پاکستان کے صوبہ سندھ کی وزیرِ صحت عذرا پیچوہو نے انکشاف کیا ہے کہ کراچی کی آغا خان یونیورسٹی میں لیے گئے نمونوں میں وائرس کی برازیلی اور جنوبی افریقی اقسام کی نشاندہی کی گئی ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’کل آغا خان یونیورسٹی میں 13 نمونوں کا جائزہ لیا گیا ہے جن میں 10 میں وائرس کی برطانوی قسم، دو میں جنوبی افریقی جبکہ ایک میں برازیلی قسم کی تصدیق ہوئی ہے۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ ایک تشویش ناک بات ہے اور یہ صحت کے نظام پر بہت زیادہ دباؤ ڈال سکتا ہے کیونکہ وائرس کی برطانوی قسم بہت تیزی سے پھیلتی ہے اور اس کی 60 فیصد پھیلاؤ کی شرح اور اس کے باعث شرح اموات تقریباً 68 فیصد ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’وائرس کی برازیلی اور جنوبی افریقی اقسام کے باعث اموات کی شرح بھی زیادہ ہے اور ان پر ویکسین کا اثر بھی کچھ خاص نہیں ہے، یعنی ویکسینیشن کے باوجود اگر آپ کو وائرس کی برازیلی اور جنوبی افریقی قسم متاثر کرتی ہے تو آپ بہت زیادہ بیمار ہو سکتے ہیں۔‘
انھوں نے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ گھروں پر منعقد ہونے والی محفلوں میں شرکت کرنے سے اجتناب کریں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’اگر اس دفعہ عید کی شاپنگ نہیں کی تو کوئی بڑی بات نہیں ہو گی۔ ہم دیکھ رہے ہیں کہ لوگ مارکیٹوں میں جوق در جوق بغیر ماسک کے گھوم رہے ہیں۔‘
دریں اثناء ملک میں کورونا سے مزید 131 افراد انتقال کر گئے جبکہ 5112 نئے کیسز بھی رپورٹ ہوئے ہیں۔
پاکستان میں کورونا کے اعداد و شمار بتانے والی ویب سائٹ (covid.gov.pk) کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک بھر میں کورونا کے 49099 ٹیسٹ کیے گئے جس میں سے 5112 افراد میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی جبکہ وائرس سے 131 افراد انتقال کر گئے۔
سرکاری پورٹل کے مطابق ملک میں کورونا کے مثبت کیسز کی شرح 10.41 فیصد رہی۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ملک میں کورونا سے ہلاکتوں کی تعداد 17811 ہو گئی ہے اور مجموعی کیسز 8 لاکھ 20823 تک جاپہنچے ہیں جب کہ فعال کیسز کی تعداد 91547 ہے۔
اس کے علاوہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک بھر میں 3272 مریض کورونا سے صحتیاب بھی ہوئے جس کے بعد مجموعی طور پر صحتیاب ہونے والوں کی تعداد 7 لاکھ 11465 ہو گئی ہے۔
(بشکریہ: بی بی سی اردو)
فیس بک کمینٹ

