خالد مسعود خانکالملکھاری

خالد مسعود خان کا کالم : ہمارے پیارے وزیر اعلیٰ کے پھوپھا جان اور دیگر تقرریاں

ہماری موجودہ حکومت سستی اور چستی کا حسین امتزاج ہے۔ ایسا حسین امتزاج جو حالیہ تاریخ میں اس سے پہلے دیکھنے کا کم از کم اس عاجز کو تو اتفاق نہیں ہوا۔ عالم یہ ہے کہ اگر طارق بنوری چیئرمین ہائر ایجوکیشن کمیشن کو فارغ کرنے پر آئیں تو ایسی پھرتی کہ محض ایک بندہ فارغ کرنے کی غرض سے ہائر ایجوکیشن کمیشن آرڈیننس 2002 کے سب سیکشن (5) بمطابق سب سیکشن (5A) سیکشن (6) میں ترمیم کر کے اس عہدے کی مدت ہی چار سال سے دو سال کر دیں تاکہ موجودہ چیئرمین طارق بنوری کو‘ جن کی مدت ملازمت چار سالہ تعیناتی کے حساب سے اگلے سال مئی تک تھی‘ کو فارغ کیا جا سکے۔ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے اس ترمیم کے مطابق ایک نوٹیفکیشن جاری کیا جس کی رُو سے طارق بنوری کو فوری طور پر ان کے عہدے سے فارغ کردیاگیا۔ کیا پھرتیاں ہیں؟فراغت پانے والے چیئرمین ہائر ایجوکیشن کمیشن پر اختیارات کے ناجائز استعمال‘ خلافِ ضابطہ نوکریاں دینے اور میرٹ سے ہٹ کر ترقیاں دینے کا الزام تھا۔ اگر یہ بات واقعی درست تھی تو ان کے خلاف ای اینڈ ڈی رُولز کے مطابق کارروائی ہونی چاہئے تھی۔ ان کے خلاف انکوائری کر کے ضابطے کے مطابق تادیبی کارروائی کرنی چاہئے تھی‘ انہیں سزا دینی چاہیے تھی۔ یہ کیا ہوا کہ کسی کرپٹ‘ خود سر اور میرٹ کو پاؤں تلے روندنے والے شخص کو آرڈیننس جاری کر کے گھر بھیج دیا جائے۔ اگر انہوں نے واقعتاً وہ تمام خلاف ِضابطہ کام کئے تھے جن کا ان پرالزام لگایا گیا ہے تو پھر انہیں قرار واقعی انجام تک پہنچایا چاہئے تھا۔ انہیں ان جرائم کی سزا ملنی چاہئے تھی اور انہیں ان الزامات کے تحت فارغ کرناچاہیے تھا تاکہ دوسروں کو عبرت ہو۔ لیکن ہوا یہ کہ سابقہ حکومت کے دور میں چار سالہ مدت کیلئے مقرر کئے گئے چیئرمین ہائر ایجوکیشن کو‘ یعنی ملک کی سب سے اعلیٰ تعلیمی ریگولیٹری باڈی کے سربراہ کو ہٹانے کیلئے باقاعدہ آرڈیننس کے ذریعے ایچ ای سی کے 2002 کے آرڈیننس میں ترمیم کر کے ان کی ملازمت کی مدت چارسال سے کم کر کے اسے دو سال محض اس لئے کر دیا گیا کہ طارق بنوری کو فارغ کیا جا سکے۔ اس کا مطلب صاف ظاہر ہے کہ حکومت کے پاس اپنے الزامات ثابت کرنے کیلئے کوئی ثبوت نہ تھا‘ لہٰذا اس بھونڈے طریقے سے فارغ کیا گیا۔ طارق بنوری کی فراغت سے قطع نظر‘ ملک میں تعلیمی پالیسیوں کو تسلسل کے ساتھ لاگو کرنے اور ان کی مانیٹرنگ کرنے کیلئے ایچ ای سی کے سربراہ کیلئے چار سالہ مدت بڑی مناسب تھی لیکن تبدیلی سرکار کے حسنِ انتظام کے کیا ہی کہنے ہیں کہ وہ معاملات کے سدھار کیلئے ایسی الٹی سیدھی حرکتیں کرنے میں اپنے قائم کردہ ریکارڈ خود ہی توڑ رہی ہے۔یہ تو سرکار کی چستی کی کہانی تھی۔
دوسری طرف سستی کا یہ عالم ہے کہ جن خود ساختہ الزامات کے تحت چیئرمین ہائر ایجوکیشن کمیشن کو فارغ کیا گیا اسی قسم کے ثابت شدہ الزامات کے حامل ایک یونیورسٹی کے وائس چانسلر کے خلاف کی جانے والی انکوائری رپورٹ کی بنیاد پر وائس چانسلر کے خلاف فوری کارروائی کی سفارشات جون 2020ء سے وزیراعلیٰ کے دفتر میں جمع ہیں اور کسی قسم کے عملدرآمد کیلئے منتظر یہ فائل وہاں پڑی پڑی قریب المرگ ہے کہ وائس چانسلر دو ماہ بعد اپنی مدت ملازمت پوری کر کے باعزت طور پر واپس گھر چلے جائیں گے۔ کیا سستیاں ہیں؟کیا المیہ ہے کہ جس شخص کے خلاف مئی 2019ء میں یعنی تقریباً دو سال قبل کرپشن‘ اقربا نوازی‘ ناتجربہ کاری اور مس کنڈکٹ کی کارروائی کا آغاز ہوا اور وزیر اعلیٰ انسپکشن ٹیم (CMIT) کو تحقیقات کی ذمہ داری سونپی گئی دوسال گزرنے کے باوجود معاملہ قبل از انکوائری والی جگہ پر ساکت کھڑا ہے۔ اکتوبر 2019ء میں انسپکشن ٹیم نے اپنی رپورٹ وزیراعلیٰ کو جمع کروا دی۔ 18اکتوبر 2019ء کو وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے یہ رپورٹ مزید کارروائی کیلئے ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ حکومتِ پنجاب کو بھجوا دی؛ تاہم اسی دوران ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے سیکرٹری دھڑا دھڑ تبدیل ہوتے رہے اور فائل وہیں میز پر پڑی اونگھتی رہی۔ بمشکل دسمبر 2019ء میں ایکOfficer Hearing مقرر کرنے کا حکم ہوا تاہم اس تقرری میں بھی ایک ماہ لگ گیا اور نیا سال یعنی 2020ء آ گیا۔ تقرری کے بعد نوٹیفکیشن ہونے میں مزید دو ماہ لگ گئے‘ یعنی صرف ایک افسر کی بطور ہیرنگ آفیسر تقرری میں تقریباً پانچ ماہ لگ گئے۔ جون میں اس افسر نے وائس چانسلر پر لگنے والے سارے الزامات درست قرار دیتے ہوئے بڑے واضح الفاظ میں لکھا کہ وائس چانسلر اپنے اوپر لگے الزامات کا خاطر خواہ جواب دینے میں ناکام رہے ہیں۔ ان پر الزامات کی فہرست بڑی طویل ہے جس میں بے ضابطگیاں‘ اقربا پروری‘ بے اصولیاں اور مس کنڈکٹ شامل ہے۔افسر مجاز نے اس ساری رپورٹ کے آخر میں وائس چانسلر موصوف کو فوری طور پر عہدے سے فارغ کرنے کی سفارش کی اور کہا کہ انہیں ان کی یونیورسٹی بھیجا جائے اور مزید تادیبی کارروائی کی جائے‘ مگر یہ رپورٹ اور سفارشات وزیراعلیٰ کی بے پناہ مصروفیات کے باعث ابھی تک ان کی نظرِ کرم کی منتظر ہے؛ تاہم اس دوران بے تحاشا دیگر کاموں میں اپنی پھرتی اور چستی کے طفیل جناب عثمان بزدار نے کئی ضروری امور نمٹا دیے ہیں جن میں سے ایک اہم کام ان کے پھوپھا کی بعد از ریٹائرمنٹ فوری Re-employment کا تھا جو الحمد للہ پورا ہو گیا ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے اپنے اور میرے ایک مشترکہ اور پرانے مہربان دوست کو گریڈ اٹھارہ سے ایک دم اٹھا کر گریڈ اکیس میں پروفیسر لگوایا ہے بلکہ یہ کام ان کو دو بار کرنا پڑا۔ پہلے انہوں نے اپنے مہربان کو ڈیرہ غازی خان یونیورسٹی میں گریڈ اکیس میں پروفیسر لگوایا تاہم پروفیسر صاحب نے فرمائش کی کہ اب ان کااپنے آبائی ڈویژن ڈیرہ غازی خان جانے کو دل نہیں کرتا۔ مزید یہ کہ انہوں نے اپنا گھر ملتان میں بنا لیا ہے اور بچے بھی یہیں زیر تعلیم ہیں لہٰذا انہیں یہیں ملتان میں اکاموڈیٹ کیا جائے۔ وزیراعلیٰ نے اپنے اس مہربان کی فرمائش کو شرفِ قبولیت بخشتے ہوئے انہیں گریڈ اٹھارہ کی کالج والی پروفیسری سے اٹھا کر بہاء الدین زکریا یونیورسٹی میں گریڈ اکیس میں پروفیسر بنوا دیا۔ اس سے پہلے وہ اپنے اسی دوست‘ مہربان‘ مربی اور دور پار کے عزیز کو پنجاب کی تین یونیورسٹیوں کی سنڈیکیٹ کا ممبر بھی بنا چکے ہیں۔
ایک دوست نے پوچھا کہ وزیراعلیٰ اپنے اس دوست کو ایک ہی بار خوش کیوں نہیں کردیتے؟ ان کو قسطوں میں راضی کیوں کررہے ہیں؟ میں نے پوچھا: وہ اپنے اس عشروں پرانے دوست کو جو اُن کا اُس وقت کا مددگار اور امرت دھارا تھا جب وہ کچھ بھی نہیں تھے‘ کس طرح یکمشت خوش کر سکتے ہیں؟ وہ دوست کہنے لگا: وہ انہیں ایک ہی بار کسی یونیورسٹی کا وائس چانسلر کیوں نہیں بنا دیتے؟ میں نے کہا :تمہارا کیا خیال ہے ہمارے پیارے وزیراعلیٰ صاحب نے انہیں وائس چانسلر بنوانے کی کوشش نہیں کی ہوگی؟ یہ کوشش انہوں نے ضرور کی لیکن برا ہو اس سرچ کمیٹی کا جو وائس چانسلرز کے انتخاب کیلئے بنی ہوئی ہے اور اس کے ارکان کیونکہ حکومتِ پنجاب کے ملازم نہیں ہیں اس لئے وزیراعلیٰ کی شدید خواہش کا رتی برابر بھی احترام نہیں کر رہے۔ اگر یہ کام وزیراعلیٰ نے کسی سادہ سے نوٹیفکیشن سے کرنا ہوتا تو وہ کبھی کا یہ نوٹیفکیشن جاری کر چکے ہوتے لیکن سرچ کمیٹی والا وزنی پتھر ان سے اٹھایا نہیں جا رہا۔ہاں! ان سستیوں اور چستیوں سے یاد آیا ملتان ڈویژن کے تقریباً چھبیس کالج آج بھی کسی باقاعدہ پرنسپل سے محروم ہیں اور عارضی بنیادوں پر چلائے جا رہے ہیں؛ تاہم یہ مقام ِشکر ہے کہ جنوبی پنجاب کو ایک عدد ڈائریکٹر سپیشل برانچ نصیب ہو گیا ہے۔ جس کے ذریعے وزیراعلیٰ پورے جنوبی پنجاب کی بیورو کریسی اور سیاستدانوں کی لگامیں بذریعہ سپیشل برانچ بوساطت پھوپھا جان اپنے ہاتھ میں رکھ سکیں گے۔

( بشکریہ : روزنامہ دنیا )

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker