ملک میں جب سنجیدہ مسائل حل نہ ہوں تو ادارے تخلیقی ہو جاتے ہیں، اور تخلیق بھی ایسی کہ مزاح نگاروں کو روزگار کے نئے مواقع مل جائیں۔ تازہ ترین پیش رفت یہ ہے کہ پی ٹی اے ایک ایسی پابندی لگانے جا رہی ہے جس کے بعد سم وہی استعمال کرے گا جس کے نام پر ہو گی، باقی لوگ موبائل صرف جیب میں رکھنے، اسکرین صاف کرنے اور یادوں میں کال ملانے تک محدود رہیں گے۔ اس عظیم فیصلے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے ایک نئی فورس قائم کی جا رہی ہے جس کا نام “سم فورس” رکھا گیا ہے، کیونکہ ہمارے ہاں جب مسئلہ بڑا ہو تو فورس بنانا لازم ہو جاتا ہے۔
سم فورس کا ڈھانچہ سن کر یوں لگتا ہے جیسے یہ کوئی محکمہ نہیں بلکہ ایک مکمل ریاست ہو گی۔ ہر علاقے میں اس کے تھانے قائم ہوں گے، جہاں داخل ہوتے ہی موبائل فون پہلے ضبط ہو گا اور سوال بعد میں پوچھا جائے گا۔ پہلا سوال یہ نہیں ہو گا کہ آپ کون ہیں بلکہ یہ ہو گا کہ “یہ سم آپ کے نام پر ہے یا آپ وقتی جذبات میں کسی اور کی استعمال کر رہے ہیں؟” اگر جواب میں ذرا سی ہچکچاہٹ ہوئی تو سمجھ لیں کہ اب معاملہ کال کا نہیں، کردار کا ہے۔
سم فورس کے اہلکار اس قدر ماہر ہوں گے کہ آواز سن کر ہی پہچان لیں گے کہ بولنے والا اصل مالک ہے یا عارضی صارف۔ اگر لہجے میں جانو والی مٹھاس، دوستوں والی بے تکلفی یا ساس سے چھپ کر بات کرنے والی لرزش محسوس ہوئی تو فوراً کارروائی ہو گی۔ موبائل ضبط، سم بلاک اور ساتھ میں ایک طویل اخلاقی لیکچر بالکل مفت۔
قانون کو مؤثر بنانے کے لیے ایک الگ جیل بھی بنائی جا رہی ہے، کیونکہ بڑے خواب کے لیے بڑی جیل ضروری سمجھی جاتی ہے۔ اس جیل میں وہ تمام مجرم رکھے جائیں گے جو کسی اور کی سم استعمال کرتے پکڑے جائیں گے۔ یہاں اصلاح کا طریقہ بڑا جدید ہو گا۔ ہر موبائل کمپنی کا ریکارڈ شدہ پیغام ہر گھنٹے کے بعد ایک گھنٹے تک سنایا جائے گا، یعنی چوبیس میں سے بارہ گھنٹے صرف یہ سننے میں گزریں گے کہ “محترم صارف، اپنی سم اپنے استعمال میں رکھیں۔” کچھ دن بعد قیدی نہ صرف یہ پیغام ازبر کر لیں گے بلکہ خواب میں بھی یہی آواز سنائی دے گی۔
ماہرین کا خیال ہے کہ رہائی کے بعد یہ لوگ فون اٹھانے سے پہلے خود کو خبردار کریں گے، پھر شناختی کارڈ دیکھیں گے، پھر سم کے کاغذات چیک کریں گے، اور اس کے بعد بھی دو منٹ سوچیں گے کہ کال واقعی کرنی بھی ہے یا نہیں۔
اس سارے منصوبے میں جانو کو خصوصی حیثیت حاصل ہے، کیونکہ ہمارے معاشرے میں جانو کے بغیر کوئی قانون مکمل نہیں ہوتا۔ جو لوگ جانو کو اپنی سم دیتے پکڑے جائیں گے، ان کے لیے عام سزا ناکافی سمجھی گئی ہے۔ حکم ہو گا کہ جانو اور جانو کی شادی کروا دی جائے، چاہے جانو کو دیکھتے ہی چیخیں کیوں نہ نکلیں۔ دلیل یہ دی جائے گی کہ جب سم دینے میں اتنی محبت تھی تو اب عمر بھر کا پیکج بھی قبول کیا جائے۔
شادی کے بعد بھی آزمائش ختم نہیں ہو گی۔ سزا کے طور پر جانو کو ہر نیٹ ورک کی سم دی جائے گی، مگر ایک روپے کا بیلنس بھی نہیں دیا جائے گا۔ نتیجہ یہ ہو گا کہ جانو دن رات صرف مس کالیں دے سکے گا۔ کبھی ایک نیٹ ورک سے، کبھی دوسرے سے، اور کبھی تیسرے سے، تاکہ شوہر کو ہر لمحہ اپنی غلطی یاد رہے۔ اگر کسی دن غلطی سے فون اٹھا لیا گیا تو فوراً سم فورس کو اطلاع دی جائے گی کہ یہ شخص ابھی تک سدھرنے کو تیار نہیں۔
اب ذرا اس سارے نظام کا موازنہ ذرا بڑے منظرنامے سے کیجیے۔ ایک طرف عام پاکستانی ہے جو اپنی جانو کو سم نہیں دے سکتا، دوسری طرف سیاستدان ہیں جو اپنے ڈرائیور، مالی، باورچی اور کبھی کبھار ایسے ملازم کے نام پر بھی بینک اکاؤنٹ کھول لیتے ہیں جسے خود معلوم نہیں ہوتا کہ اس کے نام پر اربوں روپے گردش کر رہے ہیں۔ یہ اربوں روپے نہ صرف ملک کے اندر گھومتے ہیں بلکہ بیرونِ ملک ایسے روانہ ہوتے ہیں جیسے شادی کے کارڈ۔
یہاں اصول بڑا واضح ہے۔ اگر سیاستدان اپنے ملازم کے نام پر اکاؤنٹ کھول کر اربوں روپے باہر بھیج دے تو اسے مالی حکمتِ عملی کہا جاتا ہے، اور اگر عام آدمی کسی اور کے نام کی سم سے دو منٹ بات کر لے تو اسے قومی سلامتی کے لیے خطرہ بنا دیا جاتا ہے۔ ایک کے لیے لندن، دبئی اور سوئٹزرلینڈ کے دروازے کھلے ہیں، دوسرے کے لیے محلے کا سم فورس تھانہ بھی نصیب سے ملتا ہے۔
سیاستدان اگر کہہ دے کہ یہ پیسہ اس کے ملازم کی ذاتی بچت ہے تو ادارے سر ہلا دیتے ہیں، مگر عام پاکستانی اگر کہہ دے کہ سم تو بس جانو نے ایک کال کے لیے مانگی تھی تو نظام چیخ اٹھتا ہے۔ یہاں اربوں کی ترسیل پر آنکھیں بند رہتی ہیں، مگر ایک سم اگر ادھر سے ادھر ہو جائے تو قانون کو نیند سے جگا دیا جاتا ہے۔
عوام کا ردعمل بھی کسی کامیڈی شو سے کم نہیں۔ کچھ لوگ خوش ہیں کہ اب دوستوں کی وہ کالیں بند ہو جائیں گی جو ہمیشہ کسی اور کی سم سے آتی تھیں اور آخر میں یہ جملہ ضرور ہوتا تھا کہ “بھائی بیلنس نہیں ہے۔” کچھ پریشان ہیں کہ امی کے نام پر لی گئی سم ابو استعمال نہیں کر سکیں گے تو گھر کے واٹس ایپ گروپس کون سنبھالے گا۔ بعض نوجوان تو ابھی سے موبائل بند کر کے لینڈ لائن لگانے کے خواب دیکھ رہے ہیں، حالانکہ لینڈ لائن انہوں نے صرف تصویروں میں دیکھی ہے۔
الغرض، اگر یہ قانون واقعی نافذ ہو گیا تو موبائل فون محض رابطے کا ذریعہ نہیں رہے گا بلکہ ایک مکمل اخلاقی امتحان بن جائے گا۔ کال کرنے سے پہلے انسان اپنا کردار، اپنا ماضی اور اپنی جانو سب یاد کرے گا۔ اور شاید اسی دن قوم یہ سمجھ جائے کہ اس ملک میں اصل جرم اربوں روپے باہر بھیجنا نہیں، اصل جرم یہ ہے کہ آپ نے اپنی جانو کو اپنی سم دے دی

