تھل لیہ کی معروف بستیوں میں لوریتو کئی حوالوں سے بڑی اہمیت کی حامل ایک بستی ہے ۔ قیام پاکستان کے ساتھ ہی اس بستی کا وجود عمل میں ا گیا تھا۔ریاست نے اقلیتوں کو حقوق دینے کے لیے ایسی بستیوں کو بسانے کا ارادہ کیا تو بہت سی سہولتوں سے عبارت رقبے بھی عطا کیے۔ہمارا آ ج کا موضوع چک ستر لیہ میں مسیحوں کی بستی "لوریتو” ہے ۔ مسیحوں کے مطابق "لوریتو”کا حوالہ تقدس سے مملو ہے اس لیے اس کیمونٹی کی اس بستی سے جڑت بھی روحانی حوالے سے بہت توانا ہے ۔ اس بستی میں بسنے والے امن اور محبت پرست ہیں،انسان دوست ہیں اور علم وادب سے بڑی گہری وابستگی رکھتے ہیں ۔ حضرت مریم اور یسوع مسیح سے روحانی محبت اور عقیدت رکھنے کے بموجب عاجزانہ مزاج رکھتے ہیں۔یہاں کے زیادہ تر لوگ مزدور پیشہ ہیں،کچھ یورپ اور دیگر ممالک میں بھی بغرض ملازمت رہتے ہیں پر لوٹ کر اسی بستی میں آ تے ہیں۔سپورٹس میں یہاں کی یوتھ ملکی سطح پر اپنا تعارف رکھتی ہے ۔یہاں کے رہنے والے باسیوں کی محبت عالمگیر ہے ،یہی وہ محبت ہے کہ غیر مسیحی برادری کے لوگ بلاامتیاز ان سے محبت کرتے ہیں۔اس بستی میں مقبول شہزاد جیسا ایک درویش صفت انسان بھی بستا ہے ۔پنجابی اور اردو کا لاجواب شاعر ہے ۔ان کی شخصیت اور فن پر کئی جامعات میں تحقیقی مقالے لکھے جا چکے ہیں۔
گذشتہ کئی برسوں سے ہم چند دوست انہیں کرسمس کی مبارک باد دینے کے لیے ان کے پاس جاتے ہیں۔آ پ،آ پ کی فیملی اور ان کے تمام عزیزواقارب ہماری حاضری کو "کرسمس ٹو” کا نام دیتے ہیں۔ان کی یہی محبت اور خلوص ہوتا ہے کہ ہم ہمیشہ ان کی خوشیوں اور ان غموں میں پوری اپنائیت کے ساتھ شریک ہوتے ہیں۔ان کی محبت اور خلوص تو بڑھتا ہی چلا جاتا ہے مگر ان کے مسائل؛بے روز گاری،بستی میں سیوریج نظام کی خرابیاں،صفائی،سیکورٹی کے مسائل،تعلیم اور طبی سہولتوں کا ناکافی انتظام وغیرہ باشعور انسانوں کے لیے مایوسی کا سبب بنتاہے ۔اس بستی کے لوگ قومی سیاست کا نہ صرف گہرا شعور رکھتے ہیں بلکہ سیاسی عمل میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں ۔یہاں کی اکثریت مسلم لیگ ن سے محبت کرتی ہے ۔بلکہ اس کی ووٹر بھی ہے ۔پنجاب کی موجودہ قیادت اقلیتوں کو حقوق دینے کا عزم بھی رکھتی ہے ،اس کرسمس کے موقع پر محترمہ مریم نواز شریف نے کچھ اعلانات بھی کیے ہیں۔موجودہ حکومت کی فعالیت سے یقینا اس بستی کے دکھوں کا مداوا ہوگا۔اس مداوے کے لیے میڈیا اور ضلعی انتظامیہ کو اپنا رول ادا کرنا ہو گا۔بستی کی ایک بھی گلی ایسی نہیں ہے جو پختہ ہو،وہاں صفائی ہو اور انتہا پسندی کے عہد میں بستی کے مکینوں کے تحفظ کا کوئی خاطر خواہ انتظام ہو۔کرسمس پر ضلعی انتظامیہ اپنے اپنے نام کے پینافلکس تو لگوا لیتی ہے ،بچوں کو کچھ تحائف بھی دے دیتی ہے اور فوٹو سیشن بھی ہو جاتے ہیں مگر ستر چک کی گرتی،بگڑتی اور برباد ہوتی حالت کو سنوارنے کی جانب توجہ نہیں ہوتی۔لوکل میڈیا اور ضلعی انتظامیہ اس جانب توجہ کرنے کی اشد ضرورت ھے۔
فیس بک کمینٹ

