شام کا وقت ہے۔ عمران اپنے پانچ سالہ بیٹے اسید کے ساتھ صحن میں بیٹھے ہیں اسید ایک نجی سکول میں پریپ کلاس کا طالب علم ہے چھ اور سات مئی کی درمیانی شب جب انڈیا کی جانب سے حملہ کیا گیا تو رات حکومت نے فیصلہ کیا کہ تعلیمی اداروں میں چھٹی کا اعلان کر دیا جائے تاکہ بچوں کی زندگیوں کو محفوظ بنایا جا سکے ۔ صبح اسید اپنے سکول جانے کے وقت بیدار ہوا منہ ہاتھ دھو کر ناشتے کی میز پر آ بیٹھا ناشتے کرنے کے دوران عمران نے اسید کو بتایا کہ آج سکول سے چھٹی ہے اسید نے سوال کیا کہ بابا کیا آج اتوار کا دن ہے جو سکول سے چھٹی ہے اس نے بتایا کہ بابا میرا آج انگلش کا ٹیسٹ ہے میں نے سمجھایا کہ ملک میں انڈیا نے حملہ کر دیا ہے جس کی وجہ سے چھٹی کر دی ہے وہ سوچ میں پڑ گیا ملک میں ہونے والے واقعات ٹی وی پر بات کرتے اینکر انڈیا کے حملے کی خبریں کئی لوگوں کے شہید ہونے کی اطلاعات ٹی وی پر خبروں میں جنگ کی ویڈیو چل رہی ہیں۔ کچھ فاصلے پر کبوتر پانی پی رہے ہیں اور ہلکی ہوا چل رہی ہے۔اتنے میں اسید اپنے والد سے گفتگو کرتا ہے اور جنگ سے متعلق سوال کرتا ہے باپ کو سمجھانا مشکل دکھائی دے رہا تھا مگر اسید کے سوالات سن کر عمران نے فیصلہ کیا کہ وہ اپنے بیٹے کو ضرور بتائے گا کہ جنگ کیا ہے دونوں کے درمیان ہونے والی گفتگو دیکھیں کہ کس طرح کی سوچ ہمارے بچوں کی ہے
اسید: (معصومیت سے) ابو! یہ ٹی وی پر کیا ہو رہا ہے؟
عمران: (نرمی سے) بیٹا، یہ جنگ ہے۔ دو ملک آپس میں لڑ رہے ہیں۔
اسید: (حیرت سے) جنگ؟ یہ کیا ہوتی ہے ابو؟
عمران: (گہری سانس لیتے ہوئے) جنگ تب ہوتی ہے جب دو ملک یا لوگ کسی بات پر لڑائی کرتے ہیں اور اپنے مسائل بات چیت سے حل کرنے کے بجائے ہتھیاروں سے لڑتے ہیں۔
اسید: (مزید متجسس ہو کر) لیکن ابو، وہ جو اُڑتی ہوئی چیزیں دکھا رہے ہیں، یہ کیا ہے؟
عمران: (سمجھاتے ہوئے) وہ ڈرون ہیں، بیٹا۔ ڈرون ایک طرح کا ہوائی جہاز ہوتا ہے، لیکن اسے کوئی پائلٹ نہیں اڑاتا، بلکہ دور سے ایک کنٹرول کے ذریعے چلایا جاتا ہے۔ یہ تصویریں لینے، سامان پہنچانے اور بعض اوقات حملے کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔
اسید: (پریشان ہو کر) لیکن ابو، لوگ کیوں لڑتے ہیں؟ بات تو اچھے طریقے سے بھی ہو سکتی ہے نا؟
عمران: (مسکراتے ہوئے) بالکل، تم نے ٹھیک کہا۔ عقل مند لوگ ہمیشہ بات چیت سے مسئلے حل کرتے ہیں۔ لیکن بعض اوقات بڑے بڑے لوگوں کو بھی صبر کرنا نہیں آتا، اور وہ بات چیت کے بجائے لڑائی کو ترجیح دیتے ہیں۔
اسید: (سوچتے ہوئے) اور جنگ میں لوگ مر جاتے ہیں نا؟
عمران: (دکھ بھرے لہجے میں) ہاں بیٹا، جنگ میں بہت سے معصوم لوگ، بچے، اور بڑے سب متاثر ہوتے ہیں۔ گھربار اجڑ جاتے ہیں، مائیں اپنے بچوں سے بچھڑ جاتی ہیں، اور کئی لوگ بے گھر ہو جاتے ہیں۔
اسید: (اداسی سے) ابو، کل ہماری ٹیچر نے کہا تھا کہ محبت سے ہر مسئلہ حل ہو سکتا ہے، پھر لوگ محبت کیوں نہیں کرتے؟
عمران: (سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے) تمہاری ٹیچر نے بالکل ٹھیک کہا، بیٹا۔ محبت اور امن ہی اصل طاقت ہے، لیکن بعض اوقات طاقت کی بھوک اور انا لوگوں کو اندھا کر دیتی ہے۔ وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ نقصان سب کا ہوتا ہے۔
اسید: (تھوڑی دیر خاموش رہنے کے بعد) ابو، یہ جو لوگ بھاگ رہے ہیں، یہ کہاں جا رہے ہیں؟
عمران: (آہ بھرتے ہوئے) یہ لوگ اپنے گھروں سے بھاگ رہے ہیں۔ جنگ کی وجہ سے ان کا سب کچھ برباد ہو گیا۔ اب یہ محفوظ جگہ کی تلاش میں ہیں۔
اسید: (گہرے سوچ میں ڈوبتے ہوئے) کیا ان کے گھر واپس نہیں آئیں گے؟
عمران: (نرمی سے) کچھ خوش قسمت واپس آ جاتے ہیں، لیکن بہت سے لوگ کبھی واپس نہیں آ پاتے۔
اسید: (معصومیت سے) ابو، ہم سب کیوں نہیں مل کر ان کو گھر واپس لے آتے؟
عمران: (مسکراتے ہوئے) کاش بیٹا، دنیا تمہاری طرح سوچتی۔ اگر سب لوگ امن اور محبت کو ترجیح دیں، تو جنگ کبھی نہ ہو۔
اسید: (چمکتی آنکھوں سے) ابو، میں بڑا ہو کر سب کو سمجھاؤں گا کہ لڑائی نہیں کرنی، بات کرنی ہے۔
عمران: (فخر سے مسکراتے ہوئے) انشاءاللہ بیٹا، تم ضرور دنیا میں امن کا پیغام پھیلاؤ گے۔
اگلے دن اسکول کا وقت ہے۔ اسید اپنے دوستوں کے ساتھ بیٹھا ہوا ہے۔
فیضان: (حیرانی سے) تم کل اتنے خاموش کیوں تھے؟
اسید: (سوچتے ہوئے) میں کل ابو سے جنگ کے بارے میں پوچھ رہا تھا۔
فیضان: (تجسس سے) جنگ؟ وہ کیا ہوتی ہے؟
اسید: (سمجھاتے ہوئے) ابو نے بتایا کہ جنگ میں لوگ آپس میں لڑتے ہیں اور بہت نقصان ہوتا ہے۔
فیضان: (اداسی سے) میری خالہ بھی اپنے شہر سے بھاگ آئی تھیں، ان کا گھر تباہ ہو گیا تھا۔
(سب بچے خاموش ہو جاتے ہیں، پھر اچانک ایک بچے کے ذہن میں خیال آتا ہے۔)
موسی: ہم سب مل کر امن کا پیغام کیوں نہیں دیتے؟ اگر سب بچوں کو پتا ہو کہ لڑائی بری چیز ہے، شاید بڑے بھی سمجھ جائیں۔
اسید: (مسکراتے ہوئے) یہ بہت اچھا خیال ہے! ہم اپنی ٹیچر سے بات کریں گے۔
اسکول کی کلاس روم، بچے اپنی ٹیچر کے سامنے بیٹھے ہیں۔
رمشہ: (مسکراتے ہوئے) آج سب بہت پرجوش لگ رہے ہیں، کیا بات ہے؟
اسید: (کھڑے ہو کر) میم! ہم سب نے سوچا ہے کہ ہمیں امن کا پیغام دینا چاہیے۔
رمشہ: (حیرت سے) یہ تو بہت خوبصورت سوچ ہے۔ تم لوگوں نے یہ کیسے سوچا؟
اسید: (مسکراتے ہوئے) ابو نے بتایا کہ جنگ میں لوگ تکلیف اٹھاتے ہیں۔ ہم سب نے سوچا، کیوں نہ ہم سب مل کر امن کا پیغام دیں۔
رمشہ: (خوشی سے) یہ بہت عمدہ خیال ہے۔ ہم اس ہفتے ایک امن واک کا انتظام کریں گے، جس میں سب بچے حصہ لیں گے۔ ہم پلے کارڈز بنائیں گے، امن کے نعرے لکھیں گے اور سب کو بتائیں گے کہ لڑائی نہیں، محبت ضروری ہے۔
(تمام بچے خوشی سے تالیاں بجاتے ہیں۔)
اگلے دن
بچے رنگ برنگے پلے کارڈز اٹھائے ہوئے ہیں جن پر لکھا ہے:
"جنگ نہیں، امن چاہیے!”
"نفرت نہیں، محبت بانٹیں!”
بچے خوشی خوشی نعرے لگاتے ہوئے اسکول کے باہر نکلتے ہیں۔ لوگ رک کر دیکھتے ہیں، کچھ لوگ مسکرا کر ان کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔
امن کا پیغام پھیلتا جاتا ہے، اور بچوں کی معصوم مسکراہٹ لوگوں کے دلوں کو چھو جاتی ہے۔
بچے اپنے گھروں میں جاتے ہیں، والدین ان کے پلے کارڈز دیکھ کر خوش ہوتے ہیں۔ محلے میں بات پھیل جاتی ہے کہ بچوں نے امن کے لیے آواز بلند کی ہے۔
پڑوسی: (مسکراتے ہوئے) ہمارے بچوں نے واقعی بڑا کام کیا ہے، یہ امن کا پیغام ہمارے بڑوں کو بھی سیکھنا چاہیے۔
ایک ماں: (خوش ہو کر) اگر معصوم دل جنگ کو سمجھ سکتے ہیں، تو شاید بڑے بھی ایک دن سمجھ جائیں۔
رمشہ: (فخر سے) یہ محض ایک واک نہیں، بلکہ آنے والے کل کی امید ہے۔
بچوں کے اس عمل نے پورے محلے میں امن کا پیغام پھیلا دیا۔ لوگ اب جنگ کی بجائے محبت کی بات کرنے لگے۔ بچے اپنے خواب کو حقیقت میں بدلنے کے سفر پر تھے، ایک امن پسند معاشرے کی بنیاد رکھنے کے لیے۔
فیس بک کمینٹ

