Close Menu
  • مرکزی صفحہ
  • اہم خبریں
    • عالمی خبریں
    • تجزیے
  • English Section
  • ادب
    • لکھاری
    • مزاح
    • افسانے
    • شاعری
    • کتب نما
  • کالم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • علاقائی رنگ
    • پنجاب
      • لاہور
      • اوکاڑہ
      • خانیوال
      • پاکپتن
      • چکوال
      • جہلم
      • اٹک
      • گوجرانوالا
      • سیالکوٹ
      • گجرات
      • قصور
      • فیصل آباد
      • راولپنڈی
      • نارووال
    • سرائیکی وسیب
      • ملتان
      • ڈی جی خان
      • رحیم یار خان
      • لیہ
      • میانوالی
      • جھنگ
      • بہاول پور
      • راجن پور
      • مظفر گڑھ
      • وہاڑی
      • بہاول نگر
    • سندھ
      • کراچی
    • بلوچستان
      • کوئٹہ
      • ہرنائی
    • خیبر پختونخوا
      • شانگلہ
    • گلگت بلتستان
    • کشمیر
  • کھیل
    • پاکستان سپر لیگ
    • کرکٹ ورلڈ کپ2019
  • تجارت
  • جہان نسواں
  • وڈیوز
    • لایئوٹی وی چینلز
Facebook X (Twitter)
اتوار, مئی 3, 2026
  • پالیسی
  • رابطہ
Facebook X (Twitter) YouTube
GirdopeshGirdopesh
تازہ خبریں:
  • پاک افغان تعلقات اور عالمی تشویش : سید مجاہدعلی کا تجزیہ
  • بموں کو ناکارہ بناتے ہوئے پاسدارانِ انقلاب کے 14 اہلکار ہلاک
  • حیدرآباد کنگز مین سنسنی خیز مقابلے کے بعد ، فائنل میں : اسلام آباد آؤٹ
  • یومَ مئی اور کالونی ٹیکسٹائل ملز کے مزدوروں کی یاد : قریب و دور سے / ڈاکٹر انوار احمد کا کالم
  • کیا پیٹرول مہنگا ہونے کے ذمہ دار شہباز شریف ہیں ؟ ۔۔ نصرت جاوید کا کالم
  • باتھ روم میں خاتون کی ویڈیو بنانے کا الزام، 2 سری لنکن کرکٹرز گرفتار
  • امریکی استعماریت کے مدمقابل ایرانی تسلط کا خواب :سیدمجاہد علی کا تجزیہ
  • پروفیسر ڈاکٹر حسان خالق قریشی ایمرسن یونیورسٹی ملتان کے نئے وائس چانسلر : چارج سنبھال لیا
  • مزدوروں کے عالمی دن پر پیٹرول پھر مہنگا کر دیا گیا: سات روپے لیٹر اضافہ
  • معروف بھارتی گلوکارہ کا میوزک کمپوزر پر جنسی استحصال اور فحش فلموں کے ذریعے بلیک میلنگ کا الزام
  • مرکزی صفحہ
  • اہم خبریں
    • عالمی خبریں
    • تجزیے
  • English Section
  • ادب
    • لکھاری
    • مزاح
    • افسانے
    • شاعری
    • کتب نما
  • کالم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • علاقائی رنگ
    • پنجاب
      • لاہور
      • اوکاڑہ
      • خانیوال
      • پاکپتن
      • چکوال
      • جہلم
      • اٹک
      • گوجرانوالا
      • سیالکوٹ
      • گجرات
      • قصور
      • فیصل آباد
      • راولپنڈی
      • نارووال
    • سرائیکی وسیب
      • ملتان
      • ڈی جی خان
      • رحیم یار خان
      • لیہ
      • میانوالی
      • جھنگ
      • بہاول پور
      • راجن پور
      • مظفر گڑھ
      • وہاڑی
      • بہاول نگر
    • سندھ
      • کراچی
    • بلوچستان
      • کوئٹہ
      • ہرنائی
    • خیبر پختونخوا
      • شانگلہ
    • گلگت بلتستان
    • کشمیر
  • کھیل
    • پاکستان سپر لیگ
    • کرکٹ ورلڈ کپ2019
  • تجارت
  • جہان نسواں
  • وڈیوز
    • لایئوٹی وی چینلز
GirdopeshGirdopesh
You are at:Home»لکھاری»عطاء الحق قاسمی»عطا ء الحق قاسمی کا کالم:ادھوری صداقتوں کا سفر
عطاء الحق قاسمی

عطا ء الحق قاسمی کا کالم:ادھوری صداقتوں کا سفر

ایڈیٹرجولائی 14, 20233 Views
Facebook Twitter WhatsApp Email
Share
Facebook Twitter WhatsApp Email

مجھے بالکل یاد نہیں کہ فاروق عادل سے میری پہلی ملاقات کب ہوئی تھی مگر یہ بات میرے دل میں واضح ہو چکی ہے کہ دنیا مخلص اور دیانتدار لوگوں سے کبھی خالی نہیں ہوئی وہ جب کراچی میں تھے اس وقت بھی ان سے ملاقات ہوئی تھی اور جب سابق صدرِ پاکستان جناب ممنون حسین کی نظر انتخاب ان پر پڑی تو وہ کراچی سے اسلام آباد منتقل ہوگئے اور اب وہ اسلام آبادی ہو کر رہ گئے ہیں۔ فاروق عادل ایک منجھے ہوئے صحافی اور ادیب ہیں اور ’’اس کے باوجود‘‘ نہایت اعلیٰ درجے کے انسان بھی! شرافت اور وضعداری کے پیکر اور اتنے منکسر المزاج کہ کبھی کبھار مجھ تک کو اپنے اساتذہ میں گرداننے سے بھی باز نہیں آتے، اللہ ان کے حال پر رحم کرے۔
فاروق عادل ان دنوں بی بی سی کیلئے بھی کام کرتے ہیں اور حال ہی میں یہ مضامین ’’ہم نے جو بھلا دیا‘‘ کے عنوان سے کتابی صورت میں شائع ہوئے ہیں اور یہ کتاب قلم فاؤنڈیشن انٹرنیشنل کے زیراہتمام شائع ہوئی ہے۔ مجھے تو یہ کتاب ہر حال میں پڑھنا تھی کہ اس کے مصنف فاروق عادل تھے لیکن کتاب پڑھنے کےبعد اندازہ ہوا کہ میں اگریہ کتاب نہ پڑھتا تو اپنے آپ پر ظلم کرتا۔یہ کوئی عام کتاب نہیں بلکہ جن لوگوں نے پاکستان کی زندگی میں آنے والے بہت سے واقعات بلکہ کتابیں بھی پڑھی ہیں وہ بھی شاید اس کتاب کے مطالعہ کے دوران کئی مقامات پر ٹھٹک کر رہ جاتے، میری عمر پاکستان کی عمر سے پانچ سال زیادہ ہے چنانچہ میں اس کتاب کے بہت سے موضوعات، حالات وواقعات سے کچھ حد تک آگاہ ہوں مگر میرا مشاہدہ اور مطالعہ صرف کانوں سے سنے ہوئے واقعات، آنکھوں سے دیکھے ہوئے دھندلے دھندلے سے مناظر اور اخبارات کی ادھوری سچائیوں تک محدودتھا۔ مگر جب فاروق عادل کی تحقیق کے اصولوں کے مطابق لکھی گئی کتاب پڑھی تو میری آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں۔ہمیں کیا کیا فتح و کامرانی کی کہانیاں سنائی گئیں اور اندر سے کتنی پامال حقیقتیں برآمد ہوئیں۔ پاکستان میں 1951ء میں جب غذائی قلت پیدا ہوئی تو امریکہ سے غلے کی صورت میں ہمیں امداد مہیا کی گئی اور ان امدادی بوریوں پر ’’شکریہ امریکہ‘‘ لکھا ہوتا تھا۔ یہ عبارت میں نے بھی پڑھی تھی۔ اسکے بعد بھی مختلف مقامات پر امریکہ ہی ہماری مدد کو آتا رہا، مگر یہیں سے ان معاہدوں کا آغاز ہوا جن کے نتیجے میں ہم نے ایسے معاہدوں پر دستخط کئے جن کے نتیجے میں ہماری خود مختاری پرسوال اٹھنا شروع ہوئے اور ہم آج بھی امداد حاصل کرنے والے ملکوں سے بہت نیاز مندی کے ساتھ ملنے پر مجبور ہیں۔ یوں تو ساری کی ساری کتاب
عبرت سرائے دہر ہےاور ہم ہیں دوستو!
کی آئینہ دار ہے مگر ہمارے اس دور کے عسکری بزرجمہروں نے کشمیر کی آزادی کے جو منصوبے بنائے اور اس حوالے سے شیخ چلی جیسے خواب دیکھے اور ان کا جو بھیانک نتیجہ سامنا ہے، اس سے بہت کچھ سیکھا جا سکتا تھا مگر اس کے کئی برسوں بعد پھر کارگل کا ایڈونچر سامنے آگیا۔ فاروق عادل نے یہ سب دلخراش تاریخ ،منصوبہ سازوں، سیاست دانوں ان کے مشیروں اور اس دور میں اس حوالے سے سامنے آنے والی کتابوں اور تحریروں کی مدد سے قارئین تک پہنچائی ہے۔ میں یہ کتاب پڑھتا گیا اور اداس ہوتا چلا گیا، تاہم میری خواہش ہے کہ ہم اگر اپنی بے خواب راتوں کو روشن صبحوں میں بدلنا چاہتے ہیں تو ان اور ان جیسے متعدد حقائق کو قوم کےسامنے لانا ضروری ہے۔
میں ذاتی طور پر محسوس کرتا ہوں کہ ہم نے اگر اپنی قوم کو بیدار کرناہے اور انہیں باشعور بنانا ہے تو ہمیں یونیورسٹیوں اور کالجوں میں پڑھائے جانے والے جھوٹ کے پلندوں کو نذر آتش کرنا ہوگا اور آنے والی نسل کو تلخ سے تلخ تاریخی حقائق سے آگاہ کیا جانا ضروری ہے۔ اگر ہم ایسا کریں گے تو آپ یقین جانیں ہم اپنا مستقبل محفوظ اور روشن بنانے میں کامیاب ہوسکیں گے۔ میں سمجھتا ہوں کہ فاروق عادل نے یہ کتاب لکھ کر اور پبلشر نے شائع کرکے ایک قومی خدمت سرانجام دی ہے۔ ضرورت ہے کہ اس موضوع پر (اگرچہ اور بھی کتابیں شائع ہو چکی ہیں) دوسرے تاریخ دان بھی وہ حقائق سامنے لائیں جو ادھوری صداقتوں کی صورت میں ہمارے سامنے آتے رہے ہیں۔ قوم کو اب مکمل صداقت جاننے کی ضرورت ہے۔
(بشکریہ: روزنامہ جنگ)

فیس بک کمینٹ

  • 0
    Facebook

  • 0
    Twitter

  • 0
    Facebook-messenger

  • 0
    Whatsapp

  • 0
    Email

  • 0
    Reddit

Share. Facebook Twitter WhatsApp Email
Previous Articleسید مجاہد علی کا تجزیہ : کیا وفاق کی نگران حکومت 90 دن ہی کے لئے ہوگی؟
Next Article کشور ناہیدکا کالم:65فی صد نوجوانو! اپنا ملک سنبھالو
ایڈیٹر
  • Website

Related Posts

پاک افغان تعلقات اور عالمی تشویش : سید مجاہدعلی کا تجزیہ

مئی 3, 2026

بموں کو ناکارہ بناتے ہوئے پاسدارانِ انقلاب کے 14 اہلکار ہلاک

مئی 2, 2026

حیدرآباد کنگز مین سنسنی خیز مقابلے کے بعد ، فائنل میں : اسلام آباد آؤٹ

مئی 2, 2026

Comments are closed.

حالیہ پوسٹس
  • پاک افغان تعلقات اور عالمی تشویش : سید مجاہدعلی کا تجزیہ مئی 3, 2026
  • بموں کو ناکارہ بناتے ہوئے پاسدارانِ انقلاب کے 14 اہلکار ہلاک مئی 2, 2026
  • حیدرآباد کنگز مین سنسنی خیز مقابلے کے بعد ، فائنل میں : اسلام آباد آؤٹ مئی 2, 2026
  • یومَ مئی اور کالونی ٹیکسٹائل ملز کے مزدوروں کی یاد : قریب و دور سے / ڈاکٹر انوار احمد کا کالم مئی 1, 2026
  • کیا پیٹرول مہنگا ہونے کے ذمہ دار شہباز شریف ہیں ؟ ۔۔ نصرت جاوید کا کالم مئی 1, 2026
زمرے
  • جہان نسواں / فنون لطیفہ
  • اختصاریئے
  • ادب
  • کالم
  • کتب نما
  • کھیل
  • علاقائی رنگ
  • اہم خبریں
  • مزاح
  • صنعت / تجارت / زراعت

kutab books english urdu girdopesh.com



kutab books english urdu girdopesh.com
کم قیمت میں انگریزی اور اردو کتب خریدنے کے لیے کلک کریں
Girdopesh
Facebook X (Twitter) YouTube
© 2026 جملہ حقوق بحق گردوپیش محفوظ ہیں

Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.