تجزیےلکھاریمختار پارس

سیاستدانوں سے تقاضا کہ کچھ ‘کرونا’ : سوچ وچار / مختار پارس

کرونا کے بحران سے نبٹنے کی ذمہ داری کس کی ہے؛ سیاستدانوں کی، انتظامیہ کی یا لوگوں کی؟ بنیادی طور پر تو سب کی ذمہ داری ہے مگر جہاں حکومتیں عوام کی فلاح و بہبود کےلیے کام کرتی ہیں وہاں بحرانوں اور حوادث سے نبٹنے کی ذمہ داری واضح طور پر مقامی حکومتوں اور کمیونٹی کا کام ہوتا ہے۔ موجودہ بحران میں ایک زاویہ بہت کھل کر سامنے آیا اور وہ یہ کہ سیاستدانوں کے حوالے سے گفتگو ہوتی نظر آئی کہ کس سیاستدان نے غریبوں اور ضرورتمندوں میں کتنا راشن اور کتنے ماسک تقسیم کیے ہیں اور کس نے نہیں کیے ہیں۔ سیاستدانوں سے یہ توقع کرنا کہ وہ عوامی فلاح پر اپنی جیب سے لاکھوں کروڑوں لگائیں گے، درحقیقت انہیں اس بات پر مجبور کرنا ہے کہ وہ کروڑوں اربوں کمائیں گے بھی سہی۔ ہر سیاستدان متمول نہیں ہوتا اور ہر سیاستدان سے یہ توقع مناسب نہیں ہے۔
انتظامیہ کے ذریعے عوامی فلاح کا خیال رکھنا اور حوادث سے نبٹنا ایک سائینس ہے اور بحرانوں کا سامنا آپا دھاپی کے ماحول میں نہیں ہو سکتا۔ وسائل کے استعمال کا پہلا بنیادی اصول یہ ہے کہ دانشمندی سے جہاں ضرورت ہو وہاں خرچ کرنا چاہیۓ۔ ہماری عوام بھی وسائل کے خرچ کرنے میں وہی غلطی کرتی ہے جو بین الاقوامی معاشی ادارے کرتے ہیں؛ یعنی جہاں رقم یا امداد آسانی سے پہنچ سکتی ہو وہاں پہنچا کر، تصویریں کھنچوا کر اور رپورٹ لکھ کر بری الذمہ ہو جاتے ہیں اور کچھ نہیں۔
اقوام متحدہ کی حکومتوں کو واضح ہدایات ہیں کہ عوام پر پیسہ خرچ کرتے وقت اس بات کا دھیان رکھنا چاہیے کہ وہ صحیح تقسیم ہو اور بار بار ایک ہی شخص، ایک ہی جگہ اور ایک ہی کام پر خرچ نہ ہو رہا ہو۔ اس حوالے سے وزیراعظم جناب عمران خان کا یہ اقدام بہت احسن ہے کہ انہوں نے وسائل کو ایک جگہ اکٹھا کر کے اس بات کا تعین کرنے کی کوشش کی ہے کہ ہر شخص صرف اس جگہ امداد نہ پہنچا رہا ہو جہاں رسائی آسان ہو اور جہاں ضرورت ہو وہاں کوئی بھی نہ ہو۔
امورِ حکومت کی سائینس کا دوسرا بنیادی اصول یہ ہے کہ فلاحِ عامہ کے کام اور بنیادی ضروریات کی فراہمی مقامی حکومتوں کی ذمہ داری ہونا چاہیۓ۔ اس کام کو احسن طریقے سے صرف مقامی حکومتیں انجام دے سکتی ہیں۔ اگر پاکستان میں اسوقت مقامی حکومتیں متحرک اور مضبوط ہوتیں تو یہ بحث نہ ہو رہی ہوتی کہ وسائل کو لوگوں تک کیسے پہنچایا جاۓ اور لوگوں کے ٹیسٹ کیسے کیے جائیں یا انہیں گھروں میں رہنے کےلیے کیسے کہا جاۓ۔ دنیا میں ایسے ممالک بہت ہیں جہاں قدرتی آفات اور حوادث معمول کا حصہ ہوتے ہیں۔ ایسے ممالک میں ایسی صورتحال کےلیے لوگ مقامی سطح پر تیار رہتے ہیں۔ اگر کوئی حادثہ ہو جاۓ یا کوئی آفت آ جاۓ تو وہاں لوگ اس انتظار میں کھلے آسمان تلے نہیں بیٹھے رہتے کہ وزیراعظم یا کوئی ایم این اے آ کر انہیں آٹے کا تھیلا دے گا۔ ایسے مواقع پر مقامی حکومتیں مقامی رضاکاروں کے ساتھ فوراً ضروری اقدامات کر لیتے ہیں اور ان کے متعلقہ ادارے ایمرجنسی کےلیۓ تیار ہوتے ہیں۔ سیدھی سی بات ہے کہ مشکل وقت میں لوگوں کے سب سے نزدیک اگر کوئی سسٹم ہو سکتا ہے تو وہ صرف مقامی حکومت کا سسٹم ہی ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں ایسا نہیں ہے۔
پاکستان کے لوگوں کی نفسیات میں یہ بات بیٹھی ہوئی ہے کہ حکومت کا مطلب سیاستدان اور منتخب نمائیندے ہیں۔ اسی نفسیات کے تحت ہر وہ شخص جو کسی سرکاری دفتر میں ملازمت حاصل کر لیتا ہے تو خود کو عام انسانوں سے برتر سمجھنے لگتا ہے۔ سرکاری تو خاکروب بھی ہو تو ناک پہ مکھی بھی نہیں بیٹھنے دیتا اور کام بھی نہیں کرتا کیونکہ کوئی اس کا کچھ بگاڑ جو نہیں سکتا۔ اسی طرح ہمارے ہاں جو مقامی نمائیندے الیکشن لڑ کر منتخب ہوتے ہیں، وہ منتخب ہوتے ہی گاڑی پر پاکستان کا جھنڈا لگا لیتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ وہ حاکمِ وقت منتخب ہو گئے ہیں۔ دنیا بھر میں حکومت کا مطلب گلی محلوں کی صفائی، سکولوں میں تعلیم، صحت اور امن امان کے معاملات کو حل کرنا ہے۔ مقامی لوگ اپنی اپنی استطاعت اور اپنی اپنی شناخت کے مطابق ان مسائل کو خود حل کرتے ہیں اور اس انتظام کومقامی حکومت کہا جاتا ہے۔ دنیا کے سب سے طاقتور شخص ڈونلڈ ٹرمپ کے پاس اتنا اختیار نہیں ہے کہ وہ اپنے کسی شہر میں کرفیو لگانے کا حکم دے سکے کیونکہ وہاں کی مقامی حکومتوں نے یہ اختیار اپنے پاس رکھا ہوا ہے۔ جنوبی کوریا اور جاپان نے بغیر کسی لاک ڈاؤن کے کرونا کے معاملے پر قابو پا لیا اور دنیا افراتفری میں دیکھتی رہی۔ انہوں نے اور کچھ نہیں کیا، بس صرف مقامی حکومتوں کے ذریعے لوگوں کو سمجھایا کہ کرونا سے کیسے بچا جا سکتا ہے۔ انہوں نے مقامی حکومتوں کے ذریعے ہر گھر، ہر دفتر، ہر سکول و کالج اور ہر اسٹیشن پر پہنچ کر لوگوں کے ٹیسٹ کر لیے اور انہیں کسی لاک ڈاؤن کی ضرورت ہی نہ پڑی۔ لاک ڈاؤن کی ضرورت وہاں پڑتی ہے جہاں لوگوں کو سمجھ نہ آ رہی ہو کہ کیا کرنا ہے۔ دنیا میں جہاں جہاں مقامی حکومتیں مؤ ثر ہیں، وہاں لوگ خود کام نبٹا لیتے ہیں اور سیاستدانوں سے یہ تقاضا کرتے نظر نہیں آتے کہ وہ آکر صابن کی ٹکیاں تقسیم کریں۔
اگرپاکستان میں موجودہ صورتحال کا جائزہ لیا جاۓ تو یہ ثابت ہوتا ہے کہ اگر اس آفت میں کسی ادارے کی کارکردگی واضح طور پر دکھائی دی ہے تو وہ تحصیل انتظامیہ ہے۔ میرا خیال ہے کہ پاکستان کے مختلف ضلعوں میں موجود تحصیل انتظامیہ مبارکباد کی مستحق ہے کہ انہوں نے اس ہنگامی صورتحال میں خدمات سرانجام دے کر ایک دفعہ پھر یہ ثابت کیا ہے کہ سول سروس کا ڈھانچہ آج بھی اتنا ہی کارآمد ہے جتنا کہ ماضی بعید میں تھا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ تحصیل کی سطح پر انتظامیہ کو مقامی حکومتوں کی طرز پر منتظم بنایا جاۓ تاکہ لوگ اپنے مسائل سے خود نبٹنے کے قابل ہو سکیں۔ ہر تحصیل میں اس بات کا انتظام ہونا چاہیے کہ کوئی مشکل آۓ تو سب سے پہلے مقامی لوگ اپنے وسائل بروۓ کار لا کر اپنے لوگوں کی مدد کو پہنچ سکیں۔ صوبائی اور وفاقی حکومتوں کا کام مقامی حکومتوں کو وسائل فراہم کرنا ہے، لوگوں میں آٹا اور راشن تقسیم کرنا نہیں۔

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker