پاکستان کو جن بڑے استادوں کی وجہ سے نصف صدی پہلے فزکس اور انرجی کے ساتھ نوکلیئر سائینس کی دنیا میں عزت سے دیکھا جانے لگا ان میں جھنگ کے ڈاکٹر عبدالسلام کا اہم ترین حوالہ ہے اور وہ انتہائی منکسر المزاج انسان تھے ، اپنے استادوں سےملتے ہوئے” ابتدائی درجے” کے طالب علم بن جاتے اور یوں ان کا نام ہی طالب علموں ، استادوں اور درسگاہوں کے لئے فیض رساں ہو گیا ۔
پنجاب اسمبلی میں آج خاتون وزیر اعلی نےکچھ خوش آئند اعلان کئے ہیں
1۔پنجاب کی جامعات میں وائس چانسلروں کا تقرر میرٹ پر کیا جائے گا ۔
2۔راجن پور سے مزدوری کے لئے پنڈی آنے والوں کی محنت کا معاوضہ دیا جائے گا بلکہ کوشش کی جائے گی کہ انہی علاقوں میں صنعتوں کا فروغ ہو اور تجارت کے مواقع پیدا ہوں وہاں بھی لیپ ٹاپ تقسیم ہوں گے اور وہاں کے سکولوں کی لیب کو جدید فنی وسائل سے آراستہ کیا جائے گا
مگر محترمہ وزیر اعلی صاحبہ
آپ نے کامرس اور ٹیکنالوجی کے کالجوں کو کچھ بابووں کے مشورے پر بڑے ڈگری کالجوں میں مدغم کرنے کا فیصلہ کیا ہے یہ ادارے ان کی ورکشاپیں اور لیبارٹریاں ایک دن میں نہیں بنیں ان کے پیچھے چالیس برس کی محنت ، ٹے وٹا جیسے ادارے کی ریاضت شامل ہے ہم خود کفایت کےحامی ہیں ان اداروں میں سے بعض کی نالائق قیادتوں کی سبک دوشی کے حق میں ہیں مگر بہتر ہے راجن پور ، لیہ اور ڈیرہ غازی خان کے سنیئر استادوں سے مشورہ کر لیا جائے جیسے ڈاکٹر رب نواز مونس پرنسپل گورنمنٹ کالج راجن پور ، ڈاکٹر راشدہ قاضی غازی یونیورسٹی ،ڈاکٹر دین محمد زاہد ( لیہ یونیورسٹی )
آج ہی مجھے پروفیسر صابر جروار کا اس حوالے سے ایک طویل مکتوب ملا ہے میں اسے ایڈٹ کر کے درج کر رہا ہوں
:آج سرکار کا ایک عجیب مراسلہ سوشل میڈیا پر گردش کر رہا ہے کہ 9 ڈویژنز بہاولپور، ڈی جی حان، فیصل أباد، گوجرانوالہ ، لاہور، ملتان، راولپنڈی ، ساہیوال اور سرگودھا کے دس تاریخی گورنمنٹ گریجویٹ کالجز أف کامرس جو سالہا سال سےکامرس ایسی پیشہ ورانہ تعلیم دے رہے ہیں ان تمام کالجز کو قریبی جنرل کالجز میں ضم کیا جا رہا ہے۔
مذکورہ تمام کالجز اپنی ذاتی زمین ، عمارتوں،ایڈمن بلاکوں اور اپنے اپنے ہاسٹلز میں کام کر رہے ہیں۔کالجز کی اپنی بہترین أٹی ٹی لیبز ہیں۔ ہزاروں نایاب کتابوں کی لائیبریریاں ہیں۔ متعدد مفید کمپیوٹر شارٹ کورسز کراۓ جاتے ہیں۔ شارٹ ہینڈ جیسی کارأمد اور تمام دفتری ضروریات کی ضرورت جیسی سکل دی جاتی ہے۔ ان اداروں کا اپنا سروس سٹرکچر ہے۔اپنی سنیارٹی ہے۔ تدریسی گریڈ 17 سے 20 تک موجود ہیں۔ اپنا افس سٹاف ہے۔
کالجز میں سینکڑوں طلبا و طالبات داخل ہیں اور عہد حاضر کی متقاضی پیشہ ورانہ تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ یہاں کے قابل قدر اساتذہ ایم۔اے ، ایم فل اور پی ایچ ڈی ہیں اور تیس تیس سال کا تدریسی تجربہ رکھتے ہیں۔ ایسے اساتذہ کرام کو اور ساتھ ہزاروں معصوم طلباوطالبات کو دوسرے کالجز میں ضم کرنا سراسر علم دشمن پالیسی ہے۔
حیرت ہے کہ اس وقت پوری دنیا ہنر کی طرف جارہی ہے جبکہ ھم ایسے ادارے سرے سے ختم کرتے جا رہے ہیں۔
کامرس پروفیسرز اینڈ لیکچررز ایسوسی ایشن
پنجاب
فیس بک کمینٹ

