جنرل موسی خان سپاہی سے کمیشنڈ آفیسر منتخب ہوئے تھے۔اگست1947میں وہ برٹش انڈین آرمی میں میجر تھے۔
قیام پاکستان کے بعد انھیں کمانڈ اینڈ سٹاف کالج میں بطورانسٹرکٹربھیجا گیا۔ وہ کوئٹہ جانے کے لئے محو سفر تھے کہ سکھر ریلوے سٹیشن پر سٹیشن ماسٹر نے آواز لگوائی کہ میجر موسی کون ہے؟ میجر موسی نے تعارف کرایا تو اس نے مطلع کیا کہ آپ واپس لاہور جائیں۔ یہ آپ کے لئے ٹیلی گرام ہے۔ میجر موسی وہاں سے واپس عازم لاہور ہوئے۔ لاہورپہنچ کر وہ انگریزجی۔ او۔ سی کے اے ڈی سی مقرر ہوئے۔ بریگیڈئیرایوب خان پرالزام تھا کہ اس نے قیام پاکستان کے وقت ہونے والے فسادات میں غیر مسلم عورتوں کے زیورات اتروا لئے تھے۔ اس کے خلاف ان الزمات کے تحت انکوائری زیر التوا تھی۔ میجر موسی نے اس فائل کو نیچے والے دراز میں رکھ دیا اور یہ انکوائری ٹھپ ہوگئی۔ یہ تھا وہ احسان جو میجر موسی نے جنرل ایوب خان پر کیا تھا۔ جب جنرل ایوب خان مارشل نافذ کرکے صدر پاکستان بنے تو انھوں نے جنرل موسی کو پاکستانی فوج کا دوسرا پاکستانی کمانڈر انچیف مقرر کردیا۔
فیس بک کمینٹ

