ سے لوگوں کو ڈراتے رہتے تھے وہ جب اسٹیج پر کلام سنانے کیلئے تشریف لائے تو ایک بے ہودہ قسم کی نظم پڑھی جو سامعین نے بمشکل ہضم کی۔ اس کے بعد جب وہ دوسری نظم پڑھنے لگے تو لوگوں نے انہیں ہوٹ کرنا شروع کردیا۔ صدر مشاعرہ صوفی صاحب نے انہیں مخاطب کرکے آہستہ سے کہا اب واپس آ جائو۔ موصوف نے نظم جاری رکھی۔ صوفی صاحب نے ایک مرتبہ پھر انہیں واپس آنے کے لئے کہا لیکن اس بار بھی انہوں نے نہ صرف یہ کہ سنی اَن سنی کر دی بلکہ تیسری نظم کے لئے بھی اسٹارٹ لے لیا۔ اس پر صوفی صاحب جھنجھلا کر اپنی صدارتی نشست سے کھسکتے کھسکتے ان کی طرف بڑھے اور ان کی قمیص پیچھے سے کھینچتے ہوئے باآواز بلند غصے سے کہا، ’’توں واپس آنا اے کہ نیں‘‘ جس پر سارا ہال زعفران زار بن گیا۔ گویا صوفی صاحب کا غصہ بھی رنگ میں بھنگ ڈالنے والا نہیں بلکہ محفل کی رونق میں اضافے کا باعث بنا۔
یہ سب باتیں اپنی جگہ لیکن ان کی خوبصورت غزلیں، ان کے تراجم ان کے علمی مضامین اور ایک اعلیٰ درجے کا استاد ہونا ان کی ہمہ جہت شخصیت کے ایسے پہلو ہیں کہ ان کا احاطہ ایک مختصر سے مضمون میں ممکن نہیں۔ مجھے ان کے یہ دو شعر خصوصاً بہت پسند ہیں۔
سو بار چمن مہکا، سو بار بہار آئی
دنیا کی وہی رونق دل کی وہی تنہائی
دیکھے ہیں بہت ہم نے ہنگامے محبت کے
آغاز بھی رسوائی، انجام بھی رسوائی
اور جو کچھ بچوں کیلئے لکھ گئے ہیں پورے اردو ادب میں اس کی کوئی نظیر نہیں ملتی۔ فوزیہ تبسم ہر سال صوفی صاحب کی برسی مناتی ہیں جبکہ صوفی صاحب تو ہمارے دلوں میں زندہ ہیں۔ بہتر ہوگا کہ آئندہ برسی کی بجائے صوفی صاحب کی سالگرہ منائی جائے اور کوئی گول مٹول سا ٹوٹ بٹوٹ سالگرہ کا کیک کاٹے۔
(بشکریہ: روزنامہ جنگ)

فیس بک کمینٹ

  • 0
    Facebook

  • 0
    Twitter

  • 0
    Facebook-messenger

  • 0
    Whatsapp

  • 0
    Email

  • 0
    Reddit

Share. Facebook Twitter WhatsApp Email
Previous Articleاہم قومی چیلنجز کا حل،وزیر اعظم نے آل پارٹیز کانفرنس طلب کرلی،عمران خان کو بھی دعوت
Next Article کشور ناہیدکا کالم:تکلیف دہ حالات، مزاحمت یا مفاہمت
رضی الدین رضی
  • Website

Related Posts

دو جنوری 1978 ء کالونی ملز میں 133 مزدوروں کا قتل ضیاء کے حکم پر ہوا : ڈان نیوز کی تحقیقی رپورٹ کا ایک حصہ

جنوری 20, 2026

آج نام ور کالم نگار ، ڈرامہ نگار ، صحافی منو بھائی کی آٹھویں برسی ہے

جنوری 19, 2026

گل پلازہ آتشزدگی : 14 افراد ہلاک 65 لاپتا ، آگ بجھا دی گئی

جنوری 19, 2026

Comments are closed.

حالیہ پوسٹس
  • دو جنوری 1978 ء کالونی ملز میں 133 مزدوروں کا قتل ضیاء کے حکم پر ہوا : ڈان نیوز کی تحقیقی رپورٹ کا ایک حصہ جنوری 20, 2026
  • آج نام ور کالم نگار ، ڈرامہ نگار ، صحافی منو بھائی کی آٹھویں برسی ہے جنوری 19, 2026
  • گل پلازہ آتشزدگی : 14 افراد ہلاک 65 لاپتا ، آگ بجھا دی گئی جنوری 19, 2026
  • بلڈر انتقال کے بعد گل پلازہ اور آرجے مال میں یکے بعد دیگرے آتشزدگیاں ۔۔ محض حادثات یا کچھ اور ؟شاہ ولی اللہ جنیدی کی ر پورٹ جنوری 18, 2026
  • معروف خطاط، ڈیزائینر اور صحافی ارشد خرم انتقال کر گئے جنوری 18, 2026
زمرے
  • جہان نسواں / فنون لطیفہ
  • اختصاریئے
  • ادب
  • کالم
  • کتب نما
  • کھیل
  • علاقائی رنگ
  • اہم خبریں
  • مزاح
  • صنعت / تجارت / زراعت

kutab books english urdu girdopesh.com



kutab books english urdu girdopesh.com
کم قیمت میں انگریزی اور اردو کتب خریدنے کے لیے کلک کریں
Girdopesh
Facebook X (Twitter) YouTube
© 2026 جملہ حقوق بحق گردوپیش محفوظ ہیں

Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.