اسلام آباد : گرد و پیش نیوز ۔۔ انٹیلی جنس بیورو (آئی بی ) کے سابق سربراہ بریگیڈیر ریٹائرڈ امتیاز احمد گم نامی میں چل بسے ۔ ان کی عمر نوے برس تھی ۔ وہ طویل علالت کے بعد سی ایم ایچ راولپنڈی میں بدھ کی شب انتقال کر گئے۔ بریگیڈیر ریٹائرڈ امتیاز احمد نے طویل عرصہ تک آئی ایس آئی میں بھی خدمات سر انجام دیں ،بریگیڈیر ریٹائرڈ امتیاز احمد نواز شریف کے پہلے دور وزارت عظمیٰ میں ان کے قریبی ساتھیوں میں شمار کئے جاتے تھے،آئی ایس آئی میں دوران سروس افغان جہاد میں بھی انہوں نے جنرل اختر عبدالرحمان ، جنرل حمید گل کے ساتھ مل کر کام کیا ،ان کی نماز جنازہ جمعرات کو ایچ الیون قبرستان میں ادا کر کے انکی تدفین کی گی۔مرحوم کی قبر پر آئی بی کی جانب سے پھولوں کی چادر چڑھائی گئی ۔
بیگیڈیئر امتیاز کو امتیاز بِلا کے نام سے جانا جاتا تھا وہ ایک سفاک افسر کے طور پر جانے جاتے تھے ۔ جنھوں نے 1990ء سے 1993ء تک انٹیلیجنس بیورو، پاکستان کے ڈائریکٹر جنرل کے طور پر خدمات انجام دیں۔
پاکستان آرمی میں کمبیٹ انجینئرنگ میں ایک مختصر وقت کے بعد، ان کا کیریئر زیادہ تر انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) ایجنسی میں گذرا، جہاں وہ سویلین انٹیلی جنس بیورو میں خدمات انجام دینے سے قبل اندرونی سیکیورٹی کو چلانے کے ذمہ دار تھے۔ 1989ء میں، انہیں اس وقت فارغ کر دیا گیا جب وہ اس وقت کی پاکستانی وزیر اعظم بے نظیر بھٹو کی حکومت گرانے کی کوشش میں آپریشن مڈنائٹ جیکال کر رہے تھے ۔ انہیں اس وقت کے آرمی چیف ریٹایئرڈ جنرل مرزا اسلم بیگ کی سرپرستی حاصل تھی ۔ ان کے ساتھ ریٹائرڈ میجر عامر بھی اس سازش میں ملوث تھے ۔تاہم ان کا کورٹ مارشل کرنے کی بجائے انہیں عہدے سے ہٹا دیا گیا ۔ بریگیڈیئر امتیاز نے کئی نام ور صحافی بھی اپنے مخبر رکھے ہوئے تھے جن میں سے کئی آج بھی چینلوں کے ساتھ منسلک ہیں ۔ ان پر یہ بھی الزام ہے کہ انہوں نے اپنی سازشوں پر پردہ ڈالنے کے لیے 1992 میں دریائے جہلم کا حفاظتی بند توڑ دیا تھا جس کے نتیجے میں جہلم اور اس کے نواحی علاقوں میں سیلاب آ گیا تھا ۔
بریگیڈیئر امتیاز پر سیاسی کارکنوں کے قتل کا بھی الزام تھا ۔ سابق آرمی چیف جنرل آصف نواز کو بھی مبینہ طور پر انہوں نے ہی زہر دیا تھا ۔ بے نظیر بھٹو کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے دوران انہوں نے اراکین اسمبلی کی خرید و فروخت شروع کی لیکن اس کی ویڈیو اور آڈیو حکومت تک پہنچ گئی جس کے بعد وہ تحریک ناکام بنا دی گئی ۔ امتیاز کی ایک اور ویڈیو بہت وائرل ہوئی تھی جس میں ان کےبیٹے انہیں دھکے دے کر گھر سے نکال رہے تھے ۔
فیس بک کمینٹ

