رضی الدین رضی ایک ممتاز اردو شاعر ادیب اور صحافی ہیں جن کی شاعری میں مزاحمت، جذباتی گہرائی اور سماجی شعور کی پختگی نمایاں ہے اور نثر نگاری میں طنز ،کاٹ ،موضوعات کا چناؤ اور منفرد برتاؤ عیاں ہے، رفتگانِ ملتان کی کہانیوں کے تیسرے ایڈیشن کی اشاعت سے وا ضح ہے کی یہ محض ایک کتاب کا تیسرا ایڈیشن نہیں بلکہ جناب رضی الدین رضی کا ایک ایسا قابل قدر جذباتی منصوبہ ہے جو تسلسل کے ساتھ ملتان کے گردو غبار میں روشن چراغ جلانے والوں، بچھڑ کر بھی ساتھ رہنے والوں اور مر کر بھی زندہ رہنے والوں سے ،گہری محبت کی بنیادوں پر تعمیر کی خواہش سے جنم لیتا ہے۔
اس سلسلے کی جذباتی بنیاد خود مصنف کے بچپن کے صدمے میں پنہاں ہے۔۔۔۔ورق در ورق زندگی اور موت سے محبت کی کہانیوں کو پڑھتے ہوئے ۔۔۔۔
ان کے قریبی دوست معروف تجزیہ کار ،صحافی جناب وجاہت مسعود بیان کرتے ہیں کہ کتاب کے پہلے ایڈیشن کا پہلا مضمون جس کا عنوان "پہلا جنازہ” تھا، وہ اس قدر اشک آور ،دل گرفتہ تھا کہ اس نوحے کو پڑھ کر وہ بے اختیار رو تے رہے ۔۔۔
· خود رضی بھائی لکھتے ہیں کہ بچپن میں اپنے والد شیخ ذکا الدین اوپل کی ناگہانی موت دیکھنے کا پہلا تجربہ ان کے اندر اس طرح اترا کہ تمام زندگی غم_ پیوستہ رہا۔۔اب ۔۔۔۔۔ہر بچھڑنے والا انہیں وہی پہلا درد دے کر جاتا ہے ۔۔۔۔۔اور یہ درد وہ قلم بند کرنے کا حوصلہ کس طرح جمع کرتے ہیں ۔۔۔۔اس کا اندازہ ہر وہ شخص کرسکتا ہے جس نے اپنوں ۔ ۔ پیاروں ۔۔۔۔ دوستوں سے بچھڑنے کے غم کو کاغذ اور قلم کے سپرد کرنے کی ہمت کی ہو، سچ پوچھئیے تو مجھے آج تک اپنی پیاری استاد، پروفیسر عقیلہ خانم شاہ ،
نغمانہ خواجہ، نسیم چودھری ، ڈاکٹر عصمت جمیل کی یاد میں لکھنے کا حوصلہ نہ ہوا ،مجھے سر را شد سیال کی خطاطی کو سراہتے ہوئے انہیں مرحوم لکھنے کی ہمت نہ ہوئی ،مجھ سے پروفیسر خالد سعید اور ان کی شریک حیات کی یاد نگاری نہ ہوئی اور تو اور مجھ سے میرے کچھ بے درد سے اپنوں نے کہا کہ تم آج تک اپنی والدین کی قبروں پر نہیں گئیں تو میرا کمزور جواب صرف یہی تھا۔۔۔۔۔مجھ میں اتنا حوصلہ ہی نہیں کہ میں ان کو مٹی میں بند دیکھوں ۔۔۔انہیں تنہا ۔۔۔خاموش پا کر شاید میں اپنے حصے کی مٹی اوڑھ لوں ۔۔۔اور ہوا ۔۔۔۔۔ستارے ،چاند ،بادل سب اس اندورنی جنگ کا حصہ بن جائیں جو ہماری زندگی کا حصہ ہے بس ” اشک رواں کی لہر ہے اور ہم ہیں دوستو "۔۔۔
زندگی بے وفا ہے ۔۔۔اور موت وفا دار ۔۔۔۔میرا قلم پورے وثوق سے لکھ سکتا ہے کہ پورے ملتان میں کوئی ایسا نہیں جو رضی بھائی کی طرح موت کا” پیش لفظ "لکھے اور یہ کہہ سکے۔۔۔”۔یہ مضامین میں نے خود نہیں لکھے ۔۔۔یہ موت نے مجھ سے لکھوائے ہیں ۔۔۔یہ میری اپنی موت کی کہانی ہے ،لحظہ لحظہ موت کی کہانی ۔۔۔۔۔۔۔کس اعتماد سے کہتے ہیں

دھمال ڈالتا جاؤ ں گا اس کی جانب میں
جب ایک دن مری مٹی مجھے پکارے گی
ایک ادبی دستاویز کے طور پراگر ان کہانیوں کو دیکھیں تو سچ ہے کہ
یہ کہانیاں صرف خاکے یا اظہاریے نہیں ہیں، بلکہ یہ ملتان کی نصف صدی پر محیط ادبی، ثقافتی اور تہذیبی تاریخ کا آئینہ ہیں ۔
جیتی جاگتی تصویریں ہیں ۔۔۔۔۔یہ کتاب پڑھتے ہوئے نصف صدی پہلے کا ملتان اپنی شخصیات کے ساتھ آنکھوں کے سامنے گھومنے لگتا ہے ۔
· روشن چہروں کی طویل فہرست ہے کتاب میں ،طفیل ابن گل ،حزیں صدیقی ،مرزا ابن حنیف ،سید قسور رضی پروفیسر حسین سحر ڈاکڑ عاصی کرنالی ،ثمر بانو ہاشمی خان رضوانی بیدل حیدری پروفیسر اطہر ناسک ، ڈاکٹر فرتاش سید ،ڈاکٹر عرش صدیقی، حزیں صدیقی ، منیر فاطمی، ارشد ملتانی، بشریٰ رحمن، زوار ملتانی ،ممتازالعیشی ،ڈاکٹر مقصود زاہدی ڈاکٹر اسلم انصاری جیسی ممتاز شخصیات شامل ہیں کہ ملتان کی ادبی تاریخ ان شخصیات کے بغیر ادھوری ہے ۔
اسلوب اور جذباتی کیفیت کے حوالے سے ملاحظہ کریں تو واضح ہے کہ
رضی الدین رضی کا عمومی اسلوب طنز و مزاح کا حامل ہے، لیکن اس کتاب میں وہ "درد کی چادر میں لپٹے ہوئے” نظر آتے ہیں ۔
مصنف خود پیش لفظ میں لکھتے ہیں کہ موت اور محبت ایک جیسی ہیں۔ انہوں نے اس کتاب کا دیباچہ "یومِ محبت” پر لکھا کیونکہ ان کے نزدیک موت بھی محبت کی طرح سلیقے سے اپنے وار کرتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔
بشریٰ رحمن کے مطابق رضی نے یاد نگاری کو نیا موڑ دیا ہے۔ وہ اپنے "آگ میں جلنے والا، اپنے الاؤ میں کوئلہ بن جانے والا اور پھر ہیرا بن جانے والا” شخص ہے ۔ڈاکٹر انوار صاحب کی رائے میں رضی مجھے اس لیے اچھا لگتا ہے کہ ہمارا بچپن کم و بیش ایک” ہی جیسا گزرا”
ڈاکٹر عباس برمانی کے خیال کی تائید ہم سب کرسکتے ہیں کہ رضی نے تیرگی کے ساتھ کوئی سمجھوتہ نہیں کیا”۔۔۔۔۔
ہم سب جانتے ہیں ”
· تنہائی کا سفر کچھ لوگوں کے لیے جان لیوا ثابت ہوتا ہے اور کچھ کے لیے روح افزا ، مصنف کا خیال ہے کہ جب پیارے بچھڑتے ہیں تو وہ اپنے پیچھے تنہائیوں کے حصے چھوڑ جاتے ہیں، اور رفتہ رفتہ یہ تنہائیاں انسان کو خود موت کی طرف لے جاتی ہیں ۔لہذا
رفتگاں کی یاد میں ایک خراجِ عقیدت مرتب ہونا چاہیے ۔۔۔
اس تیسرے ایڈیشن کے دیباچے میں رضی الدین رضی لکھتے ہیں
"یہ کتاب، یہ نوحے، مضامین کا یہ قبرستان میں اس لیے کتابی صورت میں لا رہا ہوں کہ میرے یہ بزرگ، میرے یہ دوست اور میرے یہ پیارے جو اس شہر کی شناخت تھے، ان کی یادیں کہیں کسی جگہ محفوظ ہو جائیں” ۔
یہ جملہ اس پوری تحریری کاوش کا نچوڑ ہے۔پندرہ سو روپے میں 262 صفحات پر مشتمل گردو پیش پبلی کیشنز کی طباعت سے آراستہ یہ کتاب ملتان کی روح کا آئینہ ہے ،ذاتی دکھ کا تسلسل ہے ،درد کی چادر میں چھپے غم کا نوحہ ہے ،یا گمنامی کے خلاف جنگ ہے ۔۔۔یہ پڑھنے والے اپنے اپنے غموں کو سامنے رکھتے ہوئے بتائیں گے ۔۔۔بس اتنا سمجھ لیجیے کہ یہ محض ایک کتاب نہیں بلکہ ملتان سے محبت کرنے والوں کی کہانیاں ہیں، جنہیں مصنف نے فراموشی کی دھول سے بچانے کی خاطر قلم بند کیا ہے
سخن و ران ملتان” اور میٹھے پانی کے چشمے” کی دلکش اشاعت پر مبارکباد کے ساتھ ،جناب ڈاکٹر سجاد نعیم اور جناب خالد مسعود خان کی مستند آرا کی تائید کرتے ہوئے دعاگو ہوں کہ رضی الدین رضی نہ صرف ملتان بلکہ بہاولپور ،ڈیرہ غازی خان سمیت اس پورے خطے کی ادبی تاریخ رقم کرتے رہیں اور بچھڑنے والوں کی یادوں کو اپنے قلم کی روشنی سے ہم سب کے لیے محفوظ کرتے ہوئے ادیبوں کا فرض کفایہ ادا کرتے رہیں
فیس بک کمینٹ

