شوکت اشفاقکالملکھاری

تاریخ دہراتی ہے……!!شوکت اشفاق

دنیا بدلنے جا رہی ہے‘ نیام نظام کچھ زیادہ دور نہیں آیا ہی چاہتا ہے ……ہم چاہیں نہ چاہیں آنے والے دور کا ایک ہی مرکز بننے جا رہا ہے……
وہ کیا ہو گا عوام سمجھ نہیں رہے اگر غور کرنا چاہتے ہیں تو گزشتہ دو دہائیوں کی اشاراتی زبانیں سمجھ لیں انگریزی جریدے ”اکنامسٹ“ نے 2003ء کی اشاعت میں تیل کا دور ختم ہونے بارے میں آگاہ کر دیا تھا نہ سمجھنے والے تفصیل سے بھی مطمئن نہیں ہوں گے ۔البتہ خام تیل کی قیمت اس وقت 20ڈالر فی بیرل سے کم ہے جو اور بھی نیچے جا رہی ہے مزید براں جلد سنائی دے گا کہ کرنسی کو ہاتھ لگانا خطرناک بیماری کے پھیلاؤ کا ذریعہ ہے‘یعنی ڈیجیٹل کرنسی ہی قابل قبول ہو گی حالانکہ اس وقت بھی دنیا میں 90فیصد سے زیادہ ڈیجیٹل کرنسی اور وہ بھی رائج ہو چکی ہے ۔
اور اب پھر اسی جریدے نے ”دنیابند“ کو ٹائیٹل سٹوری بنایا ہے جو ایک حقیقت ہے کیونکہ دنیا کا نظام اس وقت عارضی طور پر بند ہے ہزاروں کی تعداد میں لاکھوں مسافروں کو ساتھ بٹھا کر فضاؤں میں اڑنے والے جدید اور تیز ترین ہوائی جہاز ایئر پورٹس پر پارک ہیں دنیا کے تیسرے حصے سمندر کا سینہ چیرتے شہر کے برابر بحری جہاز لنگر انداز ہیں‘ سڑکوں اور شاہراہوں پر ایک دوسرے سے جڑی ہر قسم کی ٹرانسپورٹ ندار د ہے‘ قدرتی ماحول کو خراب کرنے والی زہریلی گیس چھوڑنے والے کارخانے خاموش اور ٹرینیں رک چکی ہیں۔ انسان گھروں میں قرنطینہ ہو چکا ہے‘ جنک اور فاسٹ فوڈ سمیت ریستوران بند‘بڑے شاپنگ مالز کے دروازے بند ہیں اور اگر کوئی کھلا ہے تو محض انتہائی ضرورت کی اشیاء کی خریداری ہے ۔
برانڈز پریشان ہیں …… اور اور اور اپنے آپ کو ناگزیر سمجھنے والے محو حیرت ہیں‘ کیونکہ یہ کوئی مذاق ہے‘ نہ کہانی‘ بلکہ ایک ایسی حقیقت ہے جو اس سے قبل آئی تو اس کے بعد دنیا تبدیل ہو گئی آج اسی تاریخ کا تسلسل دکھائی دے رہا ہے کیونکہ یہ سچ ہے کہ تاریخ اپنے آپ کو دہراتی ہے لیکن تاریخ کا سبق کوئی نہیں سیکھتا آج کے دور کا انسان بھی سمجھنے سے قاصر ہے حالانکہ علم و تاریخ اور معلومات تک رسائی جتنی آج ہے اس سے پہلے نہ تھی‘ انسان تبدیل نہیں ہوا اور جو ہوئے انہوں نے مکمل فائدہ اٹھایا‘ 1869ء کے عالمی وبائی مرض کے تناظر میں ایک درد مند آگاہ انسان نے نظم لکھی جو 1919ء میں دوبارہ شائع ہوئی جب سپینش فلو جو عالمی وبائی شکل اختیار کر کے کروڑوں انسانوں کو نگل گیا۔ اس تناظر میں انگریزی زبان میں لکھی جانے والی یہ نظم آج کے منظر کی عکاسی کر رہی ہے‘ ترجمہ سے پیغام کی اہمیت کم ہو سکتی ہے البتہ مفہوم یہ ہو سکتا ہے کہ
تاریخ خود دہراتی ہے……
کہ یہ بے وقعت ہے کہ لوگ گھروں میں ہیں جو باہر زیادہ رہتے تھے‘ اب کتابیں پڑھ رہے ہیں جو ایک عرصے سے شیلفوں میں رکھی تھیں اور اب وہ ان پر توجہ دے رہے ہیں جن کی بات سننے کیلئے وقت نہیں تھا اور اب آرام کر رہے ہیں پہلے بھاگ دوڑ میں تھے۔ لیکن جسمانی ورزش کیلئے وقت نہیں تھا اب اس کیلئے وقت نکال رہے ہیں کھیل کود کر رہے ہیں مطمئن ہو کر ہی ایسا کیا جا سکتا ہے جینے کے نئے اسلوب سیکھ رہے ہیں پہلے یہ سمجھتے تھے کہ چکا چوندی ہی دنیا ہے مگر اب تھم کر غور کر رہے یں کہ ایک دنیا یہ بھی آباد ہے جو زیادہ گہری ہے اس پر توجہ اور دھیان کے ساتھ دعا بھی دی اور کوئی اپنے ہی سائے سے پہلی مرتبہ ملا کر مصنوعی روشنیوں نے اس کی شناخت بھلا دی تھی‘ لیکن اب احساس ہو رہا ہے کہ ہماری بے توجہی کو لوگ کتنا بھگت رہے ہیں جو انتہائی مشکل اور بے معنی زندگی گزار رہے ہیں ان پر توجہ کی کتنی شدید ضرورت ہے اور ہاں زمین کے زخم بھی بھرنے کی ضرورت ہے اب جب خطرہ کم ہو گا تو مرض اپنی موت آپ مر رہا ہو گا تو لوگ اپنے آپ کو ایک مرتبہ پھر محسوس کریں گے کہ ہم ایک نئی دنیا میں ہیں کیونکہ پچھلی دنیا میں انہوں نے وباء کا شکار ہونے والوں کا غم کیا اور مشکل کے بعد اچھے نظاروں کا خواب دیکھا نئی ترجیحات اور پسند بدلی اور زندگی کو ایک مرتبہ پھر بھر پور گزارنے کیلئے نئے طور طریقے ترتیب دئیے۔ کیونکہ انہیں محسوس ہو رہا تھا کہ اب زمین بھی مکمل طو رپر ”شفایاب“ ہو چکی ہے بالکل اسی طرح جیسا کہ وہ اپنے آپ کوصحت مند اور توانا محسوس کر رہے تھے۔

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker