عامر حسینی کو میں ان کے لڑکپن سے جانتا ہوں اور مجھے خوشی ہوتی ہے جب وہ کھل کر لکھتے ہیں بہت حوصلے کے ساتھ اور ہمت کے ساتھ لکھتے ہیں اور ایسے موضوعات پر بھی قلم اٹھاتے ہیں جن پر قلم اٹھانا ہمارے معاشرے میں ممنوع سمجھا جاتا ہے کچھ مقدس ادارے ہیں ، کچھ مقدس ہستیاں اور کچھ مقدس فرقے ہیں جن پر ہم بھی کم بات کرتے ہیں اور ہمارے قبیلے کے کچھ دوست بھی ان پر بات کرنے سے گریزاں رہتے ہیں کہ بات کرنے والے جب ہمیشہ کے لیے خاموش کر دیئے گئے تو پھر استادوں نے بچ جانے والوں کو یہ سبق تواتر کے ساتھ پڑھایا کہ دیکھو بات ضرور کرو لیکن سب سے پہلے اس بات کو مدِ نظر رکھو کہ بات کرنے کے لیے زندہ رہنا ضروری ہے ۔ بات کرنے کے لیے اپنی جان کی حفاظت کرنا ضروری ہے ، اپنی حفاظت اس لیے بھی ضروری ہے کہ اگر تم مار دیئےگئے تو تمہارے بوڑھے والدین ، تمہارے بیوی بچے کس کے سہارے جیئیں گے ۔ اور جب بات کرنے والوں نے کہا کہ ہم موت سے نہیں ڈرتے یہ زندگی جو ہم جی رہے ہیں اس میں بھی ہمارے لیے کون سی ایسی کشش ہے کہ اس دشت میں بھٹکنا قبول کر لیں یہ زندگی جو ہم جی رہے ہیں یہ بھی تو موت جیسی ہے ۔ ہمیں جینے کا سبق نہ پڑھاؤ ۔۔
پھر استادوں نے ایک اور سبق دیا کہ دیکھو مرنے والوں کا تو صبر آ جاتا ہے لیکن جو اٹھا لیے جاتے ہیں گم کر دیئے جاتے ہیں ان کا تو صبر بھی نہیں آتا تو تم کیوں اپنے پیاروں کو ایک دائمی اذیت دینا چاہتے ہو ۔ پھر کچھ بولنے والے ہماری طرح خاموش ہو جاتے ہیں علامتوں اور استعاروں کی زبان میں گفتگو کرنے لگتے ہیں لیکن عامر جب ان موضوعات پر لکھتے ہیں تو ہماری وہی کیفیت ہو جاتی جو غالب کی تقریر کی لذت سے ہوئی اور انہوں نے ’ میں نے یہ جانا کہ گویا یہ بھی میرے دل میں ہے ‘ والا شعر کہا تھا حسینی جب بھی قلم اٹھاتے ہیں مجھے ان پر رشک بھی آتا ہے اور میں ان کی سلامتی کے لیے دعا بھی کرتا ہوں ۔۔ ان کی بہت سی کتابیں منظر عام پر آئی ہیں جو طبع زاد بھی ہیں اور ان میں کئی تراجم بھی شامل ہیں ۔۔ ارون دھتی رائے کی کتابthe god of small things کا ہم نے 1997 میں مطالعہ کیا تھا جب یہ شائع ہوئی تھی اور اسے بکرز پرائز کی وجہ سے شہرت ملی تھی ۔۔ اس کتاب کا ایک ترجمہ سسکتے لوگ کے نام سے بھی شائع ہوا تھا لیکن عامر نے جب اس کا ترجمہ کیا تو اسے ’ مردودانِ حرم ‘ کا نام دے کر ہمیں اس لمحے سے جوڑ دیا جب ہم نے فیض امن میلے میں اقبال بانو سے فیض صاحب کی یہ نظم سنی اور اس پر منو بھائی ، جاوید شاہین اور بہت سے دوسرے ترقی پسندوں کے ہمراہ رقص کیا تھا ۔۔
مردودانِ حرم ہی اس کتاب کا اصل موضوع ہے ۔۔ ذات پات کے نام پر اچھوت سمجھے جانے والوں اور خاص طور پر ہم جیسے شودروں کی زندگیاں اس ناول کا مرکزی موضوع ہے محبت اور نفرت کے گرد گھومتی اس کہانی کا اصل حسن وہ شاعرانہ اسلوب ہے جسے کسی بھی مترجم کے اپنی زبان میں منتقل کرنا کوئی آسان کام نہیں ۔۔عامر حسینی کا ترجمہ کیا ہوا ایک اور ناول ’ ہاتھی کا سفر ‘بھی آج کل ہمارے مطالعے میں ہے ۔۔ عامر حسینی کا تعلق خانیوال سے ہے لیکن وہ ملتان کی ادبی و سماجی سرگرمیوں میں بھی متحرک دکھائی دیتے ہیں۔۔
عامر حسینی کے فن کی بہت سی جہتیں ہیں جن میں تحقیق ،تدوین و تالیف ، ترجمہ اور کالم نگاری قابل ذکرہیں۔
وہ 24اکتوبر1971ءکو خانیوال میں پیداہوئے۔ ایم سی سکول ون بی خانیوال سے مڈل کا امتحان پاس کیااور گورنمنٹ پبلک سکول خانیوال سے 1986ءمیں میٹرک کیا۔عامرحسینی نے گورنمنٹ ڈگری کالج خانیوال سے1988ءمیں ایف ایس سی اور گورنمنٹ کالج لاہور سے 1992ءمیں گریجویشن کی۔گریجویشن کے بعد وہ کراچی چلے گئے اور1994ءمیں کراچی یونیورسٹی سے فلسفے میں ایم اے کیا۔ایم اے کے بعد عامرحسینی ماسکو گئے جہاں انہوں نے اسٹیٹ یونیورسٹی سے کرمنالوجی میں پوسٹ گریجویٹ ڈگری حاصل کی1998ءمیں وہ وطن واپس آگئے۔عامرحسینی روزنامہ خبریں، آج کل ، ہفت روزہ ہم شہری سمیت متعدد اخبارات و رسائل میں کالم اورفیچر لکھ چکے ہیں۔اب تک ان کی دس سے زیادہ کتابیں شائع ہوئیں جن میں”کوفہ“،”شیعہ نسل کشی : حقیقت یا افسانہ“، ”ساری کے نام خطوط“، ”برصغیر میں عزاداری کی تاریخ:آنسوؤ ں کا منبر“ ’’ ہاتھی کا سفر ‘‘ اور عباس زیدی کے ناول کا اردو ترجمہ”کفارِ مکہ“ شامل ہیں۔۔
عامر نے چند ماہ قبل ہمیں اپنے چند نئے تراجم مطالعے کے لیے دیئے ۔۔ ہم نے ان پر سرسری رائے دینے کی بجائے ضروری سمجھا کہ پہلے ان کتب کا مطالعہ کیا جائے ۔۔ اس کے لیے ہم سب سے پہلے ارون دھتی رائے کے دو تراجم کا انتخاب کیا ۔۔ ایک جو ’’ آزاد عورت ، آزاد اڑان ‘‘ کے نام سے شاہ میر خان نے کیا اور دوسرا عامر حسینی کا ترجمہ جسے انہوں نے ’’ بازیافتِ ماں ‘‘ کا نام دیا ہے ۔۔
“آزاد عورت” اور “آزاد اُڑان” عورت کی خود مختار شناخت اور اس کے امکانات کی توسیع کی علامتیں ہیں، جب کہ “بازیافتِ ماں” اسی عورت کے تہذیبی اور جذباتی وجود کی بازیابی کا استعارہ ہے۔ آزاد عورت کا تصور برصغیر کی جدید نسائی شاعری میں مزاحمتی آہنگ کے ساتھ ابھرتا ہے، جیسا کہ کشور ناہید اور فہمیدہ ریاض کے ہاں عورت سماجی جبر اور پدرشاہی نظام کے خلاف ایک باشعور آواز بن کر سامنے آتی ہے۔ “آزاد اُڑان” اسی شعور کا اگلا مرحلہ ہے جہاں عورت محض احتجاج نہیں کرتی بلکہ اپنی صلاحیتوں، خوابوں اور تخلیقی قوت کو عملی صورت دیتی ہے؛ یہاں پرواز کا استعارہ خود اعتمادی اور امکانات کی وسعت کو ظاہر کرتا ہے۔
اس کے برعکس “بازیافتِ ماں” آزادی کے بیانیے کو ایک تہذیبی اور اخلاقی توازن فراہم کرتی ہے۔ یہ تصور ماں کی حیثیت سے عورت کے اس کردار کو اجاگر کرتا ہے جو جدیدیت کی تیز رفتار فضا میں کہیں پس منظر میں چلا گیا ہے۔ اس پہلو کی جھلک ہمیں پروین شاکر کی شاعری میں ملتی ہے جہاں عورت کی نرمی، محبت اور قربانی کو کمزوری نہیں بلکہ معنوی طاقت کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ یوں یہ تینوں تصورات باہم متصادم نہیں بلکہ ایک فکری تسلسل کی کڑیاں ہیں: خودی کی آگاہی، امکانات کی پرواز، اور آخرکار اپنی جڑوں اور رشتوں کی بازیافت۔
عامر حسینی نے اس کتاب میں ایک طویل پیش لفظ بھی تحریر کیا ہے جس میں ترجمے کے حوالے سےان کا سیر حاصل نقطہ نظر شامل ہے ۔۔ وہ لکھتے ہیں
’’ زبان محض الفاظ کا تبادلہ نہیں ہوتی بلکہ ایک پوری تہذیب کی منتقلی ہے۔ رائے کے جملوں میں جو مزاح طنز اور داخلی تضاد ہے، اسے اردو میں منتقل کرنا کبھی کبھی کٹھن مرحلہ بن جاتا۔ مثال کے طور پر جب وہ اپنی ماں کی سخت مزاجی کو طنز آمیز لہجے میں بیان کرتی ہیں تو اردو میں اس کا ترجمہ محض شکایت بہنے کا خطرہ رکھتا تھا۔ مجھے بار بار یہ دیکھنا پڑا کہ کہاں پر لفظوں کو سیدھا رکھوں اور کہاں پر ان میں چھپی ہوئی معنوی لہر کو کھول دوں ۔ ۔ یہی وہ مقام ہے جہاں مترجم خود بھی مصنف کے ساتھ شریک تخلیق بن جاتا ہے ۔
Mother Mary Comes to Me ایک طرح سے ارون دھتی رائے کی اپنی ماں کے ساتھ صلح کی داستان بھی ہے۔ ایک ایسی صلح جو دیر سے آتی ہے، زخموں اور تلخیوں کے بعد آتی ہے لیکن آخر کار آتی ضرور ہے۔ اور یہی وہ لمحہ ہے جہاں کتاب ایک بیٹی کی نہیں بلکہ ایک پوری نسل کی خود نوشت بن جاتی ہے۔ اردو میں اس کتاب کا مطالعہ کرنے والا قاری نہ صرف ارون دھتی رائے اور ان کی ماں کی کشمکش کو سمجھے گا بلکہ اپنے ارد گرد کے رشتوں، اپنے سماجی تناظر اور اپنی ثقافتی یادداشت کو بھی نئے سرے سے دیکھے گا۔
عامر حسینی آپ کی سلامتی کے لیے دعائیں کہ آپ ہمارے خطے کی توانا آواز ہیں
فیس بک کمینٹ

