چار اپریل ملک کی سیاسی تاریخ کا ایسا سیاہ دن ہے جب قوم کو شعور اور غریب مزدور کسان کو زبان دینے والے کو ایک آمر ایک جرنیل ، سیاستدانوں اور عدلیہ نے امریکہ کے ایما پر جال بن کر ہمیشہ کیلئے خاموش کر دیا ۔پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی چیئرمین ذوالفقار علی بھٹو کے جسم کو پھانسی دے دی گئی۔ جال بننے والے بھی سب انجام کو پہنچے لیکن شہید قائد عوام نے عوام کے پسے طبقے کو جو شعور دیا شعور کی اس روشنی کو آمر ضیاءالحق کی گیارہ سالہ آمریت اور آمر کے گماشتے آج تک ختم نہ کر سکے۔
کیا عظیم عوامی لیڈر تھا جس نے سیاست کو وڈیروں کے ڈرائنگ رومز سے نکال کر عوام میں بکھیر دیا اور عوام کی طاقت سے مارشل لا کے باوجود عام انتخابات کا انعقاد کرایا۔بڑے بڑے سیاسی پنڈتوں کا دھڑن تختہ کیاپی پی پی کے ٹکٹ پر جہاں جاگیردار اسمبلی میں پہنچے وہاں عام آدمی مزدور رہنما اور پسے ہوئے طبقات کے نمائندے بھی ایوان تک رسائی حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے۔25سے 30 ایسے جیالے بھی رکن پارلیمنٹ منتخب ہوئے جن کی انتخابی اخراجات 200 روپے سے 2000 ہزار روپے تک تھےاور الیکشن کے بعد یہ کہاوت زور پکڑگئی کہ اگر کھمبے کو بھی پیپلز پارٹی ٹکٹ دیدے تو وہ یقیناً کامیاب ہو گا جبکہ الیکشن سے پہلے صورت حا ل مختلف تھی۔
جنوبی پنجاب کے اضلاع میں ٹکٹ دینے کیلئے ذوالفقار علی بھٹو شہید اور سابق گورنر پنجاب (اس وقت کے شیر پنجاب) کو لوگوں کے گھروں میں رابطے کر کے ٹکٹ دینے پڑے یہاں صورت حال کو نمایاں کرنے کیلئے ایک واقعہ تحریر کرتا ہوں۔غلام مصطفےٰ کھر اپنے تعلقات کی بنا پر ڈیرہ غازیخان کے ایک معروف وکیل کے گھر بھٹو شہید کو لے کر گئے۔معروف وکیل کے گھر کے باہر چوک میں مچان پر لوگ بیٹھے تھے ان سے غلام مصطفے کھر نے وکیل کا گھر پوچھا تو انہوں نے گھر کی طرف اشارہ کر کے کہا کہ ابھی گھر گئے ہیں جب کہ گھنٹی بجانے پر ملازم باہر آیا ان کا نام پوچھ کر اندر گیا اور پھر واپس آکر کہا کہ خان گھر پر نہیں۔ وجوہات جو بھی ہوں۔معروف وکیل نے پی پی پی کی ٹکٹ لینا مناسب نہ سمجھا۔جس پر غلام مصطفے کھر کو بہت مایوسی ہوئی اور ڈیرہ غازیخان شہر سے باہر نکلتے وقت سینما کے باہر چائے کے کھوکھے پر بیٹھا ایک شناسا شخص نظر آیا تو اس سے کھڑے کھڑے ملاقات کی اور اسے قومی اسمبلی کیلئے پی پی پی کا امیدوار نامزد کرنے کی نوید سنائی۔چند روز بعد اسے پارٹی ٹکٹ مل گیااور وہ نوجوان جو کراچی سے ایل ایل بی کر کے چند ماہ پہلے ہی اپنے آبائی شہر لوٹا تھااس نے جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کے والد مولانا مفتی محمود کے خلاف الیکشن لڑا اور منظورلُنڈ چند سو ووٹوں سے ہار گئے۔ذوالفقار علی بھٹو نے شہروں میں کونسلر نامزد کئے۔ بے لگام بیوروکریسی کو لگام ڈالنے کیلئے کونسلرز کو با اختیار کیا جس کے طور میں عوامی راج کاتاثر ابھرا لیکن بیورو کریسی ذہنی طور پر پیپلز پارٹی اور بھٹو شہید کی مخالف ہو گئی۔اس وقت بھی سرمایہ دار طبقے نے آٹا چینی اور گھی مارکیٹ سے غائب کردیا۔ آٹا گھی چینی کیلئے لوگوں کی قطاریں لگ گئیں لیکن بھٹو شہید نے اس دولت مند طبقے کاڈٹ کر مقابلہ کیا اور راشن ڈپو کے ذریعے راشن کارڈ پر یہ اشیا فراہم کر کے سرمایہ داروں کی سازش ناکام بنادی ذوالفقار علی بھٹو شہید نے عام آدمی کو طاقتور بنانے کیلئے مزدور کو یونین سازی کا حق دیا۔ مزدوروں کو طبی سہولیات فراہم کرنے کیلئے سوشل سکیورٹی کا نظام متعارف کرایا۔مزدور اور کم آمدنی والوں کیلئے بڑھاپے کی پنشن کا اجرا کیا جس سے اب بھی لاکھوں افراد مستفید ہو رہے ہیں۔لیبر کورٹس قائم کیں اور تمام بڑے شہروں میں ترقیاتی اتھارٹی قائم کر کے ترقی کی نئی راہیں کھولیں۔ملک وقوم کو متفقہ آئین 1973 دیا۔زرعی اصلاحات کیں۔ اسلامی کانفرنس بلا کر پہلی بار مسلم ممالک کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کیا۔بھارت سے 90 ہزار فوجی قیدیوں کو رہائی دلوائی۔ مسلسل عوامی حقوق کی جنگ لڑی اور یہی جنگ لڑتے ہوئے عوامی سرحد پر شہادت پائی ۔
بڑی بڑی مونچھوں والا جنرل بھٹو شہید کے جسد خاکی سے خوف زدہ رہا۔بے وقت پھانسی دی گئی۔ ان کی اہلیہ نصرت بھٹو اور صاحبزادی بے نظیر بھٹو کو پابند سلاسل رکھا۔پی پی پی کی بکنے والی قیادت کو خریدا۔جو نہ بکا اسے قید کیا گیا پسماندگان کو شہید کے چہرے کا دیدار تک نہ کرایا گیا۔ملک کی واحد سیاسی جماعت جس کے جیالوں نے کوڑے کھائے، خود سوزیا ں کیں اور قید و بند کے مصائب جھیلے۔
مجھے 5 اپریل کا وہ دن نہیں بھول سکتا جب ملتان غم سے نڈھال تھااورپولیس غائبانہ نماز جنازہ ادا کرنے والوں پر جگہ جگہ لاٹھی چارج اور آنسو گیس پھینکنے میں مصروف تھی لیکن عوام کا جوش و جذبہ دیدنی تھا۔ملتان نے بھی کیسے کیسے جیالے پیدا کئے ملک مختار اعوان، خورشید خان، ملک الطاف کھوکھر، صفدر عباس کھاکھی، اسلم وڑائچ، ملک افضل، ایم اے گوہیر، حبیب اللہ شاکر، شیخ افضل، ایم سلیم راجہ، عشرت نقوی، اعجاز کریم، حنیف لودھی، خواجہ رضوان عالم، اختر بھٹہ سمیت بیسیوں بھٹو شہید کے جاںنثار تھے۔قیوم خوگانی مرحوم بھی اپنی مثال آپ تھے اور 5 اپریل کو ملتانیوں نے اپنا حق ادا کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی۔
فیس بک کمینٹ

