بارکھان : بلوچستان کے علاقے بارکھان سے تعلق رکھنے والی مغوی خاتون گراں ناز، بیٹی اور ایک بیٹے کو بازیاب کرالیا گیا۔
پولیس ذرائع کے مطابق مغویوں کی بازیابی کے لیے کوہلو،بارکھان، دکی سمیت مختلف علاقوں میں کارروائیاں کی گئیں جس کے بعد مغوی خاتون گراں ناز، بیٹی اور بیٹے کو بازیاب کرالیا گیا۔
پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ بازیاب کرائے گئے تینوں افراد سرکاری تحویل میں ہیں، مغویوں کو قانونی کارروائی کے بعد خاندان کے حوالے کیا جائے گا۔
خیال رہے کہ گزشتہ دنوں بلوچستان کے علاقے بارکھان سے تعلق رکھنے والی خاتون اور ان کے دو بیٹوں کی لاشیں ملیں، چند روز قبل سوشل میڈیا پر خاتون کی قرآن پاک ہاتھ میں لیے نجی جیل سے رہائی کی دہائیاں دیتی ہوئی ویڈیو سامنے آئی۔
تاہم گزشتہ روز بارکھان میں کنویں سے ملنے والی لاشوں کو پوسٹ مارٹم مکمل کیا گیا۔
پولیس سرجن ڈاکٹرعائشہ فیض کے مطابق کنویں سے ملنے والی لاشوں میں سے ایک لڑکی کی لاش ہے جس کی عمر 17 سے 18 سال ہے، مقتولہ کے ساتھ جنسی زیادتی اور تشدد کیاگیا۔
انہوں نے بتایا کہ لڑکی کے سر پر تین گولیاں ماری گئیں اور شناخت چھپانے کےلیے چہرے اور گردن پر تیزاب پھینکا گیا۔پولیس سرجن نے بتایا کہ قتل کی گئی لڑکی گران ناز نہیں بلکہ اس کی بیٹی ہوسکتی ہے۔
سردار عبدالرحمان کھیتران پر گراں ناز مری اور ان کے بیٹوں کو یرغمال بنانے اور قتل کرنے کا الزام ہے۔
سردار عبدالرحمان کھیتران نے خود پر لگے الزامات کی سختی سے تردید کی تھی جبکہ سردار عبدالرحمان کھیتران کے گھر سے گراں ناز مری کے بچوں کی مبینہ تصاویر بھی سامنے آئی ہیں جس میں سردار عبدالرحمان کھیتران کو بھی دیکھا جا سکتا ہے۔
علاوہ ازیں بارکھان میں خاتون اور اس کے 2 بیٹوں کے قتل کے الزام میں بلوچستان کے برطرف وزیر مواصلات سردار عبدالرحمان کھیتران کو حراست میں لے لیا گیا۔
( بشکریہ : جیو نیوز )
فیس بک کمینٹ

